ہوئے تم دوست جس کے....!

ہوئے تم دوست جس کے....!
ہوئے تم دوست جس کے....!

  

عزت مآب امریکی سفیر رچرڈ اولسن، جنہیں ہمارے نظام میں باقاعدہ ایک وائسرائے کی حیثیت حاصل ہے، مجھے خاصے مخولیا شخص لگتے ہیں۔ اُن میں ایک اچھے مزاح نگار بلکہ جگت باز کی پوری پوری صلاحیتیں موجود ہیں۔ مثلاً انہوں نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے، فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہے، حتیٰ کہ طالبان سے مذاکرات یا اُن کے خلاف آپریشن بھی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سب کچھ کہتے ہوئے رچرڈ اولسن اندر ہی اندر کھلکھلا کر ہنس رہے ہوں گے۔ سات ہزار امریکی ایجنٹوں کے ساتھ پاکستان میں وائسرائے کا کردار ادا کرنے والا با اختیار شخص جب ایسی بات کرتا ہے، تو اُس کا مقصد خود کو صورت حال سے محظوظ کرنا ہوتا ہے۔ امریکی سفیر سے زیادہ اس خطے میں شاید ہی کوئی با خبر شخص ہو، سو اُنہیں اتنا تو معلوم ہوگا ہی کہ اس خطے کے لئے فی الوقت امریکی پینٹا گان نے کیا پالیسی وضع کر رکھی ہے۔ پھر اُنہیں اس کی بھی خبر ضرور ہو گی کہ دنیا میں کہیں بھی امن امریکہ کے مفاد میں نہیں، کیونکہ جہاں امن ہو گا، وہاں امریکیوں کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور اُنہیں بوریا بستر باندھ کر کسی ایسی جگہ کوچ کرنا پڑتا ہے، جہاں انتشار برپا ہو، اگر کوئی جگہ نہ ہو تو امریکہ خود ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی چھتری تلے اُسے وہاں جانے کی سہولت فراہم کر دی جائے۔ عراق سے لے کر افغانستان تک اس کی مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ اب امریکیوں کی سوئی پاکستان میں اٹکی ہوئی ہے۔ پاکستان میں اگر امن ہو جاتا ہے تو امریکیوں کو اپنے مفادات سمیت یہاں سے رخصت ہونا پڑے گا.... بھلا ایسا وہ کیوں چاہیں گے؟ ایک سونے کے انڈے دینے والا ملک جو امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور آئی ایم ایف جیسے امریکی اداروں کے لئے سونے کی چڑیا ہے، بھلا اُسے کیونکر آزاد اور خود مختار دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تو پہلے کبھی ہوا ہے اور نہ اب ہو گا، چاہے افغانستان سے دکھاوے کے لئے امریکی فوج نکال ہی کیوں نہ لی جائے۔

بعض لوگ کہیں گے کہ مَیں امریکی سفیر کو مخولیا کہہ رہا ہوں، حالانکہ یہ اُن کی سفاکی ہے کہ پاکستان میں آگ و خون کا کھیل دیکھتے ہوئے بھی وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زمانہ ضیاءالحق کا ہو یا پرویز مشرف کا، دونوں ادوار میں ایک بار امریکی آشیر باد سے طالبان بنائے گئے اور دوسری بار امریکی ہدایت پر مٹائے گئے.... بنانے اور مٹانے کے اس عمل میں نقصان پاکستان کا ہوا، اس کے لوگوں کا ہوا، فوج کے افسروں اور جوانوں کی جانیں گئیں، اربوں ڈالر معیشت سے نکل گئے، امن و امان رخصت ہو گیا، حکومتی رٹ سوالیہ نشان بن گئی.... سب سے بڑھ کر یہ المیہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ہم دہشت گردوں سے مذاکرات کی بھیک مانگنے لگے۔ رچرڈ اولسن اگر مجھے کہیں مل جائیں تو مَیںاُن سے صرف ایک سوال پوچھوں: ”حضور! اگر آپ کہتے ہیں کہ سب کچھ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور فیصلے بھی پاکستانی قیادت نے کرنے ہیں تو پھر آپ ڈرون حملے بند کرنے کا اعلان کیوں نہیں کر دیتے؟ کیوں تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑا کر آپ پاکستانی علاقوں پر ڈرون گراتے ہیں، جو اشتعال انگیزی کا باعث بنتے ہیں۔ آپ اگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں واقعی سنجیدہ ہیں تو پاکستان کے ساتھ اس حوالے سے انٹیلی جنس شیئرنگ کیوں نہیں کرتے، کیا پاکستان کی مسلح افواج اور فضائیہ اس قابل نہیں کہ اپنے اہداف پر حملہ کر سکیں۔

