سانحۂ پشاور کے متاثرین کی نفسیاتی بحالی (2)

سانحۂ پشاور کے متاثرین کی نفسیاتی بحالی (2)
سانحۂ پشاور کے متاثرین کی نفسیاتی بحالی (2)

  

(B) آنکھیں بند کر کے ان خدشات کے بارے میں سوچیں۔ اگر آپ کے دماغ میں ان کی فلم چل رہی ہے تو مشق نمبر1کی مدد سے ان کو ختم کر دیں۔

(C) آنکھیں بند کر کے اپنے خدشہ کے بارے میں سوچیں۔ اگر تصویر بنے تو تصویر کو وہیں رہنے دیں اور تصور میں اپنے آپ کو بہت لمبا کر لیں۔ پھر نیچے دیکھیں تو آپ کو تصویر کچھ چھوٹی،غیر واضح اور مدھم سی نظر آئے گی اور آپ پُرسکون ہوں گے۔ اب اپنے آپ کو مزید لمبا کریں۔ پھر نیچے دیکھیں۔ اب آپ کو تصویر نظر نہیں آئے گی، بلکہ صرف ایک نقطہ نظر آئے گا اور آپ بالکل پُرسکون ہوں گے۔اس مشق کو5تا10بار دہرا لیں اب خدشات آپ کو تنگ نہ کریں، ضرورت پڑے تو مزید دہرا لیں۔

(7) کسی بھی صدماتی حادثے کے بعد بہت سے لوگ مختلف قسم کے وسوسوں اور منفی سوچوں کا شکار ہو جاتے ہیں جو ان کو بے چین کر دیتی ہیں۔ ان کے خاتمہ کے لئے یہ مشقیں کریں، جو مشق زیادہ موثر لگے اس کو بار بار دہرائیں حتیٰ کہ یہ آپ کو ڈسٹرب نہ کریں اور پُرسکون ہو جائیں۔

(i) جونہی کوئی منفی سوچ آئے تو فوراً دل میں یا بلند آواز سے کہیں ’’سٹاپ‘‘ پھر دھیان کو کسی دوسری طرف لے جائیں۔ سوچ بچار کریں، شاپنگ لسٹ بنائیں، پسندیدہ خیالات ذہن میں لائیں یا پھر آنکھیں بند کر کے کسی خوشگوار واقعہ کو ذہن میں لائیں۔ بار بار کریں حتیٰ کہ سوچ آنا بند ہو جائے۔

(ii) جونہی کوئی پریشان کرنے والی سوچ آئے تو ’’سٹاپ‘‘ کہیں اور پھر دل میں ہزار سے الٹی گنتی اور اسے مشکل بنائیں، کبھی دو پر تفریق کریں، کبھی3اور کبھی5، منفی سوچوں کو ختم کرنے کے لئے یہ ایک موثر طریقہ ہے۔

(iii) جونہی کوئی منفی سوچ آئے تو اپنا سانس روک لیں، جتنی دیر تک روک سکتے ہیں روکیں۔ سانس چھوڑتے وقت آنکھیں بند کر کے تصور کریں کہ یہ خیالات نیچے پیٹ، ٹانگوں اور پھر پاؤں سے باہر جا رہے ہیں۔

(iv) ان سوچوں کے لئے شام کے وقت ایک گھنٹہ مقرر کریں۔ کسی جگہ پُرسکون ہو کر بیٹھ جائیں۔ کوئی آپ کو ڈسٹرب نہ کرے۔ اب نامعقول خیالات کو کاغذ پر لکھتے جائیں۔اگر ایک ہی خیال ہے تو اسے بار بار ایک گھنٹے کے لئے لکھیں۔اگلے روز اسی وقت ایک گھنٹہ پڑھیں اور آخر میں کاغذات کو جلا دیں۔ ایک دن لکھیں اور دوسرے دن جلا دیں۔ انشا اللہ دو ہفتوں میں یہ سوچیں ختم ہو جائیں گی۔

(v) اپنے کسی دوست یا ہمدرد، جو مثبت سوچ رکھتا ہو، سے ان منفی سوچوں کا تفصیل سے ذکر کریں۔ اس سے سوچیں ختم یا کم ہو جائیں گی۔

(8) اگر آپ پریشانی کا شکار ہیں تو مندرجہ ذیل پر عمل کریں:

(i) یہ بات ہمیشہ ذہن میں رہے کہ آپ کے پریشان ہونے سے اس میں کمی نہ ہو گی اور نہ ہی شہدا واپس آئیں گے، بلک اس سے آپ کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گا، صحت خراب ہو گی اور آپ کی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو گی۔

(ii) آنکھیں بند کر کے پریشانی کے بارے میں سوچیں۔ اگر کوئی تصویر بنے تو تصویر کو وہیں رہنے دیں اور اپنے آپ کو لمبا کر لیں۔ پھر نیچے دیکھیں تو آپ کو تصویر چھوٹی اور غیر واضح نظر آئے گی اور آپ پُرسکون ہوں گے۔ اب اپنے آپ کو مزید لمبا کریں، بہت لمبا۔ پھر نیچے دیکھیں تو آپ کو تصویر نظر نہ آئے گی،بلکہ ایک چھوٹا سا نقطہ نظر آئے گا اور آپ بالکل پُرسکون ہوں گے۔اس مشق کو5تا10بار دہرا لیں۔اب آپ پُرسکون ہوں گے۔

(iii) پریشانی کی صورت میں ماضی کے خوشگوار واقعات کا تصور کریں۔ ان واقعات کو بڑا اور روشن کر لیں۔ آپ کو خوشی اور سکون ملے گا۔

(iv) آنکھیں بند کر کے پریشانی اور تشویش کو اپنے جسم میں تلاش کریں۔ اپنی توجہ کو اس مقام پر مرکوز کریں۔اب تصور میں اس جگہ(سپاٹ) کو حرکت دیں اور اسے اپنے معدے میں لے جائیں، پھر ٹانگوں اور آخر میں پاؤں سے باہر نکال دیں۔ اب ایک بھرپور انگڑائی لیں جس طرح صبح اٹھتے وقت لیتے ہیں، پھر 5لمبے سانس لیں اور ریلیکس کریں۔

(9) اگر آپ ڈپریشن، یعنی اداسی اور افسردگی میں مبتلا ہیں اور آپ کو خود کشی کے خیالات بھی آتے ہیں، تو مندرجہ ذیل پر عمل کریں:

(A) اپنے جسم کو زیادہ متحرک کریں، ورزش کریں، ورزش روزانہ کم از کم20منٹ کی جائے، پسندیدہ کھیل کھیلیں، جسم کو متحرک کرنے سے انسان کے جسم سے ایک خاص کیمیائی مادہ نکلتا ہے جو انسان کو خوشی اور سکون دیتا ہے۔

(B) اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ خصوصاً ایسی سرگرمیاں جن سے آپ ڈپریشن سے پہلے لطف اندوز ہوتے تھے مثلاً ٹی وی دیکھنا،مطالعہ کرنا، سیرو تفریح کرنا اور دوستوں سے گپ شپ لگانا۔

(C) ماضی کے خوشگوار واقعات کا تصور کریں۔ تصویر کو بڑا اور رنگین کریں۔ خوشی کے احساسات کو محسوس کریں اور ان کو سمندر کی لہروں کی طرح پورے جسم میں پھیلا دیں۔ بار بار مشق کریں۔ یہ مشق صبح روزانہ 15منٹ کے لئے کی جائے، تو دن خوشگوار رہے گا۔

(10) یہ بات ذہن میں رہے کہ آپ کو جو پریشانی آئی وہ دنیا کی سب سے بڑی پریشانی نہیں۔ اس سے بھی بڑی پریشانی آ سکتی تھی۔ خدا کا شکر ادا کریں کہ حالات اس سے بھی بدتر ہو سکتے تھے۔

(11) یہ بھی سوچیں کہ آپ اکیلے ہی اس دُکھ اور غم سے دوچار نہیں۔ بہت سے دوسرے آپ سے بھی بڑے غم سے دوچار ہیں۔

(12) یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ رنج و الم مومن کے لئے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ ارشاد نبوی ؐ ہے:’’ مومن کو جو بھی رنج و غم پہنچتا ہے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔

(13) غم اور دُکھ پر صبر کریں۔ اللہ کی رضا سے راضی ہو کر اپنی مرضی سے صبر کریں۔اس صورت میں آپ کو رب کی طرف سے اجر عظیم ملے گا۔ اگر آپ اپنی مرضی سے صبر نہ کریں گے، تو اللہ کے اجر سے محروم ہو جائیں گے، جبکہ صبر تو آپ کو مجبوراً کرنا ہی پڑے گا۔

(14) گھر میں بند ہو کر نہ رہ جائیں، باہر نکلیں، لوگوں سے ملیں، گپ شپ لگائیں، دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔

(15) اپنے خیالات اور جذبات دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

(16) اپنے پاس نوٹ بُک رکھیں۔ اس میں ان خیالات کا اظہار کریں، جن کا اظہار آپ کسی دوسرے کے ساتھ نہیں کر سکتے۔

(17) اپنی روزمرہ کی سابقہ روٹین بحالی کریں۔

(18) ان چیزوں کی فہرست بنائیں، جن کے کرنے سے آپ کو خوشی ملتی۔ بہتر ہے کہ ان کو روزانہ کریں۔

(19) اپنے مشغلے (ہابی) اور پسندیدہ کام سے لطف اندوز ہوں۔ اگر آپ کا کوئی مشغلہ نہیں تو اب کوئی مشغلہ اپنائیں

(20) دوسری خوشگوار اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ اس سے آپ کی توجہ پریشانیوں سے ہٹے گی۔

(21) اچھی کتب کا مطالعہ کریں، خصوصاً سیرت پاک کے مکی دور کا مطالعہ کریں۔ مزاحیہ کتب کا مطالعہ بھی مفید ہے۔

(22) اگر آپ نے کام پر جانا شروع کر دیا ہے تو ہر دو گھنٹے کے بعد وقفہ کریں۔اس دوران ریلیکس کریں۔

(23) خواتین بھی اپنے آپ کو گھر کے کاموں میں مصروف رکھیں،مگر درمیان میں آرام کا وقت ضرور نکالیں، ہمسایہ خواتین سے گپ شپ لگائیں۔

(24) کمپیوٹر کا استعمال کم کریں، ٹی وی کم دیکھیں، صرف تفریحی پروگرام دیکھیں۔

(25) مختلف فنکشنوں میں بھرپور شمولیت اختیار کریں۔

(26) دوسرے لوگوں کی مدد کریں۔ ان کو اس صدمے کے اثرات سے باہر نکلنے میں مدد دیں۔خدمت خلق کریں۔ اس سے آپ کو سکون ملے گا۔

(27) چائے، کافی اور کوک جیسے مشروبات کا استعمال نہ کریں، خصوصاً شام کے بعد نہ لیں۔

(28) ’’اللہ کی یاد سے ہی دِلوں کو سکون ملتا ہے‘‘ (القرآن) اس کے لئے نماز پڑھیں قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔ یا رحیم و یا کریم کی تسبیح کریں۔

آرمی پبلک سکول

(i) سکول کے طلبہ اتنی جلد صدمے کے اثرات سے باہر نہیں نکلتے، لہٰذا16فروری تک کلاس میں کم پڑھایا جائے، آہستہ آہستہ پڑھایا جائے۔ بہتر ہے کہ دہرائی کی جائے۔

(ii) طلبہ کو گھر کا کام بہت کم دیا جائے گا۔

(iii) سکول میں تعلیم پر زور کم دیا جائے اور ہم نصابی سرگرمیوں مثلاً کھیل، ڈرامے اور بزم ادب وغیرہ پر زیادہ زور دیا جائے۔

یہ سارے طریقے کسی بھی صدماتی واقعے مثلاً سیلاب، زلزلہ، ڈاکہ زنی، بم دھماکے ، تخریب کاری، اغوا، ریپ اور حادثات کے متاثرین کی نفسیاتی بحالی کے لئے کامیابی سے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

نوٹ: مزید معلومات کے لئے مصنف سے صبح 10بجے تا12:30بجے کے درمیان رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ فون 0300-9484655 (ختم شد)

مزید :

کالم -