موسم سرما میں بجلی کی شدید ترین لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالا تر ہے

موسم سرما میں بجلی کی شدید ترین لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالا تر ہے

راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک)راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر شمائل داﺅد آرائیں نے کہا ہے کہ موسم سرما میں بجلی کی شدید ترین لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالا تر ہے ، گھریلو اور کمرشل صارفین کےلئے گیس کی مکمل بندش کے بعد شہروں میں 10سے 12گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 15سے 20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ظلم کے مترادف ہے ، یہی حکمران گزشتہ حکومت کے دور میں بلند بانگ دعوے کرتے تھے اور عوامی مظاہروں میں شرکت کرتے تھے مگر حکومت میں آنے کے بعد وہی باتیں سننے کو مل رہی ہیںجو گزشتہ حکومت کر چکی ہے،گیس کی بندش ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے پہلے کی انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا ہے رہی سہی کسر سردیوں میں بجلی کی غیر متوقع لوڈشیڈنگ نے پوری کر دی ہے، کاروباری آرڈر زپورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے اور مجموعی طور پر بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں ۔حکومت اس حوالے سے جلد ہی کوئی حکمت عملی وضع کرے اور مسئلے کے فوری حل کےلئے عملی اقدامات اٹھائے بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری حکومت ِ وقت پر ہو گی۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے چیمبر میں تاجروں و صنعتکاروں کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا اس موقع پر سینئر نائب صدر ملک شاہد سلیم، نائب صدر محمد عالم چغتائی اور دیگر اراکین چیمبر بھی موجو دتھے۔ڈاکٹر شمائل داﺅد نے کہا کہ جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہے وہاں لودشیڈنگ بھی بڑھائی جائے اور بجلی چوروں کو خواہ وہ ملک کے کسی بھی کونے میں ہوں کو قانون کے کٹہرے میں لا یا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جا ئے ۔انہوں نے خاص طور پر راولپنڈی میں شدید تر ہوتی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ۔

صدر چیمبر نے کہا کہ کاروباری برادری کسی بھی بحران کے خاتمے کے لیے حکومت کی مدد کو تیا رہے مگر حکومت بھی سنجیدگی سے عوامی مسائل پر توجہ دے اور سیاسی مقاصد کو پس پشت ڈال کر ملکی ترقی میں کاروباری طبقہ کا ساتھ دے۔حکومت کو چاہےے کہ منصفانہ پالیسیاں اپنائے سیاسی مقاصد پر قومی مقاصد کو ترجیح دی جائے تاکہ ملک کو ترقی کی طرف گامزن کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معاشی ترقی میں اہم کر دار کرتا ہے موجودہ حالات میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ناممکن ہے۔ اکیسویں صدی میں ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے حکمران عوام کے ٹیکسز سے شاہ خرچیاں کر رہے ہیں۔ انہوںنے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ توانائی بحران اور خاص طور پر بجلی کے بحران پر نہ صرف قابو پایاجائے بلکہ قیمتوں کو بھی کم کیا جائے۔

مزید : کامرس