پاکستان کی فضائیہ نے ابھی چند روز پہلے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جو کامیاب حملے کئے اور اُن کا صفایا کیا ہے؟ کیا وہ اس امر کا ثبوت نہیں کہ ہم پوری صلاحیت رکھتے ہیں.... امریکی ڈرون حملوں کا تو منفی اثر ہوتا ہے، جبکہ پاکستانی فضائیہ نے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے تو اُس سے پاکستانی قوم کا مورال بھی بلند ہوا ہے اور دہشت گرد بھی کوئی اعتراض کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک ڈرون حملہ اُنہیں مظلوم بنا دیتا ہے، جبکہ پاک فضائیہ کے حملوں نے اُن کو ظالم کی شکل میں نمایاں کیا ہے۔ ہم نے تو آج تک نہیں سنا کہ امریکہ نے پاکستانی حکومت کو یہ سنجیدہ انتباہ کیا ہو کہ وہ دہشت گردوں کو نشانہ بنائے، وگرنہ ہم ڈرون حملے نہیں روکیں گے۔ امریکی اس معاملے میں اپنی الگ اجارہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں، شاید اس لئے کہ یہ اُن کی ”لڑاﺅ اور مفاد اُٹھاﺅ“ پالیسی کا حصہ ہے۔ اس پالیسی کے تحت اُنہوں نے عین اُس وقت حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملہ کر کے ہلاک کیا، جب طالبان کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات شروع ہونے والے تھے۔

جہاں شکوک و شبہات اور مفروضوں کی منڈی لگی ہو، وہاں کوئی بات بھی حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ آج بھی پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ملک میں ہونے والی دہشت گردی اور ہائی پروفائل اہداف میں دہشت گردوں کی کامیابی کو امریکی تنظیم بلیک واٹر کے ایجنٹوں کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ ہمارے کسی حکمران کو تو اس بات کی جرا¿ت نہیں ہوئی کہ اس تنظیم کے پاکستان میں ایجنٹوں کی تعداد ہی بتا سکے، تعداد توخیر دور کی بات ہے، سابق وزیر داخلہ رحمن ملک قسمیں کھاتے رہے کہ ملک میں ایسے ایجنٹ موجود ہی نہیں، حتیٰ کہ جب امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، تب بھی اس کا اقرار نہیں کیا۔ سابق سفیر برائے امریکہ، حسین حقانی کے دور میں راتوں رات ہزاروں امریکی ایجنٹوں کو ویزے جاری کئے گئے، یہ سب حقائق منظر ِ عام پر آ چکے ہیں، ظاہر ہے ان سب کا ڈیٹا پاکستانی ایئرپورٹس پر آمد کے بعد ریکارڈ ہو چکا ہے، چودھری نثار علی خان بھی اس سے بخوبی آگاہ ہوں گے، مگر کوئی نہیں بتاتا کہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے یہ امریکی ایجنٹ پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ بھی امریکی سفیر کی طرح صرف مخول کر کے اپنا وقت پاس کئے جا رہے ہیں۔

 افغانستان سے تو شاید امریکی فوج نکل جائے گی، مگر پاکستان سے یہ امریکی کیسے نکلیں گے۔ اسلام آباد میں بیسیوں سفارت خانے موجود ہیں، کیا امریکی سفارت خانے کی عمارت کا کسی دوسرے سفارت خانے سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی سفیر جیسا مرتبہ کسی دوسرے ملک کے سفیر کو حاصل ہے، امریکہ کی 52 ریاستوں کے بعد پاکستان کو 53 ویں ریاست قرار دے کر امریکہ سارے فیصلے کرتا ہے، لیکن وہ اپنی 52 ریاستوں میں کسی قسم کی دہشت گردی اور بد امنی برداشت نہیں کرتا، البتہ پاکستان میں اُسے دہشت گردی اور بد امنی کی قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے، تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جا سکے، اس میں ایسے انتشار کی کسی نہ کسی انداز سے حوصلہ افزائی کی جائے جو اداروں کے استحکام، معیشت کو مضبوطی اور عوام کی خوشحالی کے راستے میں دیوار بن جائے۔

امریکی سفیر ایک اچھے مزاح نگار اور ماہر جگت باز ضرور ہو سکتے ہیں، مگر اُنہیں کم از کم اس ناکامی کی ذمہ داری ضرور قبول کرنی چاہئے کہ وہ پاکستان کو ایک دوست ملک قرار دینے کے باوجود اسے ایک خوشحال اور پُرامن پاکستان نہیں بنا سکے۔ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں کہ امریکہ گزشتہ 60 سال سے پاکستان کی دوستی کا دم بھر رہا ہے، اس کے لئے بہت کچھ کرنے کا دعویدار ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس رہی ہے۔ امریکہ کی دوستی میں پاکستان ایک ایسی کھائی میں گر چکا ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی سفیر مجھے مل جائیں تو مَیں اُنہیں یہ مصرعہ سنا کر اُن کی ہر بات کے جواب کو کوزے میں بند کر دوں:

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو

مزید : کالم