ایک اچھی خبر 

 ایک اچھی خبر 
 ایک اچھی خبر 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان میں ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کل واقعی پاکستان انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ موجودہ بحران ہمہ جہتی ہے یہ سیاسی بھی ہے معاشی بھی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی بھی۔ سیاسی اونچ نیچ عموماً چار پانچ سال میں سیٹل ہو جاتی ہے اور سیاسی استحکام کے ساتھ خواہ وہ ڈکٹیٹر شپ کا فیض ہو کم از کم وقتی طور پر معاشی بحران بھی ٹل جاتا ہے لیکن اس دفعہ جو اخلاقی بحران کا اضافہ ہوا ہے یہ شاید چند سالوں میں درست نہ ہو۔ اخلاقی زوال کوئی اچانک پیدا نہیں ہوا یہ کئی دہائیوں کی پیداوار ہے البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے اِسے چند سالوں میں بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، اب بے صبری، بدتمیزی اور گالی کا چلن عام ہے۔ سوشل میڈیا دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم تمام حدیں کراس کر چکے ہیں، سڑک پر نکلیں تو مسلسل ایک اذیت ہے، کچھ لوگ سُرخ اشارے کی پرواہ نہیں کرتے، اشارہ کھلتے ہی پیچھے سے بلاوجہ ہارن دے رہے ہوتے ہیں اگر دائیں طرف جانا ہو تو اتہائی بائیں طرف کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ نہ کرے آپ کی کسی سے تکرار ہو جائے ایسے میں معاملہ بہت دور تک پہنچ سکتا ہے۔


افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی اِس صورتحال کے تدارک کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔ صدقہ خیرات کے معاملے میں تو ہمارے ہاں کئی گروپ اور افراد بہت قابل قدر کام کر رہے ہیں لیکن اخلاقیات کے زوال کی طرف کسی کی توجہ نہیں، اس سلسلے میں کوئی وعظ و نصیحت تو شاید کام نہ کرے البتہ کچھ شعبوں میں عملی اقدامات کرنے سے ماحول پر کچھ مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کچھ مثبت چیزیں ہمارے معاشرے سے تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ مثلاً مشاعرہ، ایک وقت تھا کہ آل پاکستان مشاعرے ہوتے تھے اور ہزاروں لوگ اِن میں شریک ہوتے تھے لیکن اب صرف مزاحیہ مشاعرہ ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ ترٹیلی ویژن کی سکرین پر۔ اِسی طرح تھیٹر اورفلم کا شعبہ بھی زوال پذیر ہے۔حال ہی میں ایک اچھی سرگرمی شروع ہوئی ہے وہ ہے لٹریچر فیسٹیول۔ اِس کا آغاز تو کراچی سے ہوا لیکن اب لاہور اور اسلام آباد تک آ پہنچا ہے۔ پچھلے دنوں لاہور میں بہت زبردست لٹریچر فیسٹیول ہوا جس میں خوشی کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل نے بھی بڑے ذوق شوق سے شرکت کی۔ حال ہی میں لاہور میں فیض فیسٹیول ہوا جس میں غیرملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ظاہر ہے ایسے فیسٹیولز کے معاشرے پر بہت مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ اِس کا دائرہ پشاور، کوئٹہ اور بہاولپور جیسے شہروں تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔ کووڈ سے پہلے اسلام آباد میں بھی لٹریچر فیسٹیول ہوتا رہا ہے لیکن اب پتہ نہیں کیوں بند ہے۔ علم و ادب کے فروغ اور مثبت تفریحی سرگرمیوں کے ذریعے اخلاقی زوال کو روکا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ علم و ادب کی دنیا میں بھی بڑے لوگ نہیں رہے ابھی کچھ دن پہلے ایک بڑے شاعر اور ادیب امجد اسلام امجد بھی چل بسے۔ اِس شعبے میں بھی ایک خلاء کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔


اب قارئین سوچیں گے کہ وہ اچھی خبر جس کا اشارہ میں نے عنوان میں دیا تھا کہاں ہے۔ تو جناب وہ ایک چھوٹی سی خبر ہے لیکن میں اُسے بہت اہم سمجھتا ہوں۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے فروری کے شروع میں ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ایک پبلک لائبریری قائم کی جائے گی اور سی ڈی اے سے کہا ہے کہ وہ اِس کے لئے موزوں جگہ تلاش کریں۔ اس فیصلے کے لئے احسن اقبال کو داد دینا ضروری ہے۔ اسلام آباد شاید دنیا کا واحد دارالحکومت ہو جس میں کوئی پبلک لائبریری موجود نہیں اور چند سال پہلے تک پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں تھی۔ میرے لئے یہ خبر اس لئے بھی اہم ہے کہ میں کئی کالموں میں یہ تجویز دے چکا ہوں اور میں نے تو اس کے لئے موزوں جگہ کا انتخاب بھی کر لیا تھا۔ اِس قسم کی لائبریری کیلئے صحیح جگہ ایف 9 پارک ہے۔ دارالحکومت میں کم از کم ایک پبلک لائبریری کا قیام بہت ضروری ہے اِس میں ایک کیفے بھی شامل ہونا چاہئے اور یہ چھوٹی موٹی لائبریریوں کی طرح دفتری وقت کے مطابق بند نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِسے کم از کم رات بارہ بجے تک کھلا رکھا جائے۔ دنیا میں ایسی لائبریریاں بھی ہیں جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ اسلام آباد میں اِس وقت نیشنل لائبریری ہے لیکن ایک تو وہ ریڈ زون میں ہے دوسری اِس میں کتابیں ایشو نہیں کی جاتیں۔اِس طرح کی کئی پابندیوں کی وجہ سے اِس کی افادیت محدود ہے۔ ایف 11 مرکز میں بھی ایک چھوٹی سی لائبریری ہے جس میں کچھ عرصہ پہلے تک ٹیلی فون اور بجلی تک نہیں تھی اور یہ سرکاری دفتری اوقات میں کھلی ہوتی تھی میں نے اس پر بھی کالم لکھا تھا اور یہ کالم پڑھ کر سما ٹیلی ویژن نے غالباً کوئی فلم چلائی تھی اب وہاں بجلی اور فون کی سہولتیں میسر ہیں۔اِسی قسم کی چند چھوٹی چھوٹی لائبریریاں اور بھی ہیں۔


علم و ادب کے فروغ سے ہی معاشرے میں ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ہم نے اس پہلو کو نظرانداز کر رکھا ہے۔ ہماری مجموعی شرح خواندگی بہت ہی کم ہے لیکن اس کے ساتھ تعلیم میں انگریزی زبان کے رواج سے آج کی نسل کم از کم اُردو ادب سے بیگانہ ہو چکی ہے یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن نے سوسائٹی میں ایک ہیجان کر دیا ہے پھر نئی نسل کو ہم نے سیاست کی بہت ہیوی ڈوز دے رکھی ہے۔ اِس سے معاشرے میں تقسیم بہت گہری ہو گئی ہے۔ ایسے میں کتاب کلچر کو فروغ دینا بہت ضروری ہو گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -