مراکش میں جنسی زیادتی کے قانون میں تبدیلی

مراکش میں جنسی زیادتی کے قانون میں تبدیلی

 ربا ط(آن لائن)مراکش کی پارلیمان نے ملکی تعزیراتی قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے اس شق کا خاتمہ کر دیا ہے، جس کے تحت کسی کمسن لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے والے کسی شخص کو اس وقت مقدمے سے بری کر دیا جاتا تھا، جس سے وہ سے شادی کر لے۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق مراکش کی پارلیمان کی جانب سے اس قانون میں تبدیلی متفقہ طور پر سامنے آئی۔ ملکی تعزیراتی قانون میں شامل اس شق کے خاتمے کے بعد اب کسی کمسن لڑکی کے ساتھ زنا بالجبر میں ملوث کسی شخص کو متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے پر چھوٹ حاصل نہیں رہے گی۔ مراکش کے تعزیراتی قانون کے تحت اگر کوئی شخص کسی کمسن لڑکی سے جنسی زیادتی کرے، تو اسے اس وقت مقدمے سے بری کر دیا جاتا تھا، جب وہ اس لڑکی سے شادی کر لے۔ اس ملکی قانون پر عوامی سطح پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ملکی قانون کی دفعہ 475 پر عوامی سطح پر شدید تنقید ایک مرتبہ پھر ابھی حال ہی میں تب شروع ہو گئی جب 16 سالہ لڑکی امینہ الفلالی سے جنسی زیادتی کرنے والے شخص کے ساتھ اس کی زبردستی شادی کر دی گئی۔ شادی کے سات ماہ بعد اس لڑکی نے سن 2012ءمیں خودکشی کر لی تھی۔ اس کے والدین اور عدالتی جج نے ’خاندانی عزت‘ کے تحفظ کے لیے اس لڑکی کی زبردستی شادی کر دی تھی۔

امینہ الفلالی کے واقعے کے بعد عوامی سطح پر اس قانون پر شدید تنقید کا ایک مرتبہ پھر آغاز ہو گیا۔ جس کے بعد ملکی پارلیمان نے تعزیراتی قانون سے اس شق کو ختم کر کے ایسے کسی جرم میں ملوث شخص کو ’جبری شادی‘ کے عوض معافی کا راستہ ختم کر دیا۔ خبر رسا ں ادارے کے مطابق جبری شادی کی روایت صرف مراکش ہی میں نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ، پاکستان، بھارت اور افغانستان میں بھی ملتی ہے، جہاں کسی لڑکی کے اپنی دوشیزگی کھو دینے کو خاندانی وقار پر ایک دھبہ سمجھا جاتا ہے۔34 ملین آبادی کے ملک مراکش میں، جہاں غربت اور ناخواندگی کی سطح خاصی بلند ہے، شادی کے لیے قانونی عمر 18 برس ہے، تاہم جج حضرات عمومی طور پر کم عمری کی شادیوں کو سند فراہم کرتے رہتے ہیں۔مراکش میں نئے خاندانی قانون کو سن 2004ءمیں منظور کیا گیا تھا، جس میں ماضی کے مقابلے میں خواتین کے حقوق پر زور دیا گیا تھا، تاہم اس قانون پر اسلام پسندوں کی جانب سے شدید احتجاج بھی سامنے آیا تھا۔ مراکش میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ملکی قانون سازوں پر زور دے رہی ہیں کہ وہ جنسی زیادتی سے متعلق قوانین کو نئے سرے سے مرتب کریں۔

مزید : عالمی منظر