آسان ترین زبان : اسپرانتو

آسان ترین زبان : اسپرانتو

سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے حمود الرحمان کمےشن رپورٹ اب منظرعام پر آچکی ہے۔ہمارا ملک 1971ءسے قبل دنےا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت تھا،جو اب نہےں رہا ،ملک دولخت ہونے کی کئی وجوہات مےں سے اےک وجہ لسانی بھی تھی۔ اگرہم مشرقی پاکستان والوں کی بنگالی زبان سےکھ لےتے تو ان غلط فہمےوں کو دورکےا جاسکتا تھا جن کی وجہ سے ہمےں ذلت وہزےمت اٹھانا پڑی۔اب بقاےا پاکستان کی سالمےت کو برقرار رکھنے کے لئے سندھی، پشتو،بلوچی ،کشمےری ،پنجابی اور سرائےکی کا سےکھنا بہت ضروری ہے ۔باعزت روزگار کے لئے انگرےزی بھی آنی چاہےے۔ہمارے ملک کے ساتھ ہی عظےم ہمساےہ مخلص دوست چےن بھی ہے۔اس سے دوستی کو مضبوط اور فعال بنانے کے لئے چےنی بھی آنی چاہئے۔روسی رےاستوں سے تعلقات بڑھانے کے لئے روسی اور سب سے بڑھ کر مکے مدےنے والوں کی زبان عربی پر بھی عبورضروری ہے تاکہ تعلےمات قرآن سمجھ سکےں اور ان پر عمل کرسکےں ۔فارسی اور ترکی سےکھ کر ہی اےران اور ترکوں سے تعلقات بڑھائے جاسکتے ہےں ۔حدےث پاک ہے کہ جس نے جس ملک کی زبان سےکھ لی،اس کے شرسے محفوظ رہا ، لہٰذا پڑوسی ملک ہندوستان کی ہندی اور سنسکرت سےکھنا بھی ضروری ہے۔

اےک انسان کے لئے ےہ بہت ہی مشکل ہے کہ وہ عصری اور مذہبی علوم سےکھنے کے علاوہ بہت سی ضروری زبانےں بھی سےکھے۔اس مشکل کو 1887ءمےں پولےنڈکے ڈاکٹرزامن ہوف نے آسان کردےا ۔انہو ںنے اپنے ماہر لسانےات ساتھےوں کی مدد سے تمام دنےا کے انسانوں سے رابطہ رکھنے کے لئے اےک آسان،سادہ اور بااصول زبان ”اسپرانتو“ ترتےب دی ۔جس کے سےکھ لےنے سے دےگر زبانےں سےکھ لےنا آسان ہو جاتی ہےں ،کیونکہ اس مےں تمام مشہور زندہ زبانوں کی VOCABULARY استعمال کی گئی ہے۔ہم سائنس دانوں کی دیگر اےجادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کار ،جہاز ،ہےٹر،اے سی ،فریج ،اوون ،کمپےوٹرز وغےرہ استعمال کرنے مےں کوئی ہچکچاٹ محسوس نہےں کرتے ،بلکہ بعض مہنگی ترےن اشےاءضرورت بھی خرےدلےتے ہےں ۔غےر ملکی زبانےں سےکھنے پر بہت رقم اور وقت بھی لگاتے ہےں، جبکہ عالمی رابطے کی آسان ترےن زبان جوبہت کم وقت مےں اور معمول خرچ سے آسکتی ہے کو سےکھنے مےں غفلت برت رہے ہےں۔ٹالسٹائی نے کہا تھا کہ جواتنی آسان زبان نہےں سےکھتا ،اسے بدقسمت کے سوا کےا کہا جاسکتا ہے ۔ اسپرانتو زبان کی 3 بڑی خصوصےات ہےں۔اےک ےہ کہ اس کی گرائمر صرف 16 قواعدو ضوابط پر مشتمل ہے اور 42 کے قرےب اس کے سابقے اورلاحقے ہےں،جن کا سےکھنا دنےا کے ہر خطے کے ہر آدمی کے لئے بہت آسان ہے۔دوسرا ےہ کہ اس کا تلفظ بہت آسان ہے۔ چ کے لئے اےک ہی حرف ہے۔انگرےزی کی طرح نہےں کہCH کہےں چ کی آواز دےتا ہے اور کہےں ک کی، جبکہ ک کے لئے K بھی موجود ہے۔سابقے کی اےک مثال :FILOnm بےٹا سے قبل BO لگادےں داماد لاحقہ(جوالفاظ کی تکمےل کرےں)کی اےک مثال BELA خوبصورت ec علامت اسم o سے قبل لگائےےBELECO خوب صورتی MAL پہلے لگانے MAL BELA بدصورت۔تےسری خصوصےت ےہ ہے کہ اس کا ذخےرہ الفاظ محدود ہے۔اےک ہی لفظ کی مدد سے کئی الفاظ بنائے جاسکتے ہےں۔ مثال کے طور پر گائے ،بےل ،بچھڑا،اےک ہی جنس کے لئے 3 مختلف نام اےک چےنی رٹے لگا،BOVO ،بےل مےں علامت اسم o سے قبل IN لگانے سے مونث بن جاتی ہے BOVINO گائے اور o سے قبل ID لگانے سے تصغےر بنا سکتے ہےں۔ BOVIDO بچھڑا باپ کی اسپرانتوPATRO سے قبل BO لگانے سے خسر\ سسر بناسکتے ہےں۔ ماںPATRINO سے قبل BO لگانے سے ساس ،بےٹا FILO سے قبل BO لگانے سے داماد بناےا جاسکتا ہے،

عالمی زبان اسپرانتو،اس وقت دنےا کے 80 سے زےادہ ممالک مےں لکھی ،پڑھی، بولی اور سمجھی جارہی ہے ۔اسپرانتو کسی قوم ،مذہب ،رنگ ےا نسل سے منسلک نہےں ہے، اس لئے مکمل طور پر ےہ اےک غےر جانبدار زبان ہے اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ہے۔ ےہ امن ،محبت، دوستی ،بھائی چارے اور عالمی رابطے کی زبان ہے ۔دنےا مےں اسپرانتو کی عالمگےر تنظےم ےونےورسل اسپرانتو اےسوسی اےشن(UEO )قائم ہے،اس کا صدر دفتر نےدرلےنڈمےں ہے۔اس عالمی اےسوسی اےشن کے تحت دنےا مےں 70 سے زئد ممالک مےں اس کی شاخےں قائم ہےں۔1978ءسے پاکستان مےں اس کے فروغ کے لئے کام ہورہا ہے۔PAKESA پاکستان اسپرانتو اےسوسی ایشن کے نام سے اسپرانتو دان کسی دےگر زبان سےکھنے سے منع نہےں کرتے ،پہلے پاکستانی اسپرانتودان علامہ مضطرعباسی کو UEA کے ممبر ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ انہوں نے خطبہ حجتہ الوداع کا اسپرانتو مےں ترجمہ 80 سے زائد ممالک مےں بھیجا،جسے پڑھ کر بے شمار لوگ اسلام سے متاثر ہوئے، جنہوں نے اسلام قبول کےا ۔ان کےلئے علامہ صاحب قرآن پاک کا ESPERANTO مےں ترجمہ کرگئے۔وہ انسان دوستی پرمبنی احادےث بھی اسپرانتو مےں ترتےب دے گئے تھے جوےونےورسل اسلامی اسپرانتو اےسوسی اےشن(UIEA )کے جنرل سےکرٹری امجد بٹ ،مصر سے شائع کرکے دنےا مےں بھےج کر اسلام کا اصل چہرہ دکھلاچکے ہےں۔

