کرکٹ بورڈ کے کھیل کی بہتری کیلئے جارحانہ فیصلے

کرکٹ بورڈ کے کھیل کی بہتری کیلئے جارحانہ فیصلے

پاکستان کرکٹ بورڈ آجکل ٹیم اور کھیل کی بہتری کے لئے بھرپور اقدامات کرنے میں مصروف ہے اور اس حوالے سے چیئرمین بورڈ ذکاءاشرف بہت متحرک ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں اپنی واپسی کے بعد ان میں جو جو ش و جذبہ نظر آرہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ وہ جو اقدامات کررہے ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے سری لنکاکے خلاف حالیہ سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے جس عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے ذکاءاشرف کی واپسی خوش آئند ضرور ہے لیکن ان کےلئے ایک مرتبہ دوبارہ بے شمار چیلنجز ہیں اور یقینی طور پر ان کےلئے ان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا ان کے لئے سب بے بڑا چیلنج ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا ہے اور اس سے قبل بھی وہ اس حوالے بھرپو ر اقدامات کرچکے ہیں اور ان کی کوششیں بھی سب کے سامنے ہیں لیکن ابھی تک ان کو کامیابی نہیں ملی ہے لیکن ایک مرتبہ دوبارہ وہ اس پوزیشن پر آگئے ہیں کہ اس حوالے سے کوششوں کا آغاز کریں اور امید ہے کہ اس حوالے سے وہ آئی سی سی سے رابطہ کرکے پاکستان میں کھیلی جانے والی سیریز کا پاکستان میں انعقاد اور اس کےلئے ہمسایہ ملک بھارتی کرکٹ ٹیم کی پاکستان کے دورہ کےلئے اقدامات کریں گے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کےلئے ابتدائی کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان بھی کردیا ہے اور ان کھلاڑیوں میں نوجوان کھلاڑیوں کو بڑی تعداد میں شامل کیا گیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ ٹیم کا جب حتمی اعلان ہوگا تو اس میں بھی زیادہ تر نوجوان کھلاڑی ہی ٹیم کاحصہ ہوں گے جبکہ ابھی ٹیم کے لئے کپتان کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور محمد حفیظ اور آفریدی میں سے ایک کپتان کےلئے منتخب کیا جائے گا او ر اس حوالے سے دو رائے پائی جارہی ہیں اور محمد حفیظ اور آفریدی دونوں اس عہدے کے لئے فیورٹ قرار دئیے جارہے ہیں جلد ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ ہوجائے گا پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کوچ کے لئے کمیٹی کا قیام بھی خوش آئند ہے اور اس میں میانداد ، وسیم اکرم جیسے شہرہ آفاق کھلاڑیوں کی شمولیت اچھی بات ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں ٹیم کےلئے کیسا کوچ ہونا چاہئیے اور کون ٹیم کو بلندیوں پر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے امید ہے کہ نیا کوچ جو بھی ہوگا وہ ٹیم کےلئے بہتر ثابت ہوگا بہرحال بورڈ کے فیصلہ تو بہت مثبت ہیں لیکن ان پر عمل درآمد ہو نا بہت ضروری ہے کیونکہ جب تک عمل درآمد نہیں ہوتا اس وقت تک ان کا زبانی جمع خرچ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس سے کھیل کو فائدہ ہونے کے بجائے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی