اپنا حصہ تو ڈالنا ہوگا

اپنا حصہ تو ڈالنا ہوگا
اپنا حصہ تو ڈالنا ہوگا

  

 گزشتہ ہفتے کی بات ہے، ضلع سانگھڑ کے علاقے کھپرو میں شاہین ینگ جنریشن گروپ نے فقیر دین محمد کنبھر کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب دین محمد کی سماجی خدمات کے اعتراف میں منعقد کی گئی تھی۔ پاکستان میں ایسی تقا ریب کم ہی کی جاتی ہیں، لیکن نوجوانوں کی اس تنظیم نے چھوٹے سے شہر میں لوگوں کو جمع کیا ، انہیں موقع دیا کہ فقیر دین محمد کی خدمات اور معاشرے کی صورت حال پر گفتگو کر سکیں۔ دین محمد ان بے زمین اور کسمپرسی سے دوچار ہاریوں کے لئے کام کرتے رہے ہیں ،جو اپنے ہنر کے باوجود معاشرے میں کوئی مقام نہیں رکھتے، جو اپنے ہاتھوں سے زرعی زمین پر ہل چلاتے ہیں، تمام قسم کی اجناس پیدا کرتے ہیں، لیکن خود ایک وقت کی روٹی کے محتاج رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو زمین کی مٹی سونگھ کو اس کی پیداواری قوت اور صلاحیت بیان کرنے میں یکتا ہوتے ہیں، ان کی قوت اور صلاحیت کا بر ملا اعتراف کوئی بھی نہیں کرتا۔ زمیندار ہوں ،منتخب نمائندے ،افسران یا سیاست دان، کوئی بھی معاشرے کے ان لوگوں کی سرپرستی نہیں کرتا۔ فقیر دین محمد جیسے لوگ ان کے مدد گار کی حیثیت سے آگے آتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، انہیں سہارا دیتے ہیں، انہیں نا انصافی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کی خدمات کا اعتراف کیوں نہ کیا جائے.... سندھ میں ہاریوں کی ناگفتہ بہ سماجی حالت ہی تو تھی کہ کراچی کے جمشید نسرواں جی جیسے بلند قامت سماجی رہنما نے کراچی سے میر پور خاص جا کر 1930ءمیں سندھ ہاری کمیٹی کی بنیاد ڈالی تھی۔ ان کے اس کام میں سائیں جی ایم سید اور دیگر حضرات بھی شریک تھے۔ معاشرے کی حالت کو بہتر بناے کا خوا ب دیکھنے والے جمع ہوئے تھے ، تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ تنظیم اپنی جڑیں اس لئے نہیں پکڑ سکی کہ کام کرنے ولا کوئی نہیں تھا۔

معاشرتی خدمت کے لئے قائم کی جانے والی کوئی تنظیم ہو یا سیاسی یا غیر سرکاری ادارہ، وہاں کل وقتی کام کرنے والوں کی انتہائی اہمیت اور ضرورت ہوا کرتی ہے۔ سندھ ہاری کمیٹی کسی کروٹ کے بغیر قیام پاکستان تک موجود رہی۔ جب حیدر بخش جتوئی نے اپنی سرکاری ملازمت سے استعفا دے کر سندھ ہاری کمیٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور اسے منظم کرنے کی ٹھانی تو تنظیم میں جان پڑ گئی، جو بہرصورت ان کی موت تک جاری رہی۔ اس دوران سینکڑوں ایسے لوگ سامنے آئے،جو جی جان سے ہاریوں کی فلاح و بہبود کی جدوجہد میں جت گئے تھے۔ ملک کے سیاسی تغیرات و حالات اس تیزی سے تبدیل ہوتے گئے کہ سندھ ہاری کمیٹی، جو محنت کشوں کی سماجی حالت بہتر بنانے کی غرض سے وجود میں آئی تھی، سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی اور ڈھیر ہو گئی۔ تاریخی جدو جہد کے بعد منظور کرائے گئے سندھ ٹیننسی ایکٹ کی سندھ اسمبلی سے منظوری کوہ ہمالیہ سر کرنے سے کم نہیں تھی، لیکن بعد کی سیاست نے اس ایکٹ کو بھی بے مقصد بنا کر بالائے طاق رکھ دیا۔ وہ ہاری جس کے پاس زمین نہیں ہے، جس کے پاس اپنی رہائش نہیں ہے، جس کے پاس اپنے زمیندار کے آگے اپنی ہر ضرورت کے لئے ہاتھ پھیلانے کے سوا چارہ نہیں ہوتا، افسران اس کی اس لئے نہیں سنتے کہ وہ ہاری سے ملاقات کے لئے وقت نہیں نکال پاتے، جسم پر پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے، ننگے پاﺅں، ننگے سر آدمی کو افسران کے دفتر میں کیونکر داخلہ مل سکتا ہے، اس دفتر کا قالین اس کے پاﺅں میں لگی مٹی سے خراب ہو جا نے کا اندیشہ ہوتا ہے،اس کا بہتر حل یہ ہے کہ اسے دفتر میں آنے ہی نہ دیا جائے۔

ہاری کو سیاسی شعور اور اس کے حقوق سے آگاہی کے لئے مرحوم عزیز سلام بخاری نے خود کراچی سے آ کر ٹنڈو اللہ یار میں ڈیرہ ڈالا، زندگی وقف کر دی، اس زمین کا ہی پیوند ہو گئے۔ عزیز سلام کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھے، لیکن بعد میں سی پی کی نظریاتی تقسیم پر وہ چین یا ماﺅ نواز ہو گئے تھے۔ حیدر بخش جتوئی ہوں، عبدالقادر ایندھر، مولوی نذیر جتوئی،کامریڈ غلام حسین ہوں، کامریڈ غلام محمد لغاری، رشید ایندھر، کامریڈ جام ساقی ہوں، کامریڈ غلام رسول سہتو ہوں یا شکیل پٹھان اور فقیر دین محمد کنبھر ہوں، ہر ایک نے اپنے اپنے وقت میں نامساعد حالات میں بھی ہاریوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا، لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ ہاری کو منظم نہیں کیا جا سکا۔ زرعی اصلاحات ہوئیں، لیکن ان پر عمل در آمد نہیں کرایا جا سکا۔ ہاری اپنی حالت کی تبدیلی کا خواب بھی نہیں دیکھ پایا۔ تبدیلی کے ادھورے خواب کی تعبیر اس وقت ہوئی جب شکیل پٹھان مرحوم نے ہیومن رائٹس کمیشن کے تحت جبری مشقت کے شکار ہاریوں کی رہائی کا جان جوکھم کام شروع کیا۔ انہوں نے بنیاد ڈالی کہ ہاریوں کو عدالتوں اور پولیس کی مدد سے جبری مشقت سے رہائی دلائی جائے۔ اِسی کام کے دوران شکیل پٹھان ایک حادثے سے دوچار ہوئے اور دنیا سے رخصت ہو گئے۔

جب شکیل پٹھان کام کر رہے تھے، تو بعض سیاسی تنظیموں نے بھی قدم بڑھایا تھا۔ فقیر دین محمد سندھ ترقی پسند پارٹی کا حصہ بن گئے تھے اور ہاریوں کی رہائی کا کام کر رہے تھے، لیکن بعض اختلافات کے باعث انہوں نے پارٹی سے رابطہ ختم کر لیا اور ان کا کام بھی ادھورا رہ گیا۔ اب وہ اپنی ذاتی حیثیت میں جتنا کام کر سکتے ہیں، کرتے رہتے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں یہ کام کسی فرد واحد کے بس کی بات نہیں ہے۔ ایک تنظیم کی ضرورت ہے۔ ایسی تنظیم، جس میں شامل لوگ کسی سیاسی مفاد کا خیال دل میں لائے بغیر مخلوق خدا کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔ اس تماش گاہ میں سیاسی حلقے آج بھی زرعی اصلاحات کے لئے مہم چلا رہے ہیں، لیکن وہ ایک ایسی مہم ہے، جو صرف شہروں میں چلائی جا رہی ہے۔ مہم چلانے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہاریوں کو منظم کئے بغیر ان کی مہم کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ پاکستان میں زرعی اصلاحات کرانا شیر سے پنجہ آزمائی کرنے کے برابر ہے۔ وہ تمام زمیندار جن کے پاس نہری علاقوں میں ایک سو ایکڑ سے زائد زرعی زمین ہے، کسی بھی حالت میں زرعی اصلاحات کی حمایت نہیں کریں گے۔

سیاسی جماعتوں اور محنت کش طبقے کے لئے کام کرنے والوں کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔ سردست انہیں حکومت سے یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ ہاریوں کو ان کی رہائش کے لئے ان زرعی زمینوں کے قریب رہائش کے لئے قطعے کسی معاوضے کے بغیر فراہم کئے جائیں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ وہ بھی اثاثو ں کے مالک ہیں، خواہ وہ 80 گز کا ہی قطعہ اراضی کیوں نہ ہو۔ جب ہاریوں کو رہائش کے لئے جگہ مل جائے گی تو وہ اس قابل ہو سکیں گے کہ جہاں اور جس زمیندار کے پاس چاہیں کام کریں اور اپنی اجرت کی شرح اور معاوضہ طے کر سکیں۔ اس صورت میں فقیر دین محمد کنبھر جیسے لوگوں کے لئے، جو معاشرے کی تبدیلی کا خواب دیکھتے ہیں، کام کرنا آسان ہو جائے گا۔ ابھی مروجہ صورت حال یہ ہے کہ ہاری کو اسی زرعی زمین کے کسی ٹکڑے پر عارضی رہائش کی ا جازت دے دی جاتی ہے، جہاں اس سے کام لیا جاتا ہے اور ہاری کو ایک طرح سے یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔ زمین کا وہ ٹکڑا زمیندار کی ملکیت ہوتا ہے۔ جب ہاری کام شروع کرتا ہے تو نام نہاد قرضے اس کے ذمے لگا دیئے جاتے ہیں، اس طرح وہ جبری مشقت کا شکار ہو جاتا ہے۔ قرضہ ختم نہیں ہوتا تو جبری مشقت کیوں کر ختم ہو سکتی ہے۔ زرعی اصلاحات کی مہم اپنی جگہ، جبری مشقت سے رہائی کی مردہ تحریک میں جان ڈالنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ہاری کی رہائش کے لئے قطعہ اراضی کے لئے مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ حصہ ڈالنے سے مراد صرف رقم فراہم کرنا، ساتھ چلنا یا ساتھ دینا ہی نہیں ہوتا، بلکہ جس کی جو حیثیت ہے وہ یہ کام کرے۔ اگر کوئی اس سلسلے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کو ایک خط بھی تحریر کر سکتا ہے تو وہ اپنا حصہ ڈال دے۔

مزید : کالم