مدارس کے طلبہ اور قومی دھارا

مدارس کے طلبہ اور قومی دھارا
مدارس کے طلبہ اور قومی دھارا

مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کی زیر صدارت مدارس کے طلبہ کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے اصلاحات کا جائزہ لینے کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ہوا۔ جس میں وفاقی مذہبی امور سردار یوسف کے علاوہ مولانا حنیف جالندھری، محمد یاسین ظفر مولانا عبدالمالک، مولانا نیاز حسین نقوی اور وزارتِ تعلیم اور دیگرمتعلقہ شعبوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے حاضرین کا خیرمقدم کیا اور کہا۔ ہم چاہتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ کو دوسرے طلبہ کے ہم پلہ کیا جائے اور انہیں قومی دھارے میں لایا جائے۔

اس موقع پر شرکاء نے اپنی تجاویز اور خیالات کا اظہار کیا اور مدارس کے مجوزہ امتحانی نظام حکمت عملی اور مستقبل میں مدارس کی اَپ گریڈیشن کا جائزہ لیا۔ وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کو بھی دوسرے طلبہ کے مقابلے میں برابر کے مواقع ملیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ سے افغانستان میں یورپی یونین کے سفیر فرانکوس کیوٹن نے بھی وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ترقی و خوشحالی اور خطے میں امن و استحکام کے لئے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔

پوری یونین کے وفد نے پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اقدامات کی تعریف کی۔ وفد نے جنرل ناصر جنجوعہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ، ملٹری اور انٹیلی جنس کے تعاون اور اندرونی سیاست، افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے کے عزم پر قائم ہے، کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان اور خطے میں امن کی ضمانت ہے۔

یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اس کاوش کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔ آئین پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء کے آرٹیکل ۔2کے مطابق ’’اسلام ریاست کا مذہب ہوگا‘‘۔اِس کا آئین 2۔ اے قرار دادِ مقاصد مستقل احکام کا حصہ ہوگی۔

اسی میں حکمرانی کے لئے بھی اصول دیئے گئے ہیں۔ جن کے مطابق حکمرانی کی بنیادوں کو استوار کیا جانا چاہیے۔ آرٹیکل 31 اسلامی طریق زندگی سے متعلق ہے۔

(1) پاکستان کے مسلمانوں کو، انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لئے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے اقدامات کئے جائیں، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں ۔

(2) پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لئے کوشش کرے گی۔ (اے) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لئے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔ (بی) اتحاد اور اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا اور (سی) زکوٰۃ (عشر) اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔

آرٹیکل 251۔ قومی زبان (1) پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اور یوم آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لئے استعمال کرنے کے انتظامات کئے جائیں گے(2)۔

شق(1) تابع، انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لئے استعمال کی جاسکے گی جب تک کہ اس کے اُردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔3۔قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اِس کے استعمال کے لئے اقدامات تجویز کرسکے گی۔قومی زبان کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ آچکا ہے۔

اس کو من و عن لاگو کرنا، ریاست کی ذمہ داری ہے، اس کے نفاذ کی رفتار کو تیز کیا جانا لازم ہے اور اس کا نفاذ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ قومی ترقی کا تعلق قومی زبان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ آرٹیکل 25-A۔ حق ایجوکیشن، ریاست مہیا کرے گی۔ مفت تعلیم بچوں کو جن کی عمر پانچ سال سے 16سال کے درمیان ہے، جو قانون واضح کرے۔

یاد رہے! جب ہم حق ایجوکیشن کی بات کرتے ہیں تو اس میں دونوں طرح کے ادارے یعنی اسلامی مدارس اور عصری ادارے شامل ہیں، کیونکہ اسلامی طریق زندگی تو قرآن اور سنت کی تعلیم کے ذریعے سے ہی سیکھنا ہوگا اور عصری تعلیم یعنی ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، جیالوجی ،فلکیات، اقتصادیات وغیرہ کے ذریعے ہوگی۔ دونوں طرح کی تعلیم یعنی دینی تعلیم اور عصری تعلیم کا سکھانا اَزبس لازم ہے۔

جس سے ایک ایسا مسلمان شہری تیار کرنا مقصود ہے۔ جس کے دل میں ’’ایمان‘‘ اور ہاتھ مین ہنر‘‘ ہو اور ایسا قرآن و سنت یعنی اسلام کی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ قوم کو صحیح معنوں میں اسلام کی تعلیم دینا اور اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی فن یا ہنر سکھانا بھی اس قدر ہی لازم ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ’’اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے‘‘۔ گویا ’’دینے والا ہاتھ، لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘ یہ تب ہی ممکن ہوگا، جب دونوں طرح کی تعلیم یعنی( دینی تعلیم اور عصری تعلیم) اپنی نسل نو میں متعارف کی جائے گی۔ جو آگے چل کر باوقار، خود کفیل اور ایمان سے مالا مال ہوگی اور پوری انسانیت کی رہبری اور رہنمائی کرنے کی اہل ہوگی۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...