تل ابیب میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، اسرائیل

تل ابیب میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، اسرائیل

تل ابیب(آن لائن)اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے، جس کے تحت منصوبہ بندی کی جا رہی تھی کہ تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا جائے۔اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبہ بندی کے تناظر میں تین فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے ایک کا تعلق مغربی کنارے سے ہے جب کہ دیگر دو یروشلم کے رہائشی ہیں اور یہ افراد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری سے براہ راست ہدایات لے رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ القاعدہ کی اعلیٰ ترین قیادت اسرائیل میں کسی دہشت گردانہ کارروائی کی منصوبہ بندی میں براہ راست ملوث ہوئی ہے۔اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملزمان تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کے علاوہ متعدد دیگر مقامات کو بم حملوں کا نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

اسرائیل خفیہ ایجنسی شِن بیت کے مطابق، حراست میں لیے جانے والے تینوں فلسطینیوں کا منصوبہ تھا کہ وہ بم دھماکے، فائرنگ اور شہریوں کو اغوا کریں۔ اس ایجنسی کے مطابق یہ تینوں افراد غزہ پٹی میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری سے رابطہ رکھنے والے ایک عسکریت پسند کے ذریعے اس منصوبے میں شامل ہوئے۔ ادھر واشنگٹن حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس اسرائیلی دعویٰ کی صداقت کی تصدیق نہیں کر سکتا۔شِن بیت کے مطابق، ان ملزمان کا منصوبہ تھا کہ یہ یروشلم کانفرنس سینٹر پر آتشی اسلحے کے ذریعے حملہ کریں اور وہاں امدادی سرگرمیوں کے لیے پہنچنے والے کارکنان کو ٹرک بم کے ذریعے قتل کریں جب کہ القاعدہ اسی روز غیرملکی عسکریت پسندوں کو اسرائیل میں بھیج کر امریکی سفارت خانے کو بم حملوں کا نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتی تھی۔ شِن بیت کے مطابق پانچ افراد جعلی روسی پاسپورٹوں پر اسرائیل میں بھیجے جانا تھے، تاکہ وہ امریکی سفارت خانے پر حملوں میں شامل ہوں۔ اسرائیل کی جانب سے ان افراد کی اصل شہریت ظاہر نہیں کی گئی ہے، نہ یہ بتایا گیا ہے کہ ان افراد کو کہاں سے اسرائیل پہنچنا تھا۔ اس ایجنسی کے مطابق غزہ پٹی میں موجود القاعدہ کا کارندہ اسی روز اسرائیل میں مزید دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث تھا۔ایجنسی کے مطابق یہ منصوبہ ’ایڈوانسڈ پلاننگ اسٹیج‘ پر تھا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ایسی کسی کارروائی سے کتنا دور تھے۔دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے اس خبر پر تبصرے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال ان اسرائیلی دعووں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا اس معاملے کی جانچ پڑتال کر رہا ہے۔

مزید : عالمی منظر