کام بیچ میں چھوڑ کر مری کے مال روڈ کے دو تین چکر لگا لیتے تو روح کو تسکین ملتی وقت اچھا کٹ جاتا، کراچی سے تین چار آڈیٹر  آن دھمکتے وہ بھی بے تکلف قسم کے

کام بیچ میں چھوڑ کر مری کے مال روڈ کے دو تین چکر لگا لیتے تو روح کو تسکین ملتی ...
کام بیچ میں چھوڑ کر مری کے مال روڈ کے دو تین چکر لگا لیتے تو روح کو تسکین ملتی وقت اچھا کٹ جاتا، کراچی سے تین چار آڈیٹر  آن دھمکتے وہ بھی بے تکلف قسم کے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:192
 رات گئے بینک بند ہونے سے ذرا پہلے ہم بھی مال روڈ پر کچھ بھاگ دوڑ اور بقول ہمدانی کے آنکھوں کی ٹکور کر لیتے تھے۔ کام بیچ میں چھوڑ کر مال روڈ کے دو تین چکر لگا لیتے تو روح کو تسکین ملتی اور اگلا وقت اچھا کٹ جاتا تھا۔
جولائی اور اگست یہاں پر بہت ہی مصروف مہینے گنے جاتے ہیں، بینک میں بے تحاشہ کام کے ساتھ ساتھ انھی دنوں کراچی سے تین چار آڈیٹر بھی آن دھمکتے تھے اور وہ بھی بے تکلف قسم کے۔ پہنچنے کے فوراً بعد وہ باتوں ہی باتوں میں اپنی ساری خواہشات بیان کر دیتے تھے جنہیں پورا کرنا ہمارا فرض تھا ورنہ وہ ہمیں آڈٹ میں شدید کرب اور پریشانیوں میں مبتلا کر دیتے، جس سے ہماری سالانہ ترقیاں بھی متاثر ہوتی تھیں اور جھاڑ پونچھ علیٰحدہ سے ہوتی تھی۔ وہ بغیر کوئی لگی لپٹی کہہ دیتے تھے کہ ”بھائی جان آج جو مرغی پکے گی اس میں مرچیں ذرا کم رکھنا ہونگی۔“ فارمی مرغیاں ان دنوں ’ایجاد‘ نہیں ہوئی تھیں، دیسی ہی ملتی تھی جو دس پندرہ روپئے سے کم میں آتی ہی نہیں تھی۔ اسی طرح وہ چپڑاسی کو براہ راست کہتے کہ ’بھیا ذرا ہلکے چونے کے2درجن پان تو بندھوا لاؤ۔“ یہ اتنا بڑا خرچہ تھا جس کے لیے ہمیں کتابوں کی حد تک چپڑاسیوں کے سائیکلوں کے پورے ٹائر، چین اور پتہ نہیں کیا کیا بدلنا پڑتا تھا۔
سونے پر سہاگہ یہ کہ جو آڈٹ وہ سردیوں میں دو تین دن میں نبٹا لیتے تھے اسے سیزن میں دو ہفتے تک گھسیٹ کر لے جاتے۔ بس ہیڈ آفس میں ایک ٹیلی گرام بھیج دیتے تھے کہ برانچ کے کچھ لیجر وغیرہ بیلنس نہیں ہیں اس لیے یہاں ایک ہفتہ مزید لگ جائے گا۔ جعفری نے ایک دفعہ دبی زبان میں احتجاج بھی کیا کہ سب کچھ ٹھیک تو ہے پھر آپ لوگ ایسا کیوں لکھتے ہیں، تو ان کا سینئر آڈیٹر منہ پھاڑ کے کہنے لگا کہ”یار ہمیں بھی تو دو چار دن مری کے ماحول سے لطف اندوز ہونے دو“۔ جعفری کہتا آپ ضرور محظوظ ہوں لیکن آپ بندوق ہمارے کاندھے پر رکھ کر کیوں چلاتے ہیں۔ وہ بولا کچھ نہیں بس سنگ دلی سے دانت نکال کے مسکرا دیا۔
پہلے ہی برس عین سیزن کے عروج پر ایک ناگہانی افتاد آن پڑی، ایک دن اچانک ماتحت ملازمین نے ’قلم چھوڑ‘ ہڑتال کر دی، جس میں وہ روزانہ10 بجے سے ایک بجے تک کوئی کام نہیں کرتے تھے اور برانچ سے باہر نکل کر بازار میں جاکھڑے ہوتے۔ ظاہر ہے اب اس اندرونی بغاوت کی وجہ سے بینک کا کاروبار تو بند نہیں ہو سکتا تھا، نتیجتاً ان کی غیر موجودگی میں ان کا سارا کام بھی ہمیں کرنا پڑتا تھا۔ ہم کل6 آفیسر تھے، کچھ کیش پر بیٹھ گئے اور کچھ نے کھاتوں میں اندراج وغیرہ کا کام سنبھال لیا۔ کراچی میں حاصل کی گئی تربیت کام آئی اور کسی نہ کسی طرح ہم وہ 3 گھنٹے گزار لیتے تھے۔ سیزن کی وجہ سے ہجوم اور کام کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ انتہائی کوشش کے باوجود کیش سنبھالنے والے آفیسروں کے سو پچاس روپے کم پڑ جاتے تھے۔ ظاہر ہے حساب پورا کرنے کے لیے وہ یہ رقم اپنے پلے سے ڈالنے پر مجبور تھے، اب تین چار سو ماہانہ تنخواہ میں سے اتنا بڑا نقصان کہاں سے پورا کرتے اس لیے اس کو بینک کے کھاتے میں ڈالتے رہے، بعد میں جعفری نے ہیڈ آفس والوں کو بڑا دردناک سا خط لکھ کر حالات کی وضاحت کی جس کو مد نظر رکھتے ہوئے سیٹھوں نے یہ نقصان بینک سے پورا کر دیا۔ 
 ہماری بدقسمتی کہ ٹھیک انھی دنوں آڈیٹر بھی آگئے، یونین بازی کے چکر میں ماتحت عملہ ان کو بھی مطلوبہ معلومات یا کھاتوں کے رجسٹر وغیرہ فراہم کرنے سے انکار کر دیتا تھا۔ ہڑتالی ملازمین کا لیڈر وہی ہیڈ کیشیئر عباسی تھاجس کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا تھا۔ وہ کسی کو خاطر میں لاتا اور نہ کسی اورکو کوئی کام کرنے دیتا تھا۔ آڈیٹروں نے جب دیکھا کہ وہ لوگ ان کا کہنا نہیں مان رہے ہیں تو جعفری سے شکایت کی، اس نے اپنی بے بسی اور لاچاری ظاہر کی اور صاف کہہ دیا کہ یونین بازی کی وجہ سے حالات اس کے کنٹرول سے باہر ہیں۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -