آئی جی پنجاب....ہوشیارباش

آئی جی پنجاب....ہوشیارباش
آئی جی پنجاب....ہوشیارباش

  

لاہورآکر ہر بار نئی سے نئی باتیں سننے میں آتی ہیں یا ان کا مشاہدہ ہوتاہے، لیکن اس بار معلومات میں جواضافہ ہوا،اس پر پہلے تو یقین نہیں آیا، لیکن جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو اعتبار کرنا پڑا.... ”خادمِ اعلیٰ “ کے دورِ حکومت میں خاص طور پر ہم یہی سمجھتے تھے کہ پولیس کا فرض عوام کی خدمت اور ان کے جان ومال کی حفاظت ہے، جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر کہیں کوئی قبضہ گروپ کسی ذمہ دار شریف شہری کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کرے تو یہ حرکت میں آکر اس جائیداد کو بچانے کے لئے اس شہری کی مدد کے لئے فوراً پہنچے گی، لیکن کم از کم میرے علم میں نہیں تھا کہ خود پولیس کسی شہری کی جائیداد ہتھیانے کے لئے سرگرم ہوجائے گی....یہ قصہ جو میں آپ کو سنانے جارہا ہوں، اس میں ایسا ہی ہوتا محسوس ہوتاہے۔ ایبٹ روڈ پر چند دوستوں کے ساتھ چلتے پھرتے ایک دیوار پر پینٹ کیا ہوا یہ نوٹس پڑھنے کو ملا کہ ”مشتری ہشیار باش“ ....معراج سنٹر کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لئے خبردار کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی شخص اس پلازے کے حوالے سے لین دین نہ کرے“۔ یہ نوٹس پڑھنے کے بعد اس کی گہرائی میں گئے تو ایسی کہانی سننے کو ملی جو جتنی ناقابلِ یقین ہے، اتنی ہی درد ناک بھی ہے۔

پتہ چلا کہ ایبٹ روڈ پر محفلِ سینما کے ساتھ ہی ایک صاحب جہانگیر طارق شیخ کا گھر تھا ،جہاں وہ قیامِ پاکستان کے بعد خوش وخرم اپنی فیملی کے ہمراہ رہتے تھے ،ان کے چالیس سال کی عمر کے قریب صاحبزادے کی پیدائش بھی اسی گھر میں ہوئی تھی۔ معراج سنٹر کے تہہ خانے میں جب جہانگیر طارق شیخ سے ہماری ملاقات ہوئی تو اس گھر میں پیدا ہونے والے ان کے صاحبزادے بھی وہاں موجود تھے ۔آج سے تقریباً پچیس،تیس سال قبل طارق صاحب روزگار کے سلسلے میں برطانیہ گئے ، جہاں انہوں نے خاصی کمائی کی، بلکہ ابھی بھی ان کا باقاعدہ قیام برطانیہ میں ہے۔ جب ایبٹ روڈ پر سارا علاقہ کمرشلائز ہونا شروع ہوا تو انہوں نے سوچا کہ اس جگہ کی تجارتی اہمیت کے باعث یہاں پلازہ بنالیا جائے اور اپنی فیملی کے لئے ڈیفنس میں گھر تیار کرلیا۔ جنوری 2005ءمیں انہوں نے اپنا گھر مسمار کردیا تو آس پاس کے لوگوں کے علم میں آگیا کہ بیرون ملک آباد ایک سرمایہ دار پاکستانی یہاں تجارتی مرکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ،بیرون ملک آباد جو پاکستانی اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ،ان کے ساتھ ہر جگہ جو سلوک ہوتا ہے ،اس کا آغاز بھی یہاں ان کے ساتھ ہوگیا۔

 جب تک جہانگیر طارق شیخ کی فیملی اس گھر میں رہتی تھی، اس گھر کی ملکیت کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ تھا، نہ ہی اس کے بارے میں کسی فرد یا ادارے کا کلیم موجود تھا۔ گھر مسمار ہوکر تجارتی مرکز بننے لگا، تو معمول کے مطابق قبضہ گروپ حرکت میں آگیا، لیکن اس مرتبہ جو گروپ میدان میں آیا وہ خود پولیس کا تھا....اس گھر کے عقب میں پولیس کے تحقیقاتی شعبے کا مرکز ہے، جس کے پاس 22کنال زمین ہے۔اس وقت پڑوس کے اس دفتر میں چودھری شفقات ایس ایس پی تھے، جن کے منہ میں پانی آیا تو انہوں نے پولیس کے محکمے کی بجائے ذاتی حیثیت میں سول عدالت میں دعویٰ کردیا کہ یہ قطہ زمین دراصل پولیس کے بڑے قطے کا حصہ ہے۔سینئر سول جج مظفر علی شاہ نے ان کا دعویٰ خارج کر دیا اور ملکیت کا فیصلہ جہانگیر طارق شیخ کے حق میں کردیا۔ بعد میں ایک ڈی آئی جی مشتاق سکھیرا نے 2006ءمیں نیا دعویٰ دائر کیا۔ اسے بھی خارج کردیا گیا، بلکہ عدالت نے غلط دعویٰ دائر کرنے کی بنا پر تین ہزار روپیہ جرمانہ بھی کردیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس کی طرف سے سب دعوے ذاتی حیثیت میں کئے جاتے رہے، کیونکہ محکمے کی طرف سے دعوےٰ کرنے کے لئے حکومت پنجاب کی طرف سے اجازت حاصل کرنا ضروری تھی، جو پولیس افسران نہیں لینا چاہتے تھے۔ بعد میں ایک اور ڈی آئی جی ذوالفقار حمید نے ہائی کورٹ میں رٹ کردی جس کا بنیادی مقصد پولیس کو جرمانے کی سزا معاف کرانا بھی تھا۔ اب عدالت نے دوسری پارٹی کو سنے بغیر ملکیت کے بارے میں سابقہ فیصلوں کو معطل کردیا ہے۔اس جائیداد کے مالک نے1973ءمیں اس گھر کے ٹرانسفر کے بارے میں سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے ضروری دستاویزات بھی عدالت میںپیش کردی تھیں۔

 ایک صاحب جو اپنے گھر میں رہتے تھے تو کسی کو اعتراض نہیں تھا، وہ تجارتی مرکز بنانے لگے تو مخصوص مافیا حرکت میں آگیا کہ بیرون ملک کمائی کرنے والے پاکستانی بزنس مین سے ”اپنا حصہ“ نکلوایا جائے۔ ابھی تک تو وہ صاحب قائم ہیں کہ وہ قیامِ پاکستان سے اس گھر میں رہ رہے ہیں، اس گھر میں پیدا ہونے والے بچے ،اب بچوں کے باپ ہوچکے ہیں،وہ اپنی حق حلال کی کمائی سے یہ تجارتی مرکز بنا رہے ہیں اور ارادہ ان کا یہ ہے کہ وہ کسی کو اس میں سے ناجائز طور پر کوئی حصہ نہیں دیں گے۔ وہ حکومت پنجاب سے انصاف کے حصول کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ ہم خود ایک بیرون ملک آباد بھائی کے حق کے لئے آواز بلند کررہے ہیں، پنجاب کے آئی جی کو ہم بھی ”مشتری ہوشیار باش“ کا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ایک شریف شہری کو پولیس کے قبضہ گروپ سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، وہ حرکت میں آجائیں تو پھر شاید”خادمِ اعلیٰ“ کے دروازے کی گھنٹی بجانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

مزید : کالم