دل کے امراض اور فالج عرب دنیا میں بڑے امراض کی شکل میں سامنے آئے ،سعودی اخبار

دل کے امراض اور فالج عرب دنیا میں بڑے امراض کی شکل میں سامنے آئے ،سعودی اخبار

دبئیریاض(اے پی اے )سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وبائی امراض کی بجائے دل کے امراض اور فالج عرب دنیا میں سب سے بڑے امراض کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ طبی جریدے لینسٹ کے مطابق مغربی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس رجحان کی وجہ لائف اسٹائل سے متعلق مسائل ہیں۔طبی ماہرین کے ایک کنسورشیم نے عرب لیگ میں شامل 22 ممالک میں صحت سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس وسیع تحقیق کے لیے انہوں نے 1990ءسے 2010ءتک کے طبی اعداد وشمار کا تجزیہ کیا۔ اس رپورٹ کو ”2010ئ گلوبل برڈن آف ڈیزیز“ کا نام دیا گیا ہے۔1990ءمیں ریسپیریٹری انفیکشن یا سانس سے متعلق وبائی امراض طبی مسائل میں سرفہرست تھے اور 11 فیصد اموات کی وجہ بنتے تھے۔

اسی طرح ناقص خوراک کے ساتھ ساتھ مردہ بچوں کی بلند شرح پیدائش کے نتیجے میں بھی اموات کی شرح بہت زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی۔ ان طبی ماہرین کے مطابق یہ مسائل کمورو جزائر، جبوتی، موریطانیہ، صومالیہ اور یمن جیسے کم آمدنی والے عرب ممالک میں اب بھی موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی وی کو چھوڑ کر باقی وبائی امراض میں اجتماعی طور ان ممالک میں کمی واقع ہوئی ہے۔اس اسٹڈی کے مطابق 2010ئ میں عرب ممالک میں اموات کی سب سے بڑی وجہ دل سے متعلق امراض تھے اور ان کی شرح 14.3 فیصد تھی۔ 1990ئ میں یہ وجہ دوسرے نمبر پر تھی۔ اس تحقیق کے مطابق 2010ئ میں اموات کی دوسری بڑی وجہ فالج اور اس کے بعد بالترتیب ریسپیریٹری انفیکشن، اسہال، ذیابیطس اور سڑکوں پر ہونے والے حادثات کا نمبر آتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ڈپریشن، خوف اور اضطراب، گھریلو تشدد، کمر اور گردن میں درد وغیرہ ان علاقوں میں صحت سے متعلق بڑھتی ہوئی اور عام وجوہات ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ تمام چیزیں دراصل یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ علاقہ وبائی امراض کے حوالے سے ایک تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیماریوں کے حوالے سے یہ صورتحال دراصل مغربی یورپ، امریکا اور کینیڈا سے ملتی جلتی ہے۔اس اسٹڈی میں مزید کہا گیا ہے، ”نشہ آور ادویات اور شراب کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل عرب دنیا میں آج دو دہائیاں قبل کے مقابلے میں قبل از وقت اموات اور معذوری کی زیادہ وجہ بن رہے ہیں۔“ مزید یہ کہ سڑک پر پیش آنے والے حادثات بھی صحت کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔تاہم اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی کے باوجود، ”عرب دنیا میں اوسط عمر اور شیرخوار بچوں اور دوران حمل ماو¿ں کی اموات کم کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔

مزید : عالمی منظر