جمہوریت خطرے میں نہیں

جمہوریت خطرے میں نہیں

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ جمہوریت کو فوج سے نہیں، غیر جمہوری حرکتوں سے خطرہ ہے، جمہوریت کے ثمرات عوام تک پُہنچتے رہنے چاہئیں، ملک میں جمہوریت کا چلنا ضروری ہے، تاریخ میں پہلی بار آرمی چیف سینیٹ میں گئے اور اُنہوں نے عوامی نمائندوں کو دفاعی صورتِ حال پر بریفنگ دی۔ آرمی چیف قانون کی پاس داری پر یقین رکھتے ہیں، جمہوریت کا احترام کرتے ہیں، اُنہوں نے ہمیشہ کہا کہ وہ آئین پر یقین رکھتے ہیں، یہ فوج عوام کی فوج ہے، عوام کے لئے جو کچھ بھی کرنا پڑا کریں گے، اُنہوں نے کہا کہ انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں، ان کے ساتھ فوج کا کیا تعلق؟ آئینی حدود میں انتخابات کے متعلق جو بھی احکامات ملیں گے، عمل کریں گے۔ ملک میں استحکام بُہت ضروری ہے، عدم استحکام ہو تو دُشمن فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ اُنہوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے جب بھی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی، ہمیشہ واشگاف الفاظ میں کہا کہ فوج کی جانب سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں البتہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے یہ ضروری ہے کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پُہنچتے رہیں، لیکن عجیب بات ہے کہ وہ جب بھی میڈیا کے سامنے آتے ہیں، کِسی نہ کِسی جانب سے اُن سے اس سلسلے میں سوالات ہو جاتے ہیں، جس کا جواب اُنہیں دینا پڑتا ہے۔ یوں ایک ہی بات پر متعدد بار اُن کا موّقف سامنے آ چُکا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب فوج کے ترجمان ایک ذمہ دار عہدیدار کی حیثیت سے ایک بات کی وضاحت کر چُکے ہیں اور ہمیشہ کہتے ہیں کہ فوج جمہوریت کے ساتھ ہے اور آرمی چیف بھی عملاً کئی بار اس کا ثبوت بھی دے چُکے ہیں تو پھر اُن سے ہر پریس کانفرنس میں ایسا سوال کیوں کر دیا جاتا ہے؟، یہ تو وہ میڈیا پرسنز جانتے ہوں گے جو ایسے سوالات کرتے ہیں۔ آرمی چیف نے سینیٹ میں دفاع کے موضوع پر بریفنگ دی تھی، لیکن وہاں بھی اُن سے زیادہ تر سیاسی سوالات ہو گئے اور اصل موضوع دب کر رہ گیا۔

ایسا بار بار ہوتا رہتا ہے، وزیراعظم یا دوسری کوئی شخصیت قومی اہمیت کے کِسی موضوع پر کِسی فورم پر اظہار خیال کرتی ہے تو اُن سے بھی ایسے ہی سوالات ہوتے ہیں، ابھی گزشتہ روز بھی اُن سے پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے اور وہ قبل از وقت اسمبلی توڑنے کے لئے تیار نہیں البتّہ جن لوگوں کو حکومت کے خاتمے کی جلدی ہے، وہ چاہیں تو اُن کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ جہاں تک ایسی کِسی تحریک کی کامیابی کا تعلق ہے اس کی کامیابی کا چونکہ امکان نہیں اِس لئے حکومت مخالف سیاست دان یہ آئینی راستہ تو اختیار نہیں کرتے البتّہ یہ کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے کہ یہ حکومت جنوری میں جا رہی ہے یا فروری میں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مُسلم لیگ (ن) کی حکومت جب سے آئی ہے، اس کے جانے کی پیش گوئیوں میں بڑے بڑے سیاست دان شریک رہے ہیں، تحریک انصاف کے چیئرمین تو 2014ء سے کہنا شروع ہو گئے تھے کہ یہ سال انتخابات کا سال ہے، پھر اُنہوں نے اس کے بعد آنے والے ہر سال کو انتخابی سال کہا، یہاں تک کہ انتخابات کا سال (2018ء) واقعی آن پُہنچا۔

اب انتخابی سال میں بُہت سے سیاست دان ایسے ہیں جو علیٰ وجہ البصیرت کہہ رہے ہیں کہ وہ انتخابات ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے اور ایک لمبے عرصے کی ’’ٹیکنوکریٹ حکومت‘‘ انہیں صاف دکھائی دیتی ہے۔ حیرت ہے کہ جو چیز آئین میں کہیں نظر نہیں آتی وہ تو اُنہیں نظر آتی ہے اور انتخابات جو آئینی ضرورت ہیں وہ انہیں کہیں بھی نظر نہیں آتے، لیکن ایسے دعوے کرنے والے سیاست دان اپنی آنکھوں کا علاج کرانے کی بجائے ہر روز ایک نیا دعویٰ لے کر میدان میں آ جاتے ہیں۔ پہلے تو وفاقی حکومت کے جانے کی پیش گوئیاں کی جاتی تھیں اب نظرِکرم پنجاب حکومت پر فوکس کر لی گئی ہے اور بُہت سے حلقوں کو یہ حکومت جاتی ہوئی صاف دکھائی دینے لگی ہے، جس کی تاریخیں بھی وہ دیتے رہتے ہیں اور جب ایک تاریخ گزر جاتی ہے تو دوسری تاریخ دے دیتے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے بالکل درست کہا ہے کہ مُلک میں استحکام ہونا چاہئے کیونکہ اگر عدم استحکام ہوگا تو اس کا فائدہ دُشمن اُٹھائیں گے، لیکن عجیب بات ہے کہ بے بصیرت لوگ فوج کے ترجمان کی یہ نصیحت بھی پلے باندھنے کے لئے تیار نہیں اور گھوم پھر کر پھر ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں جو عدم استحکام کا باعث بنتی ہیں۔ دراصل یہ وہ عناصر ہیں جن کا عدم استحکام کا کاروبار افواہوں میں ہی پھلتا پھولتا ہے۔ اگر مُلک کے حالات معمول کے مطابق چل رہے ہوں تو اُنہیں اپنا کاروبار بند ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اِس لئے جب چند روز کے لئے کوئی معاملہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو وہ پھر کوئی نہ کوئی درفنطنی چھوڑ دیتے ہیں۔

آرمی چیف نے سینیٹ میں جو تاریخی خطاب کیا اور اس میں قومی دفاع کے بارے میں جو باتیں سیاست دانوں کے علم میں آئیں اُن پر ایسے سیاست دانوں نے سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا کہ ایسے سنجیدہ موضوعات پر وہ وقت ضائع نہیں کرتے اور شغل میلے والے موضوعات ہر دم اُن کی توجہ کھینچتے رہتے ہیں، حالانکہ جو کچھ آرمی چیف نے سینیٹ میں دفاع کے متعلق کہا اس میں بُہت سے پہلو ایسے تھے جن پر حکومت اور اپوزیشن ہر کِسی کو سنجیدگی سے غور کرنے اور ایک ایسا لائحہ بنانے کی ضرورت تھی جس کے تحت دُشمن کو یہ پیغام جائے کہ قومی اہمیت کے بنیادی امور پر ہمارے سیاست دانوں میں کوئی اختلاف نہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی بالغ نظری کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا اور بعض لوگوں کو تو سوائے حکومت کی رخصتی کے، کوئی بات سوجھتی ہی نہیں اور ان کے من کی موج روزانہ حکومت جانے کی تاریخیں دینے میں آگے نہیں بڑھ رہی۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...