1959میں انجنیئرنگ کالج ویران سی جگہ پر قائم تنہا سا ادارہ تھا،آس پاس کوئی آبادی نہ تھی، تانگے والے ایسے آواز لگاتے تھے گویا کسی دوسرے شہر جا رہے ہیں 

 1959میں انجنیئرنگ کالج ویران سی جگہ پر قائم تنہا سا ادارہ تھا،آس پاس کوئی ...
 1959میں انجنیئرنگ کالج ویران سی جگہ پر قائم تنہا سا ادارہ تھا،آس پاس کوئی آبادی نہ تھی، تانگے والے ایسے آواز لگاتے تھے گویا کسی دوسرے شہر جا رہے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:23
جیسا کہ سوچا اور بتایا گیا تھا،اگلے چار دن ذہنی آزمائش اور جسمانی ورزشوں کے مختلف امتحان ہوتے رہے تاکہ امیدواروں میں قیادتی اور ذہنی صلاحتیوں کے ساتھ ان کی قوت برداشت کا اندازہ بھی لگایا جا سکے۔اس کے بعد مختلف شعبوں میں ماہر افسران کے ساتھ انٹرویو ہوئے اور اس سلسلے کا آخری انٹرویو بورڈ کے سربراہ نے کیا۔ پھر جیسا کہ مجھے اُمید تھی،آخری دن مجھے بتایا گیا کہ میں ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوں لہٰذا میں نے اپنا سامان سمیٹا اور خوشی خوشی واپسی کا سفر اختیار کیا۔ میاں جی نے مجھے کہا تھا کہ میں سڑک کے راستے کوہاٹ سے پشاور واپس نہ آؤں کیوں کہ یہ بہت خطرناک راستہ ہے، لیکن میں نے ان کی اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دی اور اسی راستے سے پشاور جانے کی ٹھانی کیونکہ میں یہ راستہ بھی دیکھنا چاہتا تھا۔لہٰذا میں پشاور کی بس پر سوار ہوگیا اور اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس سڑک کے دونوں طرف اونچے اونچے پہاڑ اور موڑ ضرور تھے لیکن مجھے یہاں سے گزرتے ہوئے ذرا بھی خوف نہ آیا۔ میں پشاور پہنچا اور وہاں سے خیبر میل کے ذریعے گوجرانوالہ آیا اور وہاں سے ڈسکہ پہنچ گیا۔ میں نے میاں جی کو ہوا تک نہ لگنے دی کہ میں نے ان کی حکم عدولی کی تھی اور ان کی ہدایت کے برعکس اسی راستے سے آیا جس سے انھوں نے منع کیا تھا۔ اس طرح میں نے اپنے آپ کو ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچا لیا تھا۔  
میں اب انجنیئرنگ کالج میں جانے کے لیے بہت پر جوش تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کمال مہربانی سے مجھے اس مرحلے تک پہنچایا تھا اس لیے اگلے چند ہی دنوں میں میَں ایک طالب علم کی حیثیت سے داخلہ لینے اس کالج میں جا پہنچا  تھا۔
یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور
1959میں انجنیئرنگ کالج ایک ویران سی جگہ پر قائم تنہا سا ایک ادارہ تھا اور اس کے آس پاس کوئی آبادی بھی نہ تھی۔ یہ لاہور شہر کے بجائے اس کی ایک نواحی بستی باغبانپورہ کے زیادہ قریب تھا۔ یہ تاریخی جی ٹی روڈ پر واقع تھا جو پشاور سے کلکتہ کو ملاتی تھی۔ ہندوستان کا سرحدی شہر امرتسرصرف 25 کلو میٹر دور اسی سڑک پر بین الاقوامی سرحد کے اس پار واقع ہے۔ دونوں ملکوں درمیان روایتی دشمنی کے باعث واہگہ چوکی پر ٹریفک بہت محدود تھی۔ کالج اور لاہور شہر کے درمیان آنے جانے کے لیے سب سے بہتر اور سستی سواری تانگہ ہی تھی۔ تانگے والے کالج کے سامنے لاہور شہر جانے کی ایسے آواز لگاتے تھے گویا کسی دوسرے شہر جا رہے ہیں۔
    کالج اور ہاسٹل میں داخلے کے بعد ہم اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ میرے ساتھ گورنمنٹ کالج سے احمد خان بھٹی، بشیر الدین، نصیر، ریاض اور شاہ دین آئے تھے۔ بعد ازاں شریف بھٹی بھی اگلے سال ہم سے آن ملا۔ میرے کواڈرینگل ہوسٹل کے ساتھی اور میرے بہت ہی عزیز دوست غفور ملک نے گورنمنٹ کالج میں ہی اپنی اگلی تعلیم جاری رکھی۔اکرم، اقبال واہلہ، عاشق سلیمی مظفر خان، صادق سواتی  اور تنویر  ہوسٹل میں اب میرے نئے ساتھی تھے۔ یہ سب دوسرے کالجوں سے آئے تھے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -