کیا آپ نے ”وار“دیکھی ہے

کیا آپ نے ”وار“دیکھی ہے
کیا آپ نے ”وار“دیکھی ہے

  

میں اس ہال میں موجود تھا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پنجاب میں کوئلے کے ذریعے چھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے تین سالہ منصوبے کا اعلان کر رہے تھے۔ ایمانداری سے بات کی جائے تو بجلی کی پیداوار اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے جتنے اقدامات کئے جا رہے ہیں اگر ان میں سے آدھوں پر بھی عمل ہوجائے تو اگلے انتخابات سے پہلے اتنی بجلی ہو گی کہ بیچنے والے زیادہ اور خریدنے والے کم ہوجائیں گے۔ انہوں نے دس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا بھی خواب دکھایا اور کہا کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی نو روپے یونٹ کاسٹ کرے گی ،یہ درآمدی تیل سے پیدا ہونے والی بجلی سے کم و بیش نصف خرچ ہے۔ پنجاب میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے پلانٹ لگنے سے ایک ضمنی فائدہ پاکستان ریلویز کو بھی ہو گا، کوئلے کی کراچی سے ٹرانسپورٹیشن ریلوے کی ذمہ داری ہو گی اورا سے ایک بڑا کمرشل کلائنٹ ملنے سے خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی، اس کول پراجیکٹ سے پہلے ملازمتوں کے براہ راست ہزاروں اور پھر توانائی بحران ختم ہونے سے بالواسطہ لاکھوںمواقع بھی پیدا ہوں گے لہذا عمومی طور پر اس منصوبے کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ میرے تو وزیراعلیٰ سے دو سوال تھے، میں یقین سے کہتا ہوں کہ انہوںنے میرے سوال پوری طرح سمجھے اور لمبے چوڑے جواب میں ان کے دوٹوک جواب گول کر گئے۔ میں نے پوچھا کہ کیاآپ وعدہ کرتے ہیںکہ جب سستی بجلی پیدا ہو گی تو آپ بجلی کی موجودہ قیمت بھی کم کر دیں گے ، دوسرے اس وقت پنجاب کا صنعتکار سندھ اور خیبر پختونخواہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی بجلی خرید رہا ہے، کیا یہ پنجاب کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی دونوں مسائل سے نمٹنے کے لئے تو یہ پراجیکٹ شروع کئے جا رہے ہیں۔۔۔ مجھے ان سے زیادہ واضح جواب کی توقع تھی۔

وزیراعلیٰ سے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال امن و امان کی صورتحال بارے تھے۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب چھ سو ساٹھ میگا واٹ کے دو پلانٹ خود لگائے گا ، اس کے ساتھ ساتھ ایک طے شدہ طریقہ کار کو فالو کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے لئے اشتہارات جاری کئے جائیں گے۔ سوال یہ تھا کہ آپ کی حکومت دہشت گردی کو تو کنٹرول نہیں کر سکی، ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کار یہاں کا رخ کیوں کریں گے اور یہ واقعی بہت اہم سوال ہے جس کے واضح جواب سے ابھی تک ہماری حکومت گریز کر رہی ہے۔مسلم لیگ نون کی حکومت ابھی تک ان لوگوںکے شدید ترین دباو¿ میں ہے جو دہشت گردی کی خوفناک ترین کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کو اپنا کہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے دہشت گردی میں ملوث گروپوں کو اپنا کھلا اور واضح دشمن ڈیکلئیر کر دیا تو اس سے وہ اسلام پسند ووٹروں کی بڑی تعداد میں ہم دردیاں کھو بیٹھیں گے حالانکہ ابھی تک تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی اندازہ نہیں ہو سکا کہ ان کے ووٹر، سپورٹراور دیوانے ملک میں طالبانائزیشن چاہنے والے نوجوان اور گھرانے ہرگز نہیں تھے۔ یہ وہ کھاتے پیتے اور پڑھے لکھے لوگ تھے جو ملک میں روزگار کے بہترین مواقع، واضح نظر آنے والی معاشی اور ترقیاتی سرگرمیاں اور ٹینشن سے پاک ہلے گلے والی تفریحی سرگرمیاں چاہتے تھے۔ عمران خان نے اپنے سٹیج سے پاپ میوزک سناتے سناتے انہیں سد منور حسن کے لاو¿ڈسپیکر کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ یہ وہ واحد مقام ہے جہاں عمران خان، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں جس روز ان کے ووٹر کو دکھائے جانے والے خواب اور حقیقت میں اس تضاد کا اندازہ ہوا، وہ اس لاو¿ڈ سپیکر کے سامنے سے دوڑ لگا دے گا۔

مجھے سید منور حسن کے حوصلے پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کی ہر بدترین کارروائی کے بعد گرجتے اور برستے ہیں کہ حکومت نے طالبان سے مذاکرات میں خلوص کا مظاہرہ نہیں کیا مگر دوسری طرف سے جس روئیے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس پر ان کے ماتھے پر شکن تک نمودار نہیں ہوتی۔ اسی طرح عمران خان کہتے ہیں کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کرنے میں ناکام ہو گئی، کیا دلچسپ صورتحال ہے گویاعمران خان کی حکومت والے صوبے میں ان کے دوست، مذاکرات کی میز سجائے انتظار کر رہے تھے اور حکومت غیر سنجیدہ روئیے کا مظاہرہ کرتی رہی۔ طالبان کا کیس لڑنے والے انہیں مذاکرات پر آمادہ تک نہیں کر سکے اور یہ آمادگی بھی اس وقت ظاہر ہوئی جب پاک فوج نے آپریشن شروع کیا۔ یار دوست پریشان ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے امن کا آپشن ختم ہونے جا رہا ہے اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ طاقت سے جنم لیتا ہے مذاکرات سے نہیں، مکمل امن اسی وقت ہوتا ہے جب ایک فریق سرنڈر کرتا ہے، آپ فتح مکہ کی داستان پڑھ کے دیکھ لیجئے۔افسوس کیا جا رہا ہے کہ اب پاکستان کے ایک خطے میں جنگ شروع ہوجائے گی اور مجھے کہنے دیجئے کہ ایک خطے میں شروع ہونے والی جنگ پورے پاکستان میں جاری جنگ کا راستہ روک دے گی۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت پاکستانی حالت جنگ میں نہیں ہیں تو یہ اس کی خام خیالی ہے، ہاں، اتنا ضرور ہے کہ اس وقت یک طرفہ جنگ لڑی جا رہی ہے، پاکستانیوں پر حملے ہو رہے ہیں مگردوسری طرف ان کی محافظ ریاست مذاکرات کے ذریعے امن کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اب فیصلہ تو صرف یہ کرنا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کا دفاع کرتے ہوئے جوابی جنگ شروع کر ے گی یا نہیں۔ دہشت گردی کو جہاد کا نام دے کر جواز دیا جاتا ہے مگر یہ کیسا جہاد ہے جو مسلسل کلمہ گوپاکستانیوں کے خلاف جاری ہے، جس کا نشانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معیشت بن رہی ہے۔

کیا آپ نے بلال لاشاری کی فلم ” وار“ دیکھی ہے، بلال لاشاری ہمارے بہت ہی ٹیلنٹڈ بیوروکریٹ کامران لاشاری کے صاحبزادے ہیں۔ انگریزی زبان میں بننے والی فلم کو اردو میں ڈب کر کے پیش کیا گیا ہے اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس فلم کی تیار ی میں پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر نے بھی تعاون کیا ہے، یہ فلم پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کھڑکی توڑ بزنس کر رہی ہے، لندن جیسے شہر میں پاکستانی اس فلم کو دیکھنے جاتے ہیں تو انہیں ٹکٹ نہیں ملتی۔ جو لوگ اس کنفیوژن کا شکار ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اسلامی نظام حیات چاہنے والوں کے خلاف جنگ ہو گی، انہیں ایک مرتبہ یہ فلم ضرور دیکھ لینی چاہئے۔ انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ طالبان کی دو اقسام ہیں، ایک اچھے طالبان ہیں جو اس نبی برحق کی تعلیمات اور سنتوں پر عمل کرنے والے ہیں جنہیں تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کے بھیجا گیا، جن کا ظرف یہ تھا کہ انہوں نے اس عورت کو بھی کلمہ پڑھنے پر معاف کر دیا جس نے ان کے پیارے چچا کا کلیجہ چبا لیا تھا۔ ان طالبان کی مخالفت کوئی اسلام دشمن ہی کر سکتا تھا مگر دوسری طرف وہ گروہ ہیں جو طالبان کا نام استعمال کرتے اور ملک میں دہشت گردی کو ایک دھندے کے طور پر چلاتے ہیں۔ انہیں بھارت، افغانستان اور اسرائیل سمیت خود کش حملہ آور بنانے کی فیکٹریاں چلانے کے لئے بھاری رقوم ملتی ہیں جس سے یہ خطرناک اور بھاری اسلحہ خریدتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی حدود میں شامل علاقوں میں اپنی ریاستیں قائم کرتے ہیں۔ وہاں مولویوں کے روپ میں اسلام اور پاکستا ن کے دشمن بچوں کی برین واشنگ کرتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایک سازش کے ذریعے پاکستان کو دوہرا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، یہ لوگ ایک خاص مکتبہ فکر کا نام استعمال کرتے اور اس کے ذریعے دوسرے فرقے کے لوگوں کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔ ا س سے جہاں امن و امان کی حالت خراب ہوتی ہے وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

میں طالبان سے مذاکرات کو سیاسی نعرے کے طور پرسب سے زیادہ استعمال کرنے والے سیاسی رہنما کا آئی کیو لیول ڈسکس نہیں کرنا چاہتا مگر اپنے سید منور حسن، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق جیسے جلیل القدر علمائے کرام سے ضرور سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد اسے سازش قرار دیتے ہیں ۔۔ تو کیا آپ واقعی طالبان کا نام استعمال کر کے ملک میں آگ لگانے والوں کی اس سازش کو نہیں سمجھ پا رہے ۔۔ اور کیا آپ نے بھرپور رسپانس لینے والی فلم ” وار“ دیکھی ہے؟

مزید : کالم