مولے نو ں مولا نہ مارے تے۔ ۔۔

مولے نو ں مولا نہ مارے تے۔ ۔۔
مولے نو ں مولا نہ مارے تے۔ ۔۔

  

ہر جانب پانامہ کا ہنگامہ چل رہا ہے اور ہر کوئی اس میں سے  حسب منشاء حل نکال رہا ہے کہ آخر ہو کیوں رہا ہے اور اس میں ہو کیا رہا ہے .اس خاکسار نے عرض کیا تھا کہ نقصان سب اٹھائیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کی تھی کہ کچھ قوتیں سب کو کٹ ٹو سائز کرنا چاہ رہی ہیں تاکہ ہر ایک کو کنٹرول کیا جاسکے اور کوئی بھی اتنا بڑا جن نہ بنے کہ جس کی اپنی مرضی ہو،  لیکن یہ کس حد تک ممکن ہے اس کا فیصلہ تو وقت کے ساتھ ہی ہو گا مگر گزرے ہوئے چند دنوں میں دو تحریریں پڑھنےکا موقع ملا جو کہ ہمارے سینئرز کی تھیں۔  ان تحریروں نے میری سوچ اور تخیل میں آنے والے نتیجے کو تقویت دی کہ کام ابھی تک کہیں اور سے چل رہا ہے۔ میں نے اپنی ایک تحریر میں اپنے قارئین سے عرض بھی کی تھی کہ اسکرپٹ کبھی ختم نہیں ہوتا یہ اپنی ہیت تبدیل کرتا ہے۔ اپنے دو سینئرز جن کی تحریر کا میں تزکرہ کیا ہے ان میں ایک قدر مشترک تھی کہ نواز شریف صاحب کے لئے مشکل وقت آیا ہی چاہتا ہے۔ اب پہلی تحریر جو کہ حامد میر صاحب کی ہے، ان کی تحریر میں بھی نواز شریف کا انجام خیر کا ہوتا نظر نہیں آتا مگر چند باتیں ان کی بہت درست تھیں کہ نواز شریف صاحب نے جو انٹرویو سہیل وڑائچ  کو دیا اس میں انہوں نےاپنے دلی جذبات کا اظہار کیا کہ آئی ایس آئی کو مکمل طور پر سول کنٹرول میں ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک سول ادارہ ہے مگر نواز شریف جیسے اس کے بعد صدر کے استثنی کو نہیں جانتے تھے اور آج استثنی کو جانتے ہیں، نواز شریف جیسے اس وقت کالا کوٹ پہن کر میمو گیٹ میں  پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ جا پہنچے تھے اسی طرح وہ اپنی یہ بات بھی بھول گئے یا اس سے اور زیادہ اہم باتوں پر توجہ دینے لگے کیونکہ اگر وہ نہ بھولتے تو اس کے لئے جو قدم اٹھانا تھا وہ بھی انہی کو اٹھانا پڑنا تھا۔ ہمارا یہ ادارہ انتہائی اہم ہے اس نے ہماری حفاظت کو دوام بخشا ہے اس نے پاکستان کو ایک ملک کی حیثیت سے اور پاکستانیوں کو ایک قوم کی حیثیت سے تحفظ دیا ہوا ہے۔ مگر بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس ادارے میں کافی باتیں درست کرنے کی ضرورت ہے جیسے اس ادارے میں سول ملازمین کی حالت زار۔ اس ادارے میں پروموشن کا سلسلہ بھی درست نہیں ہے جہاں 35 سال کی سروس کے بعد ایک پروموشن۔ یعنی اگر ایک بندہ سب انسپکٹر بھرتی ہوا ہے تو وہ انسپکٹر ہو کر ریٹائرہو جائے گا۔ اسی طرح اگر 17 گریڈ میں امتحان پاس کر کے آنے والوں کو دیکھا جائے تو ان میں پہلی پروموشن 5 سال بعد، دوسری 7 سال بعد، تیسری 8 سال بعد اور اس کے بعد ان کے آگے جانے کے چانس معدوم ہی نہیں، بلکہ ختم ہو جاتے ہیں۔ اس سب کے لئے نواز شریف صاحب کو" آن ٹائم پروموشن" والا فارمولا نافذ العمل کرنا ہو گا جیسے سول سروس میں ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے اسمبلی میں ایک بل لانا ہو گا اور اسے پاس کروانا ہو گا تاکہ سروس جوائن کرنے والےانسان کو یہ معلوم ہو کہ وہ جتنی محنت کرے گا اس کو اتنا ہی پھل ملتا جائے گا۔ اس قانون میں ان کی ترقی، تعلیم اور ٹریننگ کورسزسے مشروط کر دی جائے اور ٹریننگ کورسز کے لئے چائنہ، ترکی اور روس کے ساتھ خصوصی معاہدے کئے جائیں یا ملک کہ اندر ہی ان کا بندوبست کیا جائے۔ مزید ہمارے ان نہ نظر آنے والے محافظوں کو رسک الاؤنس دیا جائے۔ یہ سب ایک قانون سازی سے ہو سکتا ہے مگر نواز شریف صاحب کی اس جانب توجہ ہی نہیں ہے یا وہ اسے کسی اہمیت کے قابل خیال نہیں کرتے جبکہ اگر وہ سوچیں تو یہ ملک پاکستان کے لئے ایک بہت اہم بات ثابت ہوگی اس طرح شاید ہم کچھ خراج تحسین ان محافظوں کو پیش کر سکیں جو پس پردہ رہ کر ہماری حفاظت کرتے ہیں اور پس پردہ ہی اپنی جان ملک و قوم پر نچھاور کرتے ہیں۔  میری نواز شریف سے درخواست ہے کہ اس سال میں ان کے لیے بھی بل پیش کریں اور ان کے "رسک الاؤنس" کو نافذ العمل بنائیں۔  

خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی اب بات یہ ہے کہ آخر نواز شریف کے ساتھ کیا اور کیوں ہونے جا رہا ہے  اگر تو نواز شریف صاحب اپنی مدت مکمل کرتے ہیں اور مدت مکمل کرنے کے بعد اقتدار پر امن طریقے سےعوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے ہوتا ہے تو کون مضبوط ہو گا عوام اور جمہور۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ سسٹم ہمارا ہے اور ہم جن کو چنیں گے وہ ہماری قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ تو پھر عوام آہستہ آہستہ اچھے لوگوں کو سامنے لانا شروع کریں گے اچھی قیادت کو سامنے لائیں گے یا چلیں اچھے اور برے کا جھگڑا چھوڑ دیتے ہیں یہ کہہ دیتے ہیں کہ اپنی مرضی کے لوگوں کو سامنے لائیں گے اور اس طرح کے مسلسل عمل سے " ڈیپ اسٹیٹ " متاثر ہوتی ہے اور وہ یہ کبھی نہیں چاہیں گے، یہ ہے وہ وجہ جو موجب بنتی ہے کچھ قوتوں کے کاغذات میں لال رنگ سے مارک ہونے کے لیے چاہے وہ کوئی پارٹی ہو یا کوئی فرد ہو۔ یہ لال رنگ کا نشان کبھی ختم نہیں ہوتا اور اس کا بہترین حل پروپیگینڈا نکالا جاتا ہے اور اتنا بدنام کردیا جاتا ہے کہ ہر کوئی ان کو غلط سمجھنا شروع کر دتا ہے ۔

اب کچھ بات کر لیتے ہیں کہ ہو کیا سکتا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف نا اہل نہیں ہو سکتے کیونکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کا نام پانامہ میں براہ راست نہیں ہے اور یہ سراسر جیت خان صاحب کے پلڑے میں نہیں ڈالی جائے گی اب دو باتیں یا یوں کہہ لیں کہ یہی دو صورتحال بچتی ہیں۔

