بلاوجہ تھکاوٹ کی اہم وجوہات سامنے آگئیں

بلاوجہ تھکاوٹ کی اہم وجوہات سامنے آگئیں
بلاوجہ تھکاوٹ کی اہم وجوہات سامنے آگئیں

  

لندن(نیوزڈیسک)بعض اوقات بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے ہم تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم نے بہت زیادہ کام نہیں کیا ہوتا لیکن پھر بھی ہم تھکے تھکے رہتے ہیں۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ آپ تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں۔

 *یہ ممکن ہے کہ آپ بہت زیادہ چائے یا کافی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان تمام اشیاءمیں کیفین ہوتی ہے جو خون میں شامل ہو کر آپ کے شوگر لیول کو تبدیل کرتی رہتی ہے اور ہمیں تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔لہذا اپنے مشروبات کو تبدیل کریں،بہتر ہے کہ آپ جوس استعمال کرنا شروع کردیں۔

*کچھ لوگ کام کے دنوں میں کم سوتے ہیں اور چھٹیوں میں لمبی نیند لیتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ دلچسپ لگتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہمارا جسم اس روٹین سے تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔لہذا ضروری ہے کہ روزانہ مناسب نیند کی جائے۔ ایک صحت مند جسم کے لئے ضروری ہے کہ آپ کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے سوئیں۔

*اپنے کمرے میں ٹی وی ہر گز مت رکھیں کیونکہ اس کی وجہ سے آپ کی نیند پوری نہیں ہوتی اور آپ بلاوجہ ٹی وی دیکھ کر تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

*اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ورزش کرنے سے آپ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں تو اس سوچ کو تبدیل کر لیں۔ ورزش سے جسم ہلکا پھلکا رہتا ہے اور نیند بھی اچھی آتی ہے۔

*خون میں آئرن کی کمی سے انیمیا جیسی بیماری جنم لیتی ہے اور اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ ہم مسلسل تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ساتھ ہی اپنی غذا میں آئرن کا استعمال بڑھا دیں۔ پالک، انار، میتھی، سیب وغیرہ اس کے لئے بہت مفید ہیں۔

*تھائیرائیڈ گلینڈ میں خرابی کی وجہ سے بھی جسم تھکا ن کا شکار ہوسکتا ہے لہذا بلڈ ٹیسٹ کرواکر اس کی مقدار دیکھیں اور پھر ادویات کا استعمال کریں۔

مزیدپڑھیں: لمبی جوانی کے لیے برطانوی ڈاکٹر کے حیران کن حد تک آسان مشورے

*ذیابیطس کی وجہ سے بھی جسم میں تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔بلڈ ٹیسٹ کروائیں اور اگر یہ مسئلہ نکل آئے تو اپنی غذا میں بنیادی تبدیلی کریں۔

*تھکاوٹ کی ایک اور وجہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا کہ درجہ حرارت بڑھنے سے جسم کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور ہم تھکان کا شکار ہوجاتے ہیں۔

*ذہنی دباﺅ بھی تھکاوٹ کی اہم وجہ ہے۔اگر آپ کسی مشکل کا شکار ہیں تو کوشش کریں کہ اس پر قابو پایا جائے ۔

مزید :

تعلیم و صحت -