لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن، 10 امیدوار آمنے سامنے، انتخابی مہم عروج پر

لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن، 10 امیدوار آمنے سامنے، انتخابی مہم عروج پر

  

 لاہور(نامہ نگار) لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات کی انتخابی مہم عروج پر پہنچ گئی،امیدواروں کی طرف سے جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، مختلف گروپوں اور وکلاء کی حمایت کے لئے دعوتیں بھی ہونے لگی ہیں،لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے 4 عہدوں پر 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، صدر کے عہدہ کے لئے سردار اکبر علی ڈوگر اور محمد مقصود بٹر کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہوگا، صدارتی امیدوار سردار اکبر ڈوگر کا تعلق عاصمہ جہانگیر گروپ جبکہ مقصود بٹر کا تعلق پروفیشنل گروپ سے ہے۔ صدارتی امیدوار سردار اکبر ڈوگر کو احسن بھون، اعظم نذیر تارڑ، حفیظ الرحمان چوہدری سمیت دیگر کی حمایت حاصل ہے، جبکہ صدارتی امیدوار مقصود بٹر کورانا اسد خان، شفقت محمود چوہان، اشتیاق اے خان، میاں جہانگیر سمیت دیگر کی حمایت حاصل ہے، نائب صدر کے لیے تین امیدواروں چوہدری محمد اشرف جلال، مدثر عباس مگھیانہ اور سہیل شفیق میں مقابلہ ہوگا، جبکہ سیکرٹری کیلئے چودھری اختر پڈا اور خواجہ محسن عباس کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہوگا۔ اسی طرح فنانس سیکرٹری کے لئے تین امیدوار فیصل توقیر سیال، فلک ناز گل اور رانا وسیم یوسف ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، لاہور ہائیکورٹ بار کے 21 ہزار 668 وکلاء حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں 1350 خواتین وکلاء بھی شامل ہیں، لاہور ہائیکورٹ بار کے رواں ماہ ہونے والے سالانہ انتخابات میں بھی سابقہ حریف عاصمہ جہانگیر گروپ اور پروفیشنل گروپ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے، امیدواروں کے لئے انتخابی مہم چلانے کیلئے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد ضروری قرار دیا گیا ہے۔ضابطہ اخلاق کے مطابق امیدوار اپنی انتخابی مہم صرف اپنے وزٹنگ کارڈ بغیر تصویر کے ذریعے کرسکتے ہیں، امیدواروں پر انتخابی مہم کے دوران بینرز، فیلکسز، پلے کارڈز، سٹیکرز، اشتہارات، امیدواروں اور سپورٹرز کی جانب سے کھانے اور ہائی ٹی کا اہتمام کرنے پر بھی پابندی ہے۔امیدواروں پر پانچ سے زائد ووٹرز وکلاء کے ہمراہ انتخابی مہم چلانے، امیدواروں اور ان کے سپورٹرز پر مخالف امیدوار کے خلاف پریس کانفرنس کرنے اور بیان بازی پر بھی پابندی عائد ہے۔

انتخابی مہم 

مزید :

علاقائی -