مغل پورہ اموات: قاتل گیس یا گیس والے؟

مغل پورہ اموات: قاتل گیس یا گیس والے؟
مغل پورہ اموات: قاتل گیس یا گیس والے؟

  

کراچی کے خراب حالات کی وجہ سے کئی سرمایہ دار اور بڑے لوگوں نے اپنے کاروبار محفوظ علاقوں کی طرف منتقل کئے یا پھر ملک سے ہی باہر لے گئے ہیں تو کئی غریب اور محنت کش بھی متاثر ہوئے، بعض روزگار سے محروم ہوئے تو ایسے بھی کثیر تعداد میں ہیں جو بیوی بچوں کی عزت اور جان کے خوف میں مبتلا ہیں اور وہ بھی کراچی سے باہر جانے کی فکر میں رہتے ہیں، لیکن موت تو انسان کا ہر جگہ پیچھا کرتی ہے۔اللہ نے حضرت عزرائیل کی ڈیوٹی لگائی تو ان کو ایسی اہلیت بھی دی ہے کہ وہ وقت مقررہ پر متعلقہ فرد کی روح قبض کرلے چاہے وہ غار ہی میں جا کر کیوں نہ چھپ جائے۔

کراچی سے نقل مکانی کرنے والا محنت کش حیدر علی بھی اسی خوف سے لاہور آ گیا تھا کہ نامعلوم کب اور کس وقت حالات خراب ہوں تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا پھر بیوی بچوں میں سے کسی کا غم برداشت کرنے پر مجبور ہو، لیکن اسے یہ کیسے معلوم ہو سکتا تھا کہ وہ قتل کرنے والے ظالموں سے تو بچ کر آ گیا ہے، لیکن جو انسان قدرتی نعمت کو موت کے زہر میں بدلنے والے ہیں وہ تو یہاں بھی موجود ہیں اور وہ نہ صرف اس کی بلکہ اس کی بیوی اور بچوں کی جان بھی لے لیں گے۔یہ اجتماعی اموات قتل تو ہوں گی لیکن کوئی بھی الزام نہیں لگا سکے گا اور ہر کوئی یہی کہے گا وقت پورا ہوگیا۔

حیدر علی محنت کش تھا، وہ مصنوعی جیولری بنانے کا کام کرتا تھا، دو ماہ قبل اس نے کراچی سے منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔لاہور میں اپنے عزیز و اقربا سے بات کی اور بیوی بچوں کو لے کر مغل پورہ آ گیا۔یہاں اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا، اور اسی جگہ سونے کھانے اور بیٹھنے کے علاوہ مصنوعی جیولری بھی بنانے کا سلسلہ شروع کردیا، اسے پیٹ بھرنے کے لئے کام ملنے لگا اور وہ مطمئن ہو گیا تھا کہ کام چل نکلا تو بہتر جگہ منتقل ہو جائے گا۔غریب کا تو یہی حال ہوتا ہے کہ ”گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا“ابھی تو اسے دو ماہ ہی ہوئے تھے، بہرحال وہ اس حد تک مطمئن تھا کہ یہاں محفوظ ہے اور بچے بھی مطمئن ہیں، لیکن اسے کیا خبر تھی کہ کراچی میں ٹارگٹ کلر ہیں تو یہاں پورے کا پورا محکمہ ہی قاتل کی حیثیت میں ہے۔

حیدر علی کے پاس سامان بھی مناسب تھا، سردی شدید تھی،اسے کمرے میں قدرتی گیس کی سہولت حاصل تھی، اس نے سردی سے بچنے کے لئے گیس کا ہیٹر لیا، یہ تو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ہیٹر کی صورت میں وہ اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی موت خرید کر لے آیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کے سٹاف رپورٹر کے مطابق حیدر علی معمول کے مطابق ہیٹر جلا کر بیوی بچوں کے ساتھ سو گیا، لیکن یہ نیند ابدی نیند میں تبدیل ہوگئی،صبح کے وقت مالک مکان کو احساس ہوا کہ کمرے سے کوئی باہر نہیں آیا، دیکھنے کے لئے اس طرف آئے تو بو محسوس ہوئی،کمرہ کھولا گیا تو ایک دم گیس کی شدید بو کا سامنا ہوا، دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ کمرہ تو گیس سے بھرا ہوا ہے، چاروں میاں بیوی اور بچے ہل جل نہیں رہے۔گیس کے اخراج کے بعد جب دیکھا تو چاروں ابدی نیند سو چکے تھے۔شور مچ گیا، حیدر علی کے رشتہ داروں کو اطلاع دی گئی ، پولیس کو بھی مطلع کیا گیا تو بظاہر یہی احساس ہوا کہ کمرے میں گیس بھر جانے سے چاروں افراد دم گھٹ کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔

حیدر علی اور اس کی بیوی یاسمین جوان سال تھے ان کے دونوں بچے 6اور4سال کے تھے بڑے کا نام انس اور چھوٹے کا حسن تھا، معصوم بچے کھیلتے کودتے بڑے اچھے لگتے تھے۔میاں بیوی بھی کم گو اور ملنسار تھے۔حیدر علی کو کام ہی سے فرصت نہیں ملتی تھی۔ہمارے رپورٹر نے صرف یہ لکھا کہ گیس ہیٹر کی وجہ سے گیس لیک ہوتی رہی اور کمرہ بھر گیا تھا لیکن تکنیکی اعتبار سے اس میں ابہام ہے، قدرتی طور پر ایسا نہیں ہوا یہ تومحکمہ سوئی گیس کی مہربانی ہے اور ان اموات کا نوحہ لکھتے وقت یہی احساس بھی ہو رہا ہے اور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ چاروں اموات محکمہ کی مہربانی سے قدرتی نہیں، غیر قدرتی ہیں اور قتل کے زمرے میں آتی ہیں، اگر حیدر علی کے حالات اس کی کراچی سے لاہور آمد اور بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں رہائش اور پھر موت پر ادب جھاڑا جائے تو یہ افسانہ ہی نہیں ناول بن جائے گا، صیاد ان کو کراچی میں تو قابو نہ کر سکے، لیکن یہاں اس شہر میں جس نے اسے امان دی تھی۔گیس قاتل بن گئی اور اس کی ذمہ داری یقینا محکمے پر عائد ہوتی ہے۔پولیس نے تو معمول کے مطابق نعشیں قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیں، حیدر علی کے یہاں موجودہ رشتہ داروں نے بھی قدرتی امر جان کرکسی نوع کی کارروائی سے معذرت کرلی اور نعشیں تدفین کے لئے مانگی ہیں۔

یہ سب اپنی جگہ لیکن ہمارے خیال میں یہ اموات قدرتی تو اس صورت میں ہیں کہ کسی نے گولی نہیں ماری۔کلہاڑا نہیں چلایا، تشدد نہیں کیا، لیکن قتل اس لئے ہیں کہ محکمہ گیس کی وجہ سے کمرہ گیس سے بھرا اور چاروں کی اموات کا باعث بن گیا۔قارئین، انہی سطور میں چند روز قبل گیس کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ایسے خدشات کا اظہار کیا تھا، کیونکہ سوئی گیس والے بھی گیس شیڈنگ کرتے ہیں اور یہ بھی کسی اعلان کے بغیر ہوتی ہے، اچھی بھلی گیس جل رہی ہوتی ہے کہ اچانک آنا بند ہو جاتی ہے، ہم نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو کسی روز کوئی گیزر بم بن جائے گا، دھماکہ جانی اور مالی نقصان کا باعث بن جائے گا، کیونکہ جلتے گیزر بھی اس وقت بند ہو جائیں گے جب اچانک گیس بند ہوگی اور پھر جب گیس بحال ہوگی تو صحیح ہوتی چلی جائے گی جونہی گھر والے گیزر کے لئے ماچس جلا کر گیس جلانے کی کوشش کریں گے تو دھماکہ ہو جائے گا،یہ تو ہمیں بھی خیال نہیں تھا اور نہ ہی تصور کیا تھا کہ ایسی بندش چار زندگیوں کے چراغ گل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ہمیں یقیں ہے کہ حیدر علی نے ہیٹر جلایا تو گیس کا پریشر معقول ہوگا کہ ہیٹر کام کرنے لگا تھا، اب یہی تصور کیا جا سکتا ہے کہ رات کے کسی پہر اس علاقے کی گیس بند ہوئی گیس شیڈنگ کی گئی تو یہ ہیٹر بھی بند ہوگیا اور پھر گیس بحال ہوئی تو ہیٹر بند ہونے کی وجہ سے گیس کا اخراج شروع ہوا جس سے کمرہ بھرا اور یہی گیس چاروں اموات کا باعث بن گئی، یہ ہم اس لئے تحریر کررہے ہیں کہ شہر کے مختلف حصوں میں اچانک گیس کی بندش بھی معمول ہے ، خصوصاً رات کو گیس شیڈنگ ہوتی ہے، ہمارا یہاں گہری تحقیق کا دستور نہیں اور پولیس بھی یقینا ان اموات کو قدرتی قرار دے کر رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کرکے سکھ کا سانس لے گی اگر کسی ترقی یافتہ ملک میں ایسا ہوا ہوتا تو یقینا گہری چھان بین ہوتی، ایسا یہاں بھی ہو تو آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کب گیس بند ہوئی اور کب پھر بحال ہوگئی، اب تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ دست قاتل ایک نہیں اور یہ جانیں بھی ضائع گئیں۔

مزید : کالم