سندھ دھماکوں سے گونج اٹھا، ایک گھنٹے میں 35 دستی بم حملے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

سندھ دھماکوں سے گونج اٹھا، ایک گھنٹے میں 35 دستی بم حملے، کوئی جانی نقصان نہیں ...
سندھ دھماکوں سے گونج اٹھا، ایک گھنٹے میں 35 دستی بم حملے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ کے مختلف شہروں میں ایک گھنٹے کے دوران 35 دستی بم حملے ہوئے جن کے نتیجے میں 1 شخص زخمی ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سوار ناگن چورنگی میں ایک پکوان سینٹر کے قریب دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔ حیدر آباد کے علاقے کوہ نور چوک، حیدر چوک اور قاضی عبد القیوم روڈ پر موٹر سائیکل سواروں نے 5 دستی بم پھینکے جس سے لوگوں میں شدید خوف وو ہر اس پھیل گیا۔ دادو میں ریشم گلی، پھاٹک سٹاپ، پوسٹ آفس، سٹیشن روڈ، پوسٹ آفس، تحصل دار آفس اور سرکٹ ہاﺅس کے قریب 7 دستی بم حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں سرکٹ ہاﺅس کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ قیوم آباد پل کے اوپر سے ایک شاپنگ سینٹر کے قریب 2 دیسی ساختہ دستی بم پھینکے گئے۔ خیر پور میں لقمان پھاٹک، خاکی شاہ پل اور سوک سینٹر میں 4 دستی بم حملے کئے گئے تاہم یہاں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ لاڑکانہ شہر اور رانی پور کے مختلف علاقوں میں 10 دستی بم حملے کئے گئے۔ محراب پور میں گاو¿ں الہ ڈنو کے قریب ریلوے ٹریک پر کریکر دھماکا ہوا تاہم ٹریک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کوٹری ،کنڈیارو ، جام شورو ، ٹھل اور ہالہ میں بھی کریکر دھماکے کئے گئے۔ پولیس کے مطابق دادوکے علاقے ملاح چوک پر دستی بم حملے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا تاہم ان حملوں کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ واضح رہے کہ جئے سندھ متحدہ محاذ نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے سندھ کی تقسیم سے متعلق بیان کے خلاف کل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جس سے ایک دن پہلے یہ دھماکے کئے گئے ہیں۔

مزید : سندھ /اہم خبریں