گرم انڈے

گرم انڈے
گرم انڈے

  

[بچوں کے لیے لکھی گئی کہانی جس میں بڑوں کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے، اس لیے وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔]

دنیا میں انسانوں کی بڑی اقسام ہیں۔ خوش خلق اور بد اخلاق، پرامن اور جھگڑالو، فیّاض اور کنجوس، خاموش طبع اور باتونی، لاتعلق اور گرم جوش، ہر ایک کا حال معلوم کرنے والے اور مردم بیزار۔ غرض انسانوں کی طبیعتیں اور مزاج ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد ہوتے ہیں۔ بعض لوگ مدتوں ایک ساتھ رہنے کے باوجود ایک دوسرے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے جبکہ بعض لوگ ایک ہی نشست اور پہلی ہی ملاقات میں پورا تعارف حاصل کرلیتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی پاک نے بھی فرمایا تھا کہ انسان مختلف دہاتوں کی طرح ہوتے ہیں جو پہاڑوں کی کانوں میں پائی جاتی ہیں۔

ساجدہ ایک گھریلو خاتون تھی۔ تعلیم واجبی سی تھی مگر بڑی سمجھدار اور سلیقہ شعار تھی۔ پھر اس کا دل بڑا نرم تھا اور وہ غریبوں سے بڑی محبت کرتی تھی۔ جب کسی غریب کو دیکھتی تو اس پر ترس کھاتی اور ساتھ ہی اللہ کا شکر ادا کرتی کہ اللہ نے اسے کسی مشکل میں مبتلا نہیں کیا، یہ طرز عمل سنتِ رسول کے عین مطابق ہے۔

آج یکم جنوری کے ساتھ نئے مہینے اور نئے سال کا آغاز ہوگیا تھا۔ سردی کی شدید لہر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ لاہور میں بھی درجہ¿ حرارت صفر کے قریب پہنچ چکا تھا ۔ شام ہی سے بادل فضا میں نمودار ہو رہے تھے۔ کسی بھی لمحے بارش کا امکان تھا۔ ایسے میں گلی میںہر شام انڈے بیچنے کے لیے آوازیں لگانے والے چھوٹے سے بچے کی آواز آئی۔ ” گرم انڈے ے ے، انڈے ے ے گرما گرم!“۔ ساجدہ نے بچے کی آواز سنی تو تیز قدموں کے ساتھ باہر کی طرف لپکی۔ یہ لڑکا روز انڈے بیچنے کے لیے آتا اور دیر تک اس گلی میں اور ساتھ کی دو تین گلیوں میں چکر لگاتا رہتا۔

ساجدہ نے اس سے قبل کبھی اس لڑکے سے انڈے نہ خریدے تھے۔ سردی میں وہ اپنے گھر میں انڈے ابال کر اپنے بچوں اور میاں کو گرم چائے یا گرم دودھ کے ساتھ دیاکرتی تھی۔ آج اس نے جب یہ آواز سنی تو اس کے دل کی عجیب کیفیت ہوگئی۔ اس نے سوچا اس شدید سردی میں ماں باپ اپنے بچوں کو گرم کمروں اور گرم بستروں سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتے مگر یہ بچہ اس شدید سردی میں گلی گلی انڈے بیچنے کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے۔ یہ بھی کسی ماں کا سلمان یا بلال ہے، کسی کے دل کا قرار اور سکون ہے! اسے حالات نے مجبور کر دیا ہے کہ وہ سردی میں ٹھٹھر رہا ہے۔

ساجدہ نے بچے کو آواز دی۔وہ تیز قدموں سے اس کی طرف آیا۔ گلی میں لگی لائٹ میں ساجدہ نے دیکھا کہ بچے کے پاﺅں میں بوٹ تو ہیں، جرابیں نہیں۔ سویٹر تو ہے، گلے میں مفلر نہیں، سر پہ گرم ٹوپی ہے مگر پھٹی پرانی! اس بچے کو دیکھ کر اس کا جی بھر آیا۔ یہ اس کے سلمان ہی کی عمر کا ہوگا۔ اس نے محبت سے پوچھا ”بیٹا تمھارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا۔ ” میرا نام سلمان ہے آنٹی جی۔“ ساجدہ کو اس لمحے وہ بہت ہی پیارا لگا۔ اس کا جی چاہا کہ اپنی جیب میں موجود پانچ سو روپے اس کی نذر کردے مگر پھر سوچا کہ یہ شاید اچھی بات نہیں ہوگی کہ میں اسے بھکاری بنادوں۔

”بیٹے کتنے میں انڈا بیچتے ہو؟“ ساجدہ نے پوچھا۔ لڑکے نے جواب دیا ”آنٹی جی 10 روپے میں ایک انڈا بیچتا ہوں اور خوب گرم انڈا ہے۔“ اس کا دوسرا سوال تھا ”تمھارے پاس کل کتنے انڈے ہیں؟“ لڑکے نے بڑے اعتماد سے کہا ”جی مجھے امی نے دو درجن انڈے دے کر بھیجا تھا۔ اب تک صرف 10 انڈے بک سکے ہیں اور چودہ باقی ہیں۔“ ساجدہ نے پوچھا ”چودہ انڈے کتنے کے ہوئے؟“ لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا ”آنٹی جی 10 روپے کے حساب سے ایک سو چالیس کے بنتے ہیں، آپ بتائیں کتنے لینے ہیں؟“

ساجدہ نے سوچا کہ اسے ضرورت تو چھ انڈوں ہی کی ہے کیوں کہ گھر میں میاں بیوی کے علاوہ تین بچے اور ایک مہمان خالہ ہے، مگر اس سردی میں غریب بچے سے سارے ہی انڈے خریدلیے جائیں تو کیا ہرج ہے۔ اس نے کہا ”میں سارے انڈے خرید لیتی ہوں۔“ لڑکے نے یہ سن کر خوشی سے کہا ”اچھا تو آپ دس روپے کم دے دیں۔“ ساجدہ جس جذبے کے تحت انڈے خریدنے کے لیے نکلی تھی، اس کے تحت اس نے کہا ”نہیں بیٹا، میں ایک سو پچاس روپے کے خریدوں گی۔“ پھر اس نے لڑکے کو ایک سو پچاس روپے دیتے ہوئے اس سے سارے انڈے لے لیے۔ لڑکا شکریہ ادا کرکے خوشی خوشی چلا گیا۔

ساجدہ جب انڈے لے کر اندر گئی تو اس کے میاں نے اتنے انڈے دیکھ کر قدرے ناراضی کے ساتھ کہا ”اتنے انڈوں کا آپ نے اچار ڈالنا تھا؟“ ساجدہ نے کہا ”چودھری صاحب وہ ایک غریب لڑکا تھا اور اس شدید سردی میں گلیوں میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے میرا پنا سلمان گلیوں میں گھوم رہا ہو۔ پھر اتفاق سے اس سے نام پوچھا تو اس نے نام سلمان ہی بتایا....“

چودھری صاحب نے کہا ”اگر تم اس کی مدد ہی کرنا چاہتی تھیں تو اسے بطور خیرات کچھ دے دیتیں اور باقی انڈے اسی کے پاس رہنے دیتیں۔ وہ آخر بیچ کر ہی گھر جاتا۔“ ساجدہ نے بڑی تسلی کے ساتھ اپنے خاوند کی تجویز سنی اور پھر بڑے سلیقے سے کہا ”چودھری صاحب بات دراصل یہ ہے کہ ایک تو وہ لڑکا خوددار نظر آرہا تھا۔ اس میں بڑا اعتماد تھا۔ دوسرے میں تو چاہتی تھی کہ وہ جلد جا کر اپنے بستر میں گھس جائے اور سردی سے بچ جائے۔ اگر میں اس سے چھ انڈے خرید لیتی تو وہ بے چارا باقی کے آٹھ انڈے بیچنے کے لیے نہ معلوم کتنا مزید وقت سردی میں ٹھٹھرتا رہتا....“

ساجدہ کی بات سن کر اس کے میاں خاموش ہوگئے۔ پھر اس نے کہا کہ چودھری صاحب دیکھیے اس سردی میں جب بھی میں نے بچوں کو ایک ایک انڈا کھلایا ہے تو انھوں نے ہمیشہ کہا ”امی اگر ایک انڈا اور مل جائے تو بہت اچھا ہو“ مگر میں نے ان کو کبھی دوسرا انڈا نہیں کھلایا۔ آج ان کو دو دو انڈے اگر دے دوں تو کیا خرابی ہے۔ آج ہر شخص کو دو دو انڈے ملیں گے اور دو انڈے صبح گرم پانی میں دوبارہ ابال کر فجر سے قبل آپ کو اور خالہ جی کو دے دوں گی۔“

بچو! دیسی خوراک اور ولایتی خوراک میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ آج کل ہم ہر چیز جو کھاتے ہیں، وہ فطری انداز میں نہیں، مصنوعی انداز میں تیار ہوتی ہے۔ فصلیں اور غلے، سبزیاں اور پھل، مرغی اور انڈے ہر چیز اپنی اصلی اور فطری صفات سے محروم ہوچکی ہے۔ پیداوار اور وزن بڑھانے کے شوق میں انسان اس غذا سے محروم ہوچکا ہے جو قدرتی اصولوں کے مطابق تیار ہوتی تھی اور انسان کے لیے نفع بخش تھی۔ سلمان جو انڈے بیچتا تھا وہ مصنوعی نہیں، قدرتی ہوتے تھے۔

یہ انڈے بڑے لذیذ تھے۔ بچوں نے بھی ان کو بہت پسند کیا اور خود چودھری صاحب بھی خوش تھے مگر انھوں نے انڈوں کے لذیذ ہونے کا اعتراف و اظہار نہ کیا۔ البتہ ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ہر روز اسی طرح کے انڈے کھانے چاہئیں۔ وہ اس بات کا اظہار اس لیے نہیں کر رہے تھے کہ جو انڈا بازار سے لا کر اپنے گھر میں ابال لیا جائے وہ سات آٹھ روپے میں پڑتا ہے اور یہ انڈے دس روپے میں ملتے ہیں۔ چودھری صاحب ایک فرم میں اکاﺅنٹنٹ تھے اور ہر چیز کا حساب کتاب خاص سوچ کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ انڈوں کی کہانی قدرے طویل ہے۔ اس کا باقی حصہ اگلی کہانی میں دیکھیے۔

مزید : کالم