مولوی چالیس ہزار ی اور محفل میلاد ﷺ نے دنیا بدل دی

مولوی چالیس ہزار ی اور محفل میلاد ﷺ نے دنیا بدل دی

گلوبل پِنڈ( محمد نواز طاہر)ہر طرف ’سوہنا ﷺآیا تے سج گئے گلیاں بازار ‘ لاﺅڈ سپیکر پر سنا جارہا تھا ، ان گنت مخلوق درودو سلام میں مگن تھی اور میں اپنے’ پِنڈ ‘کے راستے پر تھا ۔تمام راستے نہ تو نبی کریم پر حسبِ خواہش درود بھیج سکا اور نہ ہی یہ جان سکا کہ میں ایسا کیوں نہیں کرسکا ۔ یہ جاننے کی مہلت کہاں تھی ، یہ تعجب نہیں کہ مجھ جیسے کئی یہ کہتے ہیں ہمیں تو نماز ادا کرنے کی بھی فرصت نہیں  لیکن یہ کوئی عذر جواز بھی نہیں ۔ میں  تمام راستے خود کلامی اور ’ سوہناﷺ آیا ‘گنگنانے میں مگن تھا ۔ ابھی درود شرف کا ایک لفظ ادا کرتا تھا تو ’سوہناﷺ آیا تے سج گئے گلیاں بازار ‘ کی آواز دہرانا شروع کردیتا تھا ، اسی دوران نعرہ رسالتﷺ کی صدا اٹھتی تو یا رسول اللہ کہتا ،ساتھ ہی ننھے منے بچے سبز جھنڈیاں ،زرق برق لباس میں لہراتے نظر آتے تو مجھے نواسہ ءرسول ﷺکا سفرِ شہادت بھی یاد آتا ،نبی کریم کا دربارعظیم بھی چشمِ تصور میں لاتا جہاں ہر کوئی بھلائی پاتا تھا، صحابہ کرام اور اس خطے میں اسلام کی تبلیغ کیلئے جابجا پھیلے اولیائے اور صوفیائے کے تھڑے اور درگاہیں بھی یاد آتیں ، کمسن بچوں کی طرح میں بھی عیدمیلادالنبیﷺ منانے کیلئے جا رہا تھا،میرے ذہن پر والدِ محترم کی قبر اور وہ لمحہ سوار تھا جب تدفین کے وقت میں ’ڈھیری ‘ کی مٹی برابر کر رہا تھا اور آنکھوں نے آنسوﺅں کا بند توڑ دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ اب باپ کا چہرہ کبھی نہیں دیکھوں گا۔باپ مجھے ہرگز نہیں ٹوکے گا کہ گدھے کم از کم عید کی نماز تو ادا کرلیا کر اور میں یہ جواب نہیں دے پاﺅں گا کہ مجھ سے منافقانہ’ جپھیاں‘ نہیںڈالی جاتیں اور پھر والدِ محترم مجھے دو چار’ جڑتے ‘ اورمزید سخت سست کہتے ہوئے نماز ادا کرنے چلے جائیں گے اور واپس آکر مجھے ڈھونڈیں گے ،تب تک میں اپنی مجلس سجا چکا ہوںگا جہاں مولوی کی اکٹھی کی ہوئی ’عیدی‘فطرانہ اور اس کے مستحقین زیرِ بحث ہونگے۔ آج بھی عید ہے ۔رحمت العالمین ﷺکا یومِ ولادتِ سعادت۔۔ ۔ اور یومِ وصال بھی ۔پِنڈ کے راستے میں ایک کھنڈر نے مجھے ایک اور باپ یاد دلادیا جو مڈل میں میتھ پڑھایاکرتے تھے ، کچھ اساتذہ انہیں ’وہابی ‘کہہ کا چھیڑا کرتے تھے ، وہ ذرا اونچا سنتے تھے اور جب ایسی بات سنتے تھے تو جواب نہیں دیتے تھے ، کبھی بھی میلادد ﷺکیلئے چندہ نہیں دیتے تھے لیکن جتنا چندہ دوسرے دیتے تھے ان سے کہیں زیادہ وہ ایسے طلباءکی فیس اور دوسری ضروریات پر خرچ کردیتے تھے جو تعلیمی اخراجات کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ،انہیں وہ چپکے سے اناج بھی دیا کرتے تھے۔وہ میتھ سے زیادہ دینیات کے استادتھے ۔ سکول سے ایک فرلانگ دور مسجد میں جماعت بھی کرا دیا کرتے تھے ۔یہ ’وہابیوں کی مسیت ‘ نہیں تھی۔گیارہویں شریف پر بھی وہ دعا کرایا کرتے تھے ۔اولیائے کرام کی عرس کے دن کلاس کے کئی بچوںکو یاد تھے، ظاہر ہے اس دن میتھ کا سخت پیریڈ گفتگو میں گذرتا تھا ۔پیدائشِ آدمؑ، واقعہ کربلا، رسولِ کریم کا آخری خطبہ ،برصغیر میں اشاعتِ اسلام میں اولیائے کرام کا کردار ،بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کی تحریک،مسلمان سلاطین ۔۔۔ یہ سب اسی روز مختلف انداز سے زیرِبحث آتے،ایک طرح سے یہ بزمِ ادب کا پیریڈ ہوتا۔یہ پیریڈ سہ ماہی ، ششماہی اور نوماہی ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ سالانہ امتحان میں کئی مضامین میں ’پاس‘ کرادیتا تھا۔

قبرستان میں فاتحہ اور شہرِ خاموشاں میں شور مچانے کے بعد واپس لوٹا تو میلادد کے انتظامات زیرِ بحث تھے،بڑے زورو شور سے بتایا گیا کہ مولوی ڈوگر کو چالیس ہزار روپے دیے ہیں ۔ یہ سنتے ہی بغاوت کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر لاچاری یہ تھی کہ میں اس تقریب سے باہر نہیں رہ سکتا تھا ، مذہب ،عقیدت اور سیاست سب کی زنجیر تھی ،انتظامات کرنے والے اختلاف رائے پر میرے مسلمان ہونے پر بھی فقرے چست کررہے تھے ۔دل میں سوچا کہ مولوی صاحب سے ان کی تقریر کے دوران ہی پوچھیں گے کہ حضرت ہمیں تو قرآن اور میتھ کے ساتھ دینیات پڑھانے والوں نے مولوی صاحب کو منہ مانگے دام لیکر کبھی وعظ نہیں سنایا بلکہ وہ تو اس کیلئے تعلیم اور اسلام فروش کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے ، کیا آپ چالیس ہزار روپے لئے بغیر میلاد ِ مصطفیٰ میں شریک نہیں ہوسکتے تھے؟

میں ابھی ماں جی کے پاس بیٹھا تھا جو منع کر رہی تھیں کہ مولوی صاحب کے بارے میں کوئی اِدھر اُدھر کی بات نہیں کرنی ۔ اسی دوران لایوڈ سپیکر پر اعلان ہوا کہ مولوی صاحب تشریف لے آئے ہیں ۔نقابت کے اصولوں کے مطابق یہ اعلان ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ اس کائنات کا سب سے بڑا اور آخری شعلہ بیان مقرر ہے، نعت شریف کا سلسلہ موقوف ہوچکا تھا اورنعرے لگ رہے تھے ۔۔۔یہیں بیٹھے بیٹھے معلوم ہوا کہ ملازم حسین ڈوگر گاڑی سے نہیں اتر رہے کیونکہ ابھی چالیس ہزار میں سے پانچ ہزار روپے کی ادائیگی باقی تھی ،میں نے فون پر اپنے بھتیجے کو پیغام دیا کہ مولوی صاحب کو گاڑی سے مت اتارو میں آکر یہ’ فریضہ ‘انجام دیتا ہو اور باقی’ ادائیگی ‘ بھی کرتا ہوں ، سنا ہے کہ پیغام کا دھماکہ ہوتے ہی مولوی صاحب نے ریمارکس دیے کہ ایسے لوگ تو ان محفلوں میں ہونے ہی نہیں چاہئیں جس پر انہیں بتادیا گیا کہ ’یہ ایسے لوگ بڑے خاص ہیں ، سارے پیسے چھین کر اچھے کام پر بھی لگا دیتے ہیں تو انہیں تھوڑی ’ٹھنڈ‘ پڑ گئی۔

 ماں جی پہلے ہی برس رہی تھیں کہ میں نے لنگر کی تقسیم میں مداخلت کیوں کی ۔ان کے پاس بیٹھے بیٹھے ’ مولوی چالیس ہزاری‘ کا خطاب شروع ہوگیا، آغاز کچھ یوں تھا ”اﺅے بریلوی ایمان والو“!۔۔۔میں نے ڈرے ڈرتے ماں سے یہ پوچھ لیا کہ ’ یہ کونسا اسلام اور ایمان ہے جو بریلوی ، دیو بندی ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔بندی ہے ؟ کیا یہ درسگاہیں قبل از اسلام کی ہیں ؟ اورہمارے بڑوں نے یہی اسلام قبول کیا تھا؟ اور یہ الگ قسم کا اسلام ہے؟ ، ان کے اللہ اور رسول بھی قبل از اسلام یا قبل مسیح سے  اسی طرح کاایمان رکھنے والے ہیں ؟جبکہ یہ تقاریر تو اس نبیﷺ کی نسبت سے اسی قران کا نام لیکر کرتے ہیں جو نبی کریم پر اس امت کی رہنمائی کیلئے نازل ہوا؟ ظاہر ہے ماں کے پاس وہی جواب تھا جو سب جانتے ہیں ۔ماں نے یہ کہہ کر چپ کرادیا کہ کل پیر ولائت شاہ آئیں گے تو ان سے سوال کرنا ۔ ماں جانتی تھیں کہ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں کیونکہ قاری نورنبی فیضی انہیں اپنے استاد کا درجہ دیتے تھے جبکہ قاری نور نبی فیضی نے قوت بینائی نہ ہونے کے باوجود کسی لالچ اور طمع کے بغیر مجھ سمیت بہت سے بچوں کو قرآن پڑھایا تھا اور والد صاحب کے قریب ہی لمبی تانے ہوئے ہیں ۔

شعلہ بیان مقرر اپنی اجرت حلال اور شرکاءدیگیں صاف کرچکے تھے ، میں مولوی صاحب کی’ خدمت‘ میں حاضر ہونے کیلئے اٹھا تو معلوم ہوا کہ ان کی گاڑی تو میری حد کراس چکی ہے ،مجھے افسوس تھا کہ میں مولوی صاحب سے چالیس ہزار روپے کا اسلامی اثرات کا سوال نہ کرسکا ۔ اسی دوران کئی لوگ یہ بھی کہتے سنے گئے ’ یار مولوی صاحب دی چس نئیں آئی‘یعنی مزا نہیں آیا ۔تب یہ بھی معلوم ہوا کہ محفل میں موجود ایک صاحب نے مولوی صاحب سے قرآن ِ حکیم کی ایک آیت کا ترجمہ اور تفسیر بیان کرنے کی درخواست کی تھی لیکن وہ بات گول اور تقریر مختصر کرگئے تھے۔

ماں نے مجھے ’پِنڈ ‘ میں روک رکھا تھا ۔ اگلے روز شرق والے کھوہ (ہماراپرانا کنواں ، جہاں اب ڈیرہ ہے) محفل ِ میلادﷺ تھی ، پیر ولایت شاہ نے تقریر کی ۔ ضروریاتِ اناج کے کام کی وجہ سے یہ تقریر کھیتوں میں ہی سنی جس سے اتنا علم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓکا پیدائشی نام عبدالکعبہ تھا، دعا میں شریک ہوا ، پیر صاحب سے ملاقات بھی ہوئی ، جنہوں نے چارپائی پر والدہ کو اپنے سرہانے بٹھایا اور خود پاینتی کی طرف ہوگئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ماں کو سرہانے نہ بٹھانے اور تکریم کرنے والا نبی کا حقیقی امتی اور آپ کی تعلیم پر علم پیرا نہیں ہوسکتا ، وہ نہ پیر ہے اور نہ عالم فاضل بلکہ اسے انسان کہنا بھی مناسب نہیں جو خود کو ماں سے افضل سمجھے ۔ ماں کی صحت کیلئے خصوصی دعا کے بعد انہوں نے خود ہی پچھلے دن کی محفل ِ میلاددﷺ کا تذکرہ کیا اور میرے بولنے سے پہلے ہی پوچھا مولوی صاحب کو کتنے پیسے دیے ، رقم کا سن کر اور میرے چہرے پر سوال کی آثار دیکھتے ہی بولے یہاں کے لوگوں کے پیسے ایسے ہی خرچ ہوں گے۔جب انہیں بتایا گیا کہ اگلے میلاد ِ مصطفیٰ پر قرا¾ت اور نعت خوانی کے مقابلے ہونگے۔ لنگر کی دیگیں کسی مستحق کی بیٹی کی بارات کیلئے استعمال اور چندہ بھی اور دوسرے اخراجات کیلئے استعمال ہوگا ۔ اس پر انہوں نے اس سوچ کی تکمیل کیلئے دعا کرائی لیکن میری اس بات کا جواب انہوں نے اثبات میں دیا کہ سلسلہ بریلوی ۔ ۔دیو بندی ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور بندی۔ کوئی بھی قبل از اسلام کا نہیں ۔ یہ درسگاہیں اسلام کی تریج کیلئے کام کرتی رہی ہیں ،اگروہاں کا کوئی فارغ التحصیل اپنے کردار سے نامناسب عمل کرے تو اس میں درسگاہیں نہیں بلکہ ان کا نام غلط طریقے سے استعمال کرنے والا غلط ہوسکتا ہے ۔ ان کی بات میں بہت وزن ہے لیکن مجھے چالیس ہزار روپے اور ہمار ے لوگوں کی سادہ لوہی بے چین کرتی ہے حالانکہ ہمارے مقامی مولوی صاحب کئی شعلہ بیان مقررین سے زیادہ موثر انداز میں بات کرتے ہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ جب اگلے سال چالیس ہزار روپے خرچ کئے بغیر قرا¾ت اور نعت خوانی ہوگی تو اس سے کتنے بچوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ان کا آگے بڑھنے اور مزید بچوں میں شوق پیدا ہوگا ، کتنی بچیاں اپنے گھر کی ہوسکیں گی ۔ کیونکہ ضرورت مند اور مساکین پر توجہ دینا ہی ہمارے نبیﷺ کا حکم ہے اور یہی اصل میلادد ﷺہے جانے یہ کل دیکھ سکوں گا یا نہیں اوراسی طرح فرصت یا مہلت نہیں دے گا جس طرح  ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ کام کاج میں نماز کی فرصت نہیں ملتی ۔ ۔۔۔۔ہمارا یہ عذر اور جواز قطعی طور  پر قابلِ قبول نہیں ۔ ۔ ۔

مزید : بلاگ