اس کے علاوہ دنےا مےں سےنکڑوں دےگر اسپرانتو تنظےمےں بھی قائم ہےں جو مختلف شعبہ جات مےں اسپرانتو کے فروع کے لئے کوشاں ہےں۔دنےا کے متعدد ممالک مےں کالج وےونےورسٹی کی سطح پر اس آسان ترن زبان کو اختےاری مضمون کا درجہ حاصل ہے ،نےز بےشتر ممالک مےں اسپرانتو انسٹی ٹےوٹ،کالج اور ےونےورسٹیاں قائم ہےں۔مختلف رےڈےو سٹےشنوں سے اسپرانتو پروگرام نشر کئے جاتے ہےں ۔مری کے علامہ مضطری عباسی نے 1959ءمےں بذرےعہ B.B.C اور رےڈےو پےکنگ اسپرانتو سےکھی تھی اور پاکستان مےں اس کے گروپس قائم کئے تھے ۔جو مفت پر زبان سکھا رہے ہےں۔آپ بھی جوابی لفافہ بھےج کر بذرےعہ وکتابت اسپرانتو مرکز، نتھیاگلی روڈ مری اور 62 جہاں زےب بلاک اقبال ٹاﺅن سے ےہ زبان سےکھ سکتے ہےں ۔WWW.UEA.ORG سے بھی آپ کو معلومات مل سکتی ہےں چند سال ہوئے UEA کا 92واں سالانہ اجلاس جاپان مےں منعقد ہوا تھا جس مےں دنےا کے 60 سے زائد ممالک کے اسپرانتودانوں نے ہزاروں کی تعداد مےں شرکت کی تھی۔ اس اجلاس مےںPAKESA کے صدر شبےر احمد سےال نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔انہوں نے بتاےا کہ اس 8 روزہ کانفرنس مےں اسپرانتو تحرےک کے ساتھ ساتھ سائنس،ٹےکنالوجی ،کمپےوٹر اور ےورپ واےشےا مےں ہونے والی ترقی وغےرہ جےسے عنوانات پر بھی مضامےن پڑھے گئے۔معلومات مزےد کے لئے ملاحظہ کرےں گے ،WWW.PAKESA.COM ۔

دنےا کی اکثر بڑی شخصےات اسپرانتو پردسترس رکھتی تھےں،جن مےں ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹرذاکرحسےن ،ڈاکٹر رادھا کرشنن،اندر گجرال ،وےت نام کے ہوچی منہہ،ےوگوسلاوےہ کے صدر ٹےٹو،مالٹا کے سابق صدر ڈاکٹر اےن ٹو ،ٹالسٹائی ،اےران کے آےت اللہ خمینی ودےگر بھی شامل ہےں۔ چےن مےں بھی بے شمار اسپرانتو دان موجود ہےں ۔ہم ےہ زبان سےکھ کر پاک چےن دوستی کو مزےد بڑھا سکتے ہےں ۔وہاں کی60 ےونےورسٹیوں مےں اسپرانتو داخل نصاب ہے۔اگر ہمارے سکولوں مےں بھی اسے اختےاری زبان کا درجہ دے دےا جائے تو لسانی تعصب ختم ہوسکتا ہے اور ہم پھر سے امت واحدہ بن سکتے ہےں۔اس وقت 3 زبانےں عالمی رابطے کے فرائض نبھا رہی ہےں، جن مےں انگرےزی ،فرانسیسی اور اسپرانتو شامل ہےں، راولپنڈی جےل کے اےک قےدی اور کوہاٹ کے اےک راج مستری نے ےہ زبان سےکھ لی ہے جو اس کے آسان ترےن ہونے کا ثبوت ہے۔ہم سب اےک آدم کی اولاد ہےں۔اےک زبان کی بدولت ہی ہم اےک رہ سکتے ہےں۔

اسپرانتو ہے سارے جہاں کی زبان

اس سے پھےلے گا دنےا مےں امن وامان

سےکھ لوتم اسے اور سکھاتے چلو

نفرتےں اس جہاں سے مٹاتے چلو

مزید : کالم