ایک تو یہ ہے کہ نواز شریف کے بچوں کو نااہل قرار دے دیا جائے۔ چلیں یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ حسین نواز اور حسن نواز دونوں ملک سے باہر ہیں، بزنس چلا رہے ہیں اور ملکی سیاست میں آنے کا کوئی اردہ نہیں رکھتے اس لئے ان کی اہلیت باقی رہنا یا نہ رہنا ایک برابر ہے۔ باقی رہ جاتی ہیں مریم صاحبہ  جو کہ نواز شریف صاحب کے بعد ان کی جانشین خیال کی جارہی ہیں اور نواز شریف صاحب کے خاندان کا نام سیاست میں ان سے چلے گا۔ اگر وہ نااہل یا سزا والے معاملے کی جانب جاتی ہیں تو پھر نواز شریف صاحب کو خطرہ ہے اور نواز شریف صاحب کے لئے باعث نشویش ہے اور اگر بد تمیزی نہ ہو تو سیاسی موت ہے۔

اب دوسرا پہلو کہ عدالت بچوں کو بھی کچھ نہیں کہتی اور نواز شریف کو بھی نااہل قرار نہیں دیتی مگر وہ دوسرے اداروں کو حکم دے دیتی ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان والے ثبوت دینے میں ناکام رہے ہیں تو ان سب کے پیسوں اور جائیداد وغیرہ کی تحقیقات کی جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حکم ایف آئی اے یا نیب دونوں کو دیا جائے یعنی ڈھول نواز شریف کے ساتھ باندھ دیا جائے اور چھڑی عمران خان صاحب کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ اب نواز شریف آگے آگے ہونگے کہ خان صاحب نواز شریف کے پیچھے پیچھے ہونگے کہ وہ یہ ڈھول بجائیں کیونکہ اس ڈھول کی آواز اس دور میں کئے ہوئے نواز شریف کے اچھے کاموں کی آواز دبا سکتی ہے اور یہ ڈھول کی آوازیں کریڈٹ ہو گا عمران خان کا جسے لے کر وہ 2018 کے الیکشن میں جائیں گے۔ باقی ان کے صوبے میں تو جہاں ان کی حکومت ہے ان کے پاس کو ئی ایسا کام نہیں ہے جسے وہ 2018 کے الیکشن میں عوام کے سامنے لے کر جائیں سوائے ایک پولیس کے نظام کے جسے وہ مکمل تو نہیں کافی حد تک ٹھیک کر چکے ہیں۔

ابھی تک حالات دیکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف کے سختی کے دن ابھی باقی ہیں۔ نواز شریف کو ان حالات میں چاہئے کہ وہ اپنے تمام اختلافات بھلا کر زرداری صاحب کا ویسے ساتھ دیں جیسے انہوں نے 124 دن کے دھرنے میں نواز شریف صاحب کا دیا تھا۔ اس وقت ان کو تنہا نہ چھوڑیں اور ان کو اگر وہ پنجاب میں سیاسی جگہ بنانا چاہتے ہیں  تو انہیں بنانے دی جائے ان کے راستے میں خوامخواہ رکاوٹوں کے انبار نہ کھڑے کیے جائیں وگرنہ یہ نہ ہو کہ نظر انداز جنوبی پنجاب اور خان صاحب کا واویلا مسلم لیگ ن کی پنجاب میں سیٹیں لے اڑے اور نواز شریف صاحب منہ دیکھتے رہ جائیں کیونکہ خان صاحب کا ابھی سیاست میں بالغ ہونا باقی ہے اور نا بالغ اگر کوئی غلطی کرے گا تو سزا قوم کو بھگتنا ہو گی اور الزام سینئیر سیاست دانوں پر آئے گا ۔

ایک تیسری صورت بھی ہے " جے مولا نو مولا نہ مارے تے مولا نیئں مردا" یعنی قسمت یعنی فیصلہ ایسا گول مول آئے گا جیسے الیکشن دھاندلیوں کے آئے تھےکہ امیدوار پر کچھ ثابت نہیں تمام خرابی سسٹم کی ہے، ان اداروں کی ہے، انہیں ٹھیک کریں۔ نوازشریف  قسمت کے تو دھنی ہیں اگر قدرت انہیں بچا کر لے جائے تو لے جائے ورنہ "ڈیپ اسٹیٹ " ہر وقت عمل پیرا تھی، ہے اور رہے گی کیونکہ سرخ نشان والوں کے لئے رعایت نہیں ہے۔   

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -