محرومی کے شکار لوگ منفی خیالات اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں اور پھر اپنی آئندہ نسلوں کو بتاتے رہتے ہیں کہ کم تر درجے کی کامیابی کو ہی اپنی قسمت کا لکھا سمجھ لیں 

 محرومی کے شکار لوگ منفی خیالات اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں اور پھر اپنی آئندہ ...
 محرومی کے شکار لوگ منفی خیالات اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں اور پھر اپنی آئندہ نسلوں کو بتاتے رہتے ہیں کہ کم تر درجے کی کامیابی کو ہی اپنی قسمت کا لکھا سمجھ لیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:10
اپنے خیالات اور حوصلے اور ارادے ہمیشہ بلند رکھیئے، انہیں پست نہ ہونے دیجئے:
احساس کمتری، ذہنی و جذباتی غربت اور محرومی کے شکار لوگ منفی خیالات و تصورات اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں اور پھر اپنی آئندہ نسلوں کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں ایک معمولی، اوسط اور کم تر درجے کی کامیابی کو ہی اپنی قسمت کا لکھا سمجھ لیں، چھوٹے چھوٹے اور ٹوٹے پھوٹے گھروں میں زندگی کے دن گزاریں، چھوٹی اور ننھی منی کاروں میں سفر کریں، موسم سرما میں اپنے گھروں کو یخ بستہ بنالیں اور موسم گرما میں اپنے گھر کو ایک ایسے درجہ حرارت کے تحت لے آئیں کہ آپ کے پسینے چھوٹ جائیں اور پسینے سے آپ کا بدن اور لباس تر بتر ہو جائے۔ مختصر یہ کہ منفی خیالات کے حامل لوگ ہمیں یہ باور کراتے رہتے ہیں ہمارے پاس مطلوبہ توانائی (بجلی، گیس وغیرہ) کی کمی ہے، مکانات بنانے اور تعمیر کرنے کے لیے جگہ بھی نہیں ہے، اس کے علاوہ مختلف قسم کے ذرائع اور وسائل اور دولت بھی کم یاب ہے۔ وہ ہمیں یہ مسلسل اور متواتر ذہن نشین کراتے رہتے ہیں کہ ہم ایک ”کم معیاری زندگی“ پر اکتفا کریں اور اسی کو اپنے لیے غنیمت سمجھیں کیونکہ ”ایک اچھی خوشحال اور معیاری زندگی“ ہم سے کوسوں دور ہے۔
حال ہی میں ”ٹائم Time“ میں شائع ہونے والے ایک ایسے مضمون کو پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں زمانہ قدیم کی غاروں میں انسانی زندگی کے متعلق تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔ اس مضمون کے ایک حصے کا خلاصہ یوں تھا: 
”امریکیوں کے موجودہ طرز رہائش کے تحت تعمیر ہونے والے مکانات کے باعث کچھ امریکی ”بند کمروں یا بند جگہوں کے خوف“ میں مبتلا ہو سکتے ہیں لیکن مختلف اقوام کی تہذیبی روایات اور اقدار اور ان کے طرز رہائش سے تقابلی کے ذریعے انہیں یہ محسوس ہو جانا چاہییئ کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، اس کے لیے انھیں شکر گزار ہونا چاہییئ۔“
دوسرے الفاظ میں ان کا اندازِ رہائش کتنا ہی نامعقول اور ناخوشگوار کیوں نہ ہو، ان کا یہ انداز رہائش اور انداز تعمیر، کسی غیر ترقی یافتہ، ترقی پذیر یا غریب قوم سے کہیں بہتر او ر بہترین ہے۔“
اس قسم کا نظریہ اور مؤقف نہایت ہی احمقانہ اور نامعقول ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ احساس اور ادراک بہت کم، طمانیت اور سکون کا باعث ہے کہ کسی دوسرے شخص کی مانند وہ بیمار نہیں ہے۔ یہ انداز فکر اور نظریہ، انتہائی احساس کمتری اور بدترین حالات کا مظہر ہے کیونکہ اس کے باعث ہم اپنے معیار زندگی کی سطح نہایت ہی کم کر لیتے ہیں اور ہمارے سوچنے، غور و فکر اور سوچ بچار کا دائرہ بھی محدود ہو جاتا ہے۔
خوش قسمتی یہ ہے کہ ابھی بھی اکثر لوگ ایسے موجود ہیں جو اپنی تمام صلاحیتوں اور مہارتوں کو اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ بہتری لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہ اس روئیے اور اعتقاد کے مالک ہوتے ہیں کہ باسہولت اور پر آسائش زندگی ان کا حق ہے اور وہ زندگی میں اوسط اور معمولی کامیابی کے خلاف جدوجہد کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ یہ امر انتہائی دلچسپی کا باعث ہے ”اس مضمون کے مطابق امریکی اپنے خوابوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں“ لیکن ساتھ ہی ایک ایسا اشتہار دیا ہوا ہے جس میں ایک کار کی بڑی سی تصویر ہے اور جس کا عنوان ہے“ امریکی بھی بہتر بلکہ بہترین انداز طرز معیار زندگی کے مستحق ہیں۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -