ترشاوہ پھلوں کی عالمی مارکیٹ کا سالانہ حجم 2.135 ارب ڈالر ہے

ترشاوہ پھلوں کی عالمی مارکیٹ کا سالانہ حجم 2.135 ارب ڈالر ہے

سلام آباد (اے پی پی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹری کے سینئر ممبر احمد جواد نے کہا ہے کہ ترشاوہ پھلوں کی عالمی مارکیٹ کا سالانہ حجم 2.135 ارب ڈالر ہے جس میں پاکستان کا حصہ صرف 2.5 فیصد یعنی 33 ملین ڈالر ہے، برآمدات کو بڑھا کر عالمی منڈی سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔یہاں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستانی کینو بڑی برآمدی آئٹم بن چکی ہے لیکن حقیقی بڑی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات اور تحقیقی سرگرمیوں کی کمی ہے، کینو کی ملکی صنعت کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ مڈل مین کے کردار کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ کینو کے برآمد کنندگان کو چاہئے کہ وہ براہ راست کاشتکاروں سے کینو خریدیں اور آڑھتیوں کو زیادہ قیمت کی ادائیگی کی بجائے کسانوں کو فائدہ پہنچائیں ۔ جس سے ان کی دلچسپی اور امدنی میں اضافہ سے کینو کی پیداوار پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے منصوبہ سازوں کو برآمدی کھیپوں سے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئیے۔

انہوں نے کہاکہ کینو کے معیار میں مزید بہتری کیلئے کرم کش ادویات کے استعمال کی جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ، گزشتہ چند سالوں کے دوران کینوں کی بڑی درآمدی مارکیٹیں پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں کیونکہ وائرس جراثیم کے خاتمہ کے لئے مربوط حکمت عملی نہیں اپنائی گئی۔ احمد جواد نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ملک میں کینو کے معیار اور پیداوار میں بہتری کے لئے بہت تھوڑا کام کیا گیا ہے،

پاکستان ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کا اصل کردار طویل المعیادپالیسی سازی کا ہے تاہم کمپنی صرف سامنے آنے والے مسائل پر ہی توجہ مرکوزکرتی چلی آرہی ہے ۔

 ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ترشاوہ پھلوں کی سالانہ پیداوار 20 لاکھ ٹن سالانہ ہے جس میں 90 فیصد حصہ کینو کا ہے ایک سوال کے جواب پر احمد جواد نے بتایا کہ ترشاوہ پھلوں کی عالمی منڈی کا سالانہ حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہے۔لیکن بدقسمتی سے اتنے بڑے بین الاقوامی کاروبار میں پاکستان کا حصہ صرف 2.5 فیصد بنتا ہے جو انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ 33 لاکھ ڈالر کی برآمدات کرتا ہے یورپی ممالک کے مارکیٹوں میںپاکستانی کینو صحیح جگہ نہیں بنا سکا جس کی وجہ کینو میں پائے جانے والے بیجوں کی زیادتی ہے ۔ ایک اور سوال پر احمد جواد کا کہنا تھاکہ ہم اس وقت تک بڑی یورپی منڈیوں سے استفادہ نہیں کرسکیں گے جب تک ہمارے برآمد کنندگان جی اے پی ‘ ایس پی ایس سمیت دیگر سرٹیفکیٹس کے بارے میں مکمل طو رپر آگاہ نہ ہوں جو نجی شعبہ کی برآمدات کے لئے از حد ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے جن کے تحت جدید ترین لیبارٹریز کے قیام اور اہل افراد کا تقرر کرنا ہوگا تاکہ برآمدات کے فروغ کے لئے ضروری سرٹیفکیٹس کے اجراءکے حوالے سے برآمد کنندگان کو سہولت دی جاسکے جس سے یورپی منڈیوں کو برآمدات بڑھنے سے قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں اضافہ ہوگا۔

مزید : کامرس