عوام سے مو¿ثرابلاغ کی ضرورت

عوام سے مو¿ثرابلاغ کی ضرورت

مستونگ میں زائرین کی بس پر حملے سے چوبیس زائرین کے جاں بحق اور پنتیس کے زخمی ہونے کے بعد بدھ کے روز ایک بار پھرمستونگ کے علاقے میں سیاہ باطن دہشت گردوں نے سپین سے براستہ ایران آنے والے دو سائیکلسٹوں اور ان کے محافظ لیویز کے اہلکاروں پر حملہ کرکے چھ جوانوں کو شہید اور گیارہ کو زخمی کردیا ۔ ایک حملہ آور بھی جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔ ادھر خیبر پختونخوا میں چارسدہ میں پولیو ٹیم کی حفاظت کے لئے مامور پولیس وین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔جس سے ایک بچہ اور چھ اہلکار شہید ہوگئے۔مستونگ میں زائرین کی بس پر خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے ۔جاں بحق ہونے والے زائرین کی میتوں کے ساتھ کوئٹہ میں سوگوار خاندانوں نے دھرنا دیا اور کہا ہے کہ جب تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا وہ میتوں کو نہیں دفنائیں گے۔ وزیر اعلی بلوچستان نے دھرنا دینے والوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ کوئٹہ کو دہشت گردوں نے گھیر رکھا ہے انہوں نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی۔کوئٹہ کے علاوہ زائرین کی بس پر حملے کے خلاف لاہور ، کراچی اور اسلام آباد میں بھی مجلس وحدت المسلمین کی اپیل پر احتجاج کیا گیا ، مجلس نے تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے لئے تیس تیس لاکھ روپے اور بچے کے لواحقین کے لئے پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو شہید کرنے والوں اور اسلامی ملک کی حفاظت کے ذمہ دار سپاہیوں پر حملے کرنے والوں کے متعلق ذرا سی بھی عقل رکھنے والے لوگ بڑی آسانی سے ان کے اسلام دشمن ہونے کی دوٹوک رائے قائم کرسکتے ہیں۔ اس ذہنی الجھاﺅ سے عوام کو نکالنا اور انہیں شفاف طور پر اپنے دشمن کو پہچاننے میں مدد دینا ہی اس وقت ہماری قومی قیادت کے سامنے سب سے اہم مسئلہ ہے ،جس وجہ سے وہ یک سو ہو کر دشمن کے ان گماشتوں پر بھرپور اور سخت ہاتھ ڈالنے سے گریز کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت کو بھی اپنا فرض ادا کرنا چاہئیے۔ بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والوں کو کسی بھی صورت میں اسلام یا پاکستان کے خیر خواہ نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان میں کسی بھی مذہبی فرقے کے لوگوں کی دوسرے فرقوں کے لوگوں سے دشمنی نہیں ہے یہ صرف باہر سے بھاری رقوم وصول کرنے والے لوگ ہی ہیں جو مال لے کر عام لوگوں کو اسلام اور اسلام کے جہادی تصورات کے متعلق گمراہ کرتے ہیں۔ اسلام کا اپنے پیروکاروں کے لئے یہ کھلا حکم ہے کہ اگر کوئی ان پر حملہ کرے تو وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور اسے پوری طرح سبق سکھائیں۔ افغانستان کے حالات اور معاملات سے قطع نظر اس وقت ہمیں اپنے وطن پر ہونے والے پے درپے حملوں کی فکر کرنی ہے ۔ مکار دشمن سے اور اس کی طرف سے مختلف بہانوں سے ہمارے خلاف بھڑکائے ہوئے دہشت گردوں سے نمٹنا ہے۔ یہ ہمارے ملکی دفاع اور قومی بقاءکا مسئلہ ہے ۔ اس سلسلے میں قوم کے پاس ان بد باطن لوگوں کے نظریات اور مذموم مقاصد کے متعلق پیدا کردہ مغاطوں میں الجھنے کا وقت نہیں ہے۔ بندوق کا جواب بندوق سے دینے اور پوری طرح متحد ہو کر ان کے سامنے کھڑے ہونے کا وقت ہے۔

عوام پر لازم ہے کہ وہ کچھ ہی عرصہ قبل انتخابات میں چنی ہوئی اپنی حکومت کے پیچھے کھڑے ہوں ۔دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے متعلق تمام ضروری معلومات اور ان سے لڑنے اور انہیں عبرت کا نشان بنادینے کی طاقت ہمارے پاس موجود ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس نازک موقع پر جمعیت العلماءاسلام (ف)کے مولانا فضل الرحمن نے فوجی آپریشن کی مخالفت کردی ہے اور مولانا سمیع الحق طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں وزیراعظم کی طرف سے خود کو سونپی گئی ذمہ داری سے الگ ہوگئے ہیں۔ مذاکرات صرف ان سے ہوتے ہیں جو جنگ نہ کریں ، مذاکرات کی بات چلے تو اپنی کارروائیاں بند کرکے مذاکرات کے لئے کوئی وقفہ دیں ۔ اگر یہ حضرات قوم پر واضح کرسکیں کہ دہشت گردوں کے کون سے گروہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور دہشت گردی سے رکے ہوئے ہیں تو ان کی طرف حکومت صلح کا ہاتھ بڑھا سکتی ہے۔ لیکن دہشت گردوں کی وحشیانہ اور مذموم کارروائیوں کا ا فوج کی طرف سے جواب نہ دینے کی خواہش ظاہر کرنے سے آخر یہ قائدین چاہتے کیا ہیں؟کیا یہ قوم کے ہاتھ باندھ کر رکھنا چاہتے ہیں۔؟ یا اس سے ان کی مراد دسیدھے سادے مسلمانوں کے اذہان میں جہاد اور قومی دفاع کے متعلق مغالطوں کو قائم رکھنا ہے۔ ؟ ان لوگوں کے برعکس تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بہت موزوں اور مناسب موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ ہیںلیکن اگر آپریشن کرنا ہے تو انہیں اعتماد میں لیا جائے۔ ان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے اپوزیشن کا مینڈیٹ ملنے کے باوجود حکومت ناکام اور ملک دشمن کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان کا یہ کہنا بھی وزن رکھتا ہے کہ قبائلی عوام کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی تھی ۔

حکومت کسی خطے کے تمام عوام کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکتی ۔ دہشت گرد جب کسی علاقے میں اپنے ٹھکانے بناتے ہیں تو چند ایک سادہ لوح لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے علاوہ کچھ لوگوں کو خریدتے اور لالچ دیتے ہیں اور اکثریت کو اپنے اسلحہ اور طاقت کے زور پر یرغمال بنا لیتے ہیں۔ ان علاقوں کے عوام سے سیاسی قیادت بات کرے ، ان کے شکوک اور مغالطوں کو دور کرے تو محب وطن عوام کی مدد سے دہشت گردوں کی گردنیں شکنجے میں لانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مذاکرات کرنے پر زور دینے کا یہی مفہوم ہے کہ پاکستان اور مسلمانوں سے محبت رکھنے والے اچھے قبائلی عوام سے افہام و تفہیم پیدا کی جائے۔ اس وقت ہماری حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ اپنے عوام کے ساتھ موثر ابلاغ ہے اور اسی حد تک مذاکرات والی بات وزن رکھتی ہے۔ عوام کی اکثریت اور بھاری اکثریت ہر جگہ پاکستان اور اسلام سے محبت رکھنے والی ہے۔ لیکن عوام کو مغالطوں اور شکوک میں مبتلا کرکے دشمن اپنا کام کررہا ہے۔ اگر حکومتی جماعتوں کی طرف سے اپنے بااعتماد ساتھیوں کی مدد سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ایسے علاقوں کے عوام تک حقیقی رسائی حاصل کی جاتی ۔ ان علاقوں کے ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح کے لئے اربوں کھربوں روپے کے دیئے گئے فنڈز خورد برد کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوجاتے تو پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ دشمن کے گماشتے ان علاقوں میں عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے یا کسی کو نوگو ایریاز قائم کرنے کی جرا¿ت ہوسکتی۔

