بھارت میں غریب’پریمی‘ لڑکی سے پنچائیت کے حکم پر اجتماعی بداخلاقی ، حالت تشویشناک

بھارت میں غریب’پریمی‘ لڑکی سے پنچائیت کے حکم پر اجتماعی بداخلاقی ، حالت ...
بھارت میں غریب’پریمی‘ لڑکی سے پنچائیت کے حکم پر اجتماعی بداخلاقی ، حالت تشویشناک

  

نئی دہلی ، کولکتہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں محبت کرنے اور رشتہ مانگنے کی پاداش میں پنچائت کے فیصلے کے مطابق غربت کی وجہ سے جرمانے کی رقم ادانہ کرسکنے پر پنچائیت نے لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا حکم دے دیا جس پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے 13’درندوں ‘ نے  لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، لڑکی ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑر ہی ہے۔بھارت دن بدن خواتین کے لئے ایک خطرناک ملک بنتا جا رہا ہے جہاں تازہ ترین مثال مغربی بنگال میں سامنے آئی ،پنچائت کے حکم پر تیرہ افراد نے ایک لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔میڈیارپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع راجا رام پور گاو¿ں میں لڑکی کو پڑوس کے گاو¿ں چوہاٹا کے ایک غیر قبائلی لڑکے کے ساتھ محبت ہو گئی۔ چند دن پہلے شادی کی تجویز لے کر جب لڑکا، لڑکی کے گھر گیا تو گاو¿ں والوں نے دیکھ لیا اور پنچایت بلا لی۔ پنچایت کی کارروائی کے دوران لڑکے اور لڑکی کو ہاتھ باندھ کر بٹھایا گیا۔ گاو¿ں کے پردھان کی ہدایت پربلائی گئی پنچائیت نے فیصلہ سنایا کہ دونوں کو 25، 25 ہزار روپے جرمانہ دینا ہو گا۔ لڑکے کے خاندان نے جرمانہ ادا کر دیا جبکہ لڑکی کے خاندان والے اس قابل نہ تھے کہ جرمانے کی رقم ادا کر سکتے اور پھر پردھان نے لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا حکم دیا۔ہسپتال میں متاثرہ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے اوروہ ذہنی طور پر بھی مفلوج ہوچکی ہے،یہ ہولناک فیصلہ اور واقعہ ہے۔ پولیس نے انسانیت کو شرمادینے والے واقعہ میں ملوث 13 افراد کو حراست میں لے لیا ہے ، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ بیربھوم میں اس قسم کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ،2010ءمیں گاو¿ں کے بزرگوں نے اسی طرح ایک غیر قبائلی لڑکے سے محبت کے جرم میں ایک لڑکی کو برہنہ کر کے گاو¿ں میں گھمانے کا حکم دیا تھا، واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی اور موبائل فون کے ذریعے اس کی تشہیر کی گئی۔

مزید : انسانی حقوق /اہم خبریں