 آج بھی عوام سے رابطوں اور ان کے حقیقی رہنماﺅں اور موثر لوگوں سے مذاکرات کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی ،کوئٹہ کی طرف سے بذریعہ سٹرک ایران جانے والے زائرین کے ساتھ بار بار ایسے اندوہناک اور دل دہلا دینے والے افسوسناک واقعات پیش آچکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کوئٹہ کی اس مخصوص آبادی کی حفاظت کے حقیقی انتظامات ابھی تک نہیں ہوسکے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ان پر پاکستانی حکومت کو کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں پوری قوم غمزدہ ہے اور اپنے سوگوار بھائیوں کے غم میں شامل ہے۔ تاہم دھرنے دے کر اپنے اور قوم کے غم کو اور زیادہ شدید کرنے اور دشمنان اسلام کی خوشی کا سامان کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ حکومت سوگوار خاندانوں کی تسلی و تشفی کے لئے ان کی بات پر کان دھرے اور اس سفاکی کے مستقل اور موثر علاج کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ ان دکھی خاندانوں کے بڑوں سے مشاورت کے بعد زیارتوں کے لئے جانے والوں کے لئے اس وقت تک سفر کے متبادل ذرائع کا انتظام کردیا جائے جب تک کہ حکومت ان راستوں کے ارد گرد موجود انسانیت دشمن لوگوں کا صفایا کرکے پاکستان اور ایران کو ملانے والے ان راستوں کو محفوظ بنانے کے قابل یقینی انتظامات نہیں کرلیتی۔ اگر ان واقعات کے پیچھے کسی طرح کی قبائلی عصبیت اور سیاسی معاملات کا عمل دخل ہے تو اس صورت میں بھی سیاسی قیادت کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ یہاں بھی علاقے کے لوگوں سے موثر ابلاغ کے ذریعے عوام کو مغالطے ،مشکلات اور دہشت گردوں کے نرغے سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کے اپنے پاﺅں جمانے کے ایک ہی جیسے بندھے ٹکے حربے ہر جگہ استعمال ہورہے ہیں ۔ وہ دشمنان اسلام کی نفرت کو آگے بڑھانے کے لئے طاقت استعمال کرتے ہیں ۔ ہر جگہ پاکستان کے دشمن انہیں پراپیگنڈے کے لئے بہت موثر لائن مہیا کرتے ہیں ، ان کی طرف سے مقامی لوگوں کے لالچ اور مغالطوں میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ طاقت سے انہیں خوفزدہ کیا جاتا اور یرغمال بنایا جاتا ہے۔ سیاسی قیادت کی جڑیں عوام میں ہوں تو پھر ایسے بگڑے ہوئے معاملات کو سدھارنا اس کے لئے مشکل نہیں ہوتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قیادت آسمان اقتدار سے نیچے اتر کر عوام کی صفوں تک بھی پہنچے اور صدق دلی سے انہیں دہشت گردوں کے پنجے سے چھڑانے کے لئے اپنے مخلص اور محب وطن کارکنوں کا تعاون حاصل کرے۔

عوام سے مو¿ثرابلاغ کی ضرورت

مستونگ میں زائرین کی بس پر حملے سے چوبیس زائرین کے جاں بحق اور پنتیس کے زخمی ہونے کے بعد بدھ کے روز ایک بار پھرمستونگ کے علاقے میں سیاہ باطن دہشت گردوں نے سپین سے براستہ ایران آنے والے دو سائیکلسٹوں اور ان کے محافظ لیویز کے اہلکاروں پر حملہ کرکے چھ جوانوں کو شہید اور گیارہ کو زخمی کردیا ۔ ایک حملہ آور بھی جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔ ادھر خیبر پختونخوا میں چارسدہ میں پولیو ٹیم کی حفاظت کے لئے مامور پولیس وین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔جس سے ایک بچہ اور چھ اہلکار شہید ہوگئے۔مستونگ میں زائرین کی بس پر خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے ۔جاں بحق ہونے والے زائرین کی میتوں کے ساتھ کوئٹہ میں سوگوار خاندانوں نے دھرنا دیا اور کہا ہے کہ جب تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا وہ میتوں کو نہیں دفنائیں گے۔ وزیر اعلی بلوچستان نے دھرنا دینے والوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ کوئٹہ کو دہشت گردوں نے گھیر رکھا ہے انہوں نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی۔کوئٹہ کے علاوہ زائرین کی بس پر حملے کے خلاف لاہور ، کراچی اور اسلام آباد میں بھی مجلس وحدت المسلمین کی اپیل پر احتجاج کیا گیا ، مجلس نے تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے لئے تیس تیس لاکھ روپے اور بچے کے لواحقین کے لئے پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو شہید کرنے والوں اور اسلامی ملک کی حفاظت کے ذمہ دار سپاہیوں پر حملے کرنے والوں کے متعلق ذرا سی بھی عقل رکھنے والے لوگ بڑی آسانی سے ان کے اسلام دشمن ہونے کی دوٹوک رائے قائم کرسکتے ہیں۔ اس ذہنی الجھاﺅ سے عوام کو نکالنا اور انہیں شفاف طور پر اپنے دشمن کو پہچاننے میں مدد دینا ہی اس وقت ہماری قومی قیادت کے سامنے سب سے اہم مسئلہ ہے ،جس وجہ سے وہ یک سو ہو کر دشمن کے ان گماشتوں پر بھرپور اور سخت ہاتھ ڈالنے سے گریز کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت کو بھی اپنا فرض ادا کرنا چاہئیے۔ بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والوں کو کسی بھی صورت میں اسلام یا پاکستان کے خیر خواہ نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان میں کسی بھی مذہبی فرقے کے لوگوں کی دوسرے فرقوں کے لوگوں سے دشمنی نہیں ہے یہ صرف باہر سے بھاری رقوم وصول کرنے والے لوگ ہی ہیں جو مال لے کر عام لوگوں کو اسلام اور اسلام کے جہادی تصورات کے متعلق گمراہ کرتے ہیں۔ اسلام کا اپنے پیروکاروں کے لئے یہ کھلا حکم ہے کہ اگر کوئی ان پر حملہ کرے تو وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور اسے پوری طرح سبق سکھائیں۔ افغانستان کے حالات اور معاملات سے قطع نظر اس وقت ہمیں اپنے وطن پر ہونے والے پے درپے حملوں کی فکر کرنی ہے ۔ مکار دشمن سے اور اس کی طرف سے مختلف بہانوں سے ہمارے خلاف بھڑکائے ہوئے دہشت گردوں سے نمٹنا ہے۔ یہ ہمارے ملکی دفاع اور قومی بقاءکا مسئلہ ہے ۔ اس سلسلے میں قوم کے پاس ان بد باطن لوگوں کے نظریات اور مذموم مقاصد کے متعلق پیدا کردہ مغاطوں میں الجھنے کا وقت نہیں ہے۔ بندوق کا جواب بندوق سے دینے اور پوری طرح متحد ہو کر ان کے سامنے کھڑے ہونے کا وقت ہے۔

عوام پر لازم ہے کہ وہ کچھ ہی عرصہ قبل انتخابات میں چنی ہوئی اپنی حکومت کے پیچھے کھڑے ہوں ۔دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے متعلق تمام ضروری معلومات اور ان سے لڑنے اور انہیں عبرت کا نشان بنادینے کی طاقت ہمارے پاس موجود ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس نازک موقع پر جمعیت العلماءاسلام (ف)کے مولانا فضل الرحمن نے فوجی آپریشن کی مخالفت کردی ہے اور مولانا سمیع الحق طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں وزیراعظم کی طرف سے خود کو سونپی گئی ذمہ داری سے الگ ہوگئے ہیں۔ مذاکرات صرف ان سے ہوتے ہیں جو جنگ نہ کریں ، مذاکرات کی بات چلے تو اپنی کارروائیاں بند کرکے مذاکرات کے لئے کوئی وقفہ دیں ۔ اگر یہ حضرات قوم پر واضح کرسکیں کہ دہشت گردوں کے کون سے گروہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور دہشت گردی سے رکے ہوئے ہیں تو ان کی طرف حکومت صلح کا ہاتھ بڑھا سکتی ہے۔ لیکن دہشت گردوں کی وحشیانہ اور مذموم کارروائیوں کا ا فوج کی طرف سے جواب نہ دینے کی خواہش ظاہر کرنے سے آخر یہ قائدین چاہتے کیا ہیں؟کیا یہ قوم کے ہاتھ باندھ کر رکھنا چاہتے ہیں۔؟ یا اس سے ان کی مراد دسیدھے سادے مسلمانوں کے اذہان میں جہاد اور قومی دفاع کے متعلق مغالطوں کو قائم رکھنا ہے۔ ؟ ان لوگوں کے برعکس تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بہت موزوں اور مناسب موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ ہیںلیکن اگر آپریشن کرنا ہے تو انہیں اعتماد میں لیا جائے۔ ان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے اپوزیشن کا مینڈیٹ ملنے کے باوجود حکومت ناکام اور ملک دشمن کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان کا یہ کہنا بھی وزن رکھتا ہے کہ قبائلی عوام کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی تھی ۔

حکومت کسی خطے کے تمام عوام کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکتی ۔ دہشت گرد جب کسی علاقے میں اپنے ٹھکانے بناتے ہیں تو چند ایک سادہ لوح لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے علاوہ کچھ لوگوں کو خریدتے اور لالچ دیتے ہیں اور اکثریت کو اپنے اسلحہ اور طاقت کے زور پر یرغمال بنا لیتے ہیں۔ ان علاقوں کے عوام سے سیاسی قیادت بات کرے ، ان کے شکوک اور مغالطوں کو دور کرے تو محب وطن عوام کی مدد سے دہشت گردوں کی گردنیں شکنجے میں لانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مذاکرات کرنے پر زور دینے کا یہی مفہوم ہے کہ پاکستان اور مسلمانوں سے محبت رکھنے والے اچھے قبائلی عوام سے افہام و تفہیم پیدا کی جائے۔ اس وقت ہماری حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ اپنے عوام کے ساتھ موثر ابلاغ ہے اور اسی حد تک مذاکرات والی بات وزن رکھتی ہے۔ عوام کی اکثریت اور بھاری اکثریت ہر جگہ پاکستان اور اسلام سے محبت رکھنے والی ہے۔ لیکن عوام کو مغالطوں اور شکوک میں مبتلا کرکے دشمن اپنا کام کررہا ہے۔ اگر حکومتی جماعتوں کی طرف سے اپنے بااعتماد ساتھیوں کی مدد سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ایسے علاقوں کے عوام تک حقیقی رسائی حاصل کی جاتی ۔ ان علاقوں کے ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح کے لئے اربوں کھربوں روپے کے دیئے گئے فنڈز خورد برد کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوجاتے تو پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ دشمن کے گماشتے ان علاقوں میں عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے یا کسی کو نوگو ایریاز قائم کرنے کی جرا¿ت ہوسکتی۔

 آج بھی عوام سے رابطوں اور ان کے حقیقی رہنماﺅں اور موثر لوگوں سے مذاکرات کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی ،کوئٹہ کی طرف سے بذریعہ سٹرک ایران جانے والے زائرین کے ساتھ بار بار ایسے اندوہناک اور دل دہلا دینے والے افسوسناک واقعات پیش آچکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کوئٹہ کی اس مخصوص آبادی کی حفاظت کے حقیقی انتظامات ابھی تک نہیں ہوسکے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ان پر پاکستانی حکومت کو کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں پوری قوم غمزدہ ہے اور اپنے سوگوار بھائیوں کے غم میں شامل ہے۔ تاہم دھرنے دے کر اپنے اور قوم کے غم کو اور زیادہ شدید کرنے اور دشمنان اسلام کی خوشی کا سامان کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ حکومت سوگوار خاندانوں کی تسلی و تشفی کے لئے ان کی بات پر کان دھرے اور اس سفاکی کے مستقل اور موثر علاج کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ ان دکھی خاندانوں کے بڑوں سے مشاورت کے بعد زیارتوں کے لئے جانے والوں کے لئے اس وقت تک سفر کے متبادل ذرائع کا انتظام کردیا جائے جب تک کہ حکومت ان راستوں کے ارد گرد موجود انسانیت دشمن لوگوں کا صفایا کرکے پاکستان اور ایران کو ملانے والے ان راستوں کو محفوظ بنانے کے قابل یقینی انتظامات نہیں کرلیتی۔ اگر ان واقعات کے پیچھے کسی طرح کی قبائلی عصبیت اور سیاسی معاملات کا عمل دخل ہے تو اس صورت میں بھی سیاسی قیادت کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ یہاں بھی علاقے کے لوگوں سے موثر ابلاغ کے ذریعے عوام کو مغالطے ،مشکلات اور دہشت گردوں کے نرغے سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کے اپنے پاﺅں جمانے کے ایک ہی جیسے بندھے ٹکے حربے ہر جگہ استعمال ہورہے ہیں ۔ وہ دشمنان اسلام کی نفرت کو آگے بڑھانے کے لئے طاقت استعمال کرتے ہیں ۔ ہر جگہ پاکستان کے دشمن انہیں پراپیگنڈے کے لئے بہت موثر لائن مہیا کرتے ہیں ، ان کی طرف سے مقامی لوگوں کے لالچ اور مغالطوں میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ طاقت سے انہیں خوفزدہ کیا جاتا اور یرغمال بنایا جاتا ہے۔ سیاسی قیادت کی جڑیں عوام میں ہوں تو پھر ایسے بگڑے ہوئے معاملات کو سدھارنا اس کے لئے مشکل نہیں ہوتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قیادت آسمان اقتدار سے نیچے اتر کر عوام کی صفوں تک بھی پہنچے اور صدق دلی سے انہیں دہشت گردوں کے پنجے سے چھڑانے کے لئے اپنے مخلص اور محب وطن کارکنوں کا تعاون حاصل کرے۔

مزید : اداریہ