خواب و خیال کی باتیں

خواب و خیال کی باتیں
خواب و خیال کی باتیں

  

لاہور ناشپاتیوں، سنگتروں، میٹھوں، آڑوؤں، اناروں اور امرودوں کے باغات میں گھرا ہوتا تھا۔ موتیے اور گلاب کے کھیت عام تھے۔ حتّیٰ کہ سڑکوں کے اطراف بھی گلاب اگے ہوتے، جنہیں لاہور کے گردا گرد چلنے والی نہر سیراب کرتی۔

گلاب کے پھول لاہور سے دہلی تک جاتے۔ صحت بخش کھیلوں اور سرگرمیوں کا رواج تھا۔ نوجوان رات دس گیارہ بجے تک گتکا سیکھتے۔ سکولوں میں گتکے کا باقاعدہ ایک پیریڈ ہوتا ۔ تب شیرانوالا کے حاجی کریم بخش لاہور کے مشہور گتکاباز تھے۔

اور گورنمنٹ کنٹریکٹر موچی دروازہ کے میاں فضل دین مشہور بٹیرباز۔ تقریبات کو روشن کرنے کے لیے حسّا گیساں والا بھی لاہور کی معروف شخصیت تھے۔

خوشی، غمی، جلسوں جلوسوں، میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ کی تقریبات حسا گیساں والے کے گیسوں سے جگمگ کرتیں۔ شادی کی رونق سات سات دن جاری رہتی، اس دوران میں ہیررانجھا اور پورن بھگت کے ڈرامے ساری ساری رات کیے جاتے۔

قوالی ہوتی۔ مجرے ہوتے۔ لاہور میں بناسپتی رائج ہوا تو بہت کم لوگ اسے استعمال کرتے وہ بھی چھپ کر۔ کوئی شادی پر بناسپتی گھی استعمال کرتا تو برادری روٹھ جاتی۔

لاہور کے ایک رئیس ٹھیکیدار میاں نظام دین اپنا بیٹا ریما پنڈ بیاہنے گئے تو لٹانے کے لیے تین بوریاں چاندی کے روپوں کی ساتھ لے گئے۔ تب سونا 19روپے تولہ تھا۔ چھوٹا گوشت دوروپے کا آٹھ سیر۔

لاہوریے چھوٹا گوشت کھاتے تھے۔ بڑا گوشت ہندوستانی اور پٹھان کھاتے تھے۔اور جب چائے کا عادی بنانے کے لیے لپٹن والوں نے لاہور میں گھر گھر پکی ہوئی چائے مفت بانٹنا شروع کی تو ساندہ کی عورتوں نے چائے بانٹنے والے سکھ انسپکٹر کی پٹائی کر دی۔

تعلیم کی طرف رجحان کا یہ عالم تھا کہ ماسٹر گھر گھر جا کر منتیں کرتے، اپنے بچوں کو سکول داخل کراؤ۔ صدی پون صدی قبل کے لاہور کا یہ ماحول تین بزرگ لاہوریوں موچی دروازہ کے حافظ معراجدین، شیرانوالہ فاروق گنج کے مستری محمد شریف اور ساندہ کے کرنل(ر) محمد سلیم ملک نے ماہنامہ آتش فشاں کے ایڈیٹر منیراحمدمنیر کے ساتھ اپنے ان انٹرویوز میں بیان کیا ہے جو کتاب’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

یہ کتاب مکتبۂ آتش فشاں 78ستلج بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن لاہور، فون نمبر 0333-4332920 نے شائع کی ہے۔ واقعات کے مناسبت سے ڈیڑھ سو سے زائد تاریخی اور نادر تصاویراور دستاویزات بھی شاملِ اشاعت ہیں۔

’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ میں درج ہے کہ ایک سو سات برس قبل 24فروری1911ء کے روز سرآغاخاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے جلسۂ تقسیم انعامات کے لیے لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو لاہوریے ایک پرجوش اور پرہجوم جلوس کی صورت میں انہیں ایمپریس روڈپر نواب پیلس میں لائے۔

ان کی آمدسے پہلے ان پر برسانے کے لیے پھول اکٹھا کیے گئے تو لاہور کے کھیت ویران ہوگئے اور پھول دوسرے شہروں سے منگوانا پڑے۔ یہی صورت 21 مارچ 1940ء کو پیش آئی جب قائداعظمؒ لاہور سیشن میں شرکت کے لیے ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو دوسرے شہروں سے بھی پھول منگوائے گئے۔

تب لاہور اگرچہ سیاسی، سماجی اور روایتی جلسوں جلوسوں سے زبردست رونق دار تھا، پھر بھی اس کا سکون، خاموشی اور ٹھہراؤ مثالی تھا۔ ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ کے ان انٹرویوز کے مطابق شیر چڑیا گھر میں دہاڑتا تو اس کی گرج لاہور میں گونجتی۔ شہر اس قدر کھلا کھلا تھا کہ موچی دروازہ سے مزار داتا صاحبؒ اور مزار شاہ ابوالمعالی ؒ صاف نظر آتے اور لوگ موچی دروازہ کے باہر کھڑے ہو کر ہی دعا مانگ لیا کرتے۔

کتاب ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ میں بیان کی گئی تفصیلات کے مطابق بعض جگہوں اور تقریبات کے ناموں میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔ چڑیا گھر کو چڑی گھر کہتے تھے۔ کوٹ خواجہ سعید کا نام کوٹ خوجے سعید تھا۔ دسویں محرم یا یومِ عاشور کو گھوڑے والا دن کہتے تھے۔

عید میلاد النبیؐ بارہ وفات کہلاتی۔ حافظ معراج دین کہتے ہیں کہ اس روز جلوس نکالنے کا فیصلہ میں نے، نعمت کدہ کے مہر بِسّااور مولانا محمد بخش مسلم نے کیا تھا۔

پہلا جلوس 1933ء میں نکلا۔ اس سے پہلے لاہور کی مساجد میں چنوں پر ختم ہوتا۔

باہر بچے کھڑے ہوتے جو نمازیوں کے باہر آنے پر آوازیں لگاتے:’’میاں جی چھولے، میاں جی چھولے‘‘۔ وہ چنے ان میں بانٹ دیے جاتے۔

مستری محمد شریف کہتے ہیں، جلوس عید میلادالنبیؐ میں لوگ گڈوں پر ہوتے یا پیدل۔ پچاس ساٹھ نوجوان گھڑ سوار برجسیں اور سبز پگڑیاں پہنے آگے ہوتے۔ ان کے پیچھے گتکا کھیلنے والے۔ پھر نعت خواں۔

آخر میں بینڈ والے۔ مستری صاحب کہتے ہیں، لاہور میں مسلمانوں کے صرف تین مذہبی جلوس نکلتے تھے۔ عید میلادالنبیؐ، بڑی گیارہویں شریف اور دسویں محرم کے روز۔ جسے گھوڑے والا دن کہتے تھے۔ اس وقت کسی کو پتا نہیں تھا شیعہ سنی کا۔

خلقت امڈ کے آتی تھی۔ سنی گھوڑاتیار کرتے، سبیلیں لگاتے، کھانے پکاتے، روشنی کا انتظام کرتے، شیرانوالہ سکول کے ڈرل ماسٹر اور لاہور کی پہلی مگر خاموش فلم’’ڈاٹرز آف ٹوڈے عرف آج کی بیٹیاں‘‘ کے ہیرو ماسٹر غلام قادر سنی تھے لیکن گھوڑے کے جلوس کے ساتھ فسٹ ایڈ کا سامان لے کے چلتے۔

تب لاہور میں بھائی چارہ اور محبت بھرے رویے عام تھے۔ ایک کی بیٹی سب کی بیٹی، ایک کا داماد سارے محلے کا داماد۔ دکھ اور خوشیاں سانجھی۔ مستری شریف نے گلو گیر لہجے میں کہا، اب وہ وقت نہیں آئیں گے جب کالیے دے کھو پر سویرے سویرے وارثی دیوانہ گاتا’’میرے اللہ کریو کرم دا پھیرا‘‘ تو لوگوں کے آنسو نکل آتے۔

اس کی آواز دور دور تک جاتی۔ لال آندھی چلتی تو مشہور ہوجاتا کہیں کوئی قتل ہوا ہے۔ مستری صاحب لاہور میں نورجہاں جب وہ بے بی نورجہاں تھی کے ذکر میں کہتے ہیں وہ کالے کپڑے پہن کر نگار سنیما کی سٹیج پر نعت گاتی تو فوٹوگرافر محمد بخش اس پر لال، نیلی، پیلی لائٹیں مارتا۔ محمد بخش کی شکل جارج پنجم پر تھی۔ جب جارچ پنجم کی سلور جوبلی منائی گئی تو سکول کے ہر بچے کو دیسی گھی کے سواسواسیر لڈو دیے گئے۔

لاہور کی ثقافتی اورروایتی صورت اس قدر بدل چکی ہے کہ ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘کے مطابق برانڈرتھ روڈ کیلیاں والی سڑک کہلاتی تھی۔ بہ قول محمد دین فوق یہ ’’کیلے کے درختوں سے ڈھکی رہتی تھی۔ رات تو رات دن میں بھی کسی اکیلے دو کیلے آدمی کا یہاں سے گزرنا خطرہ سے خالی نہ ہوتا‘‘۔

شیخ عبدالشکور کہتے ہیں :’’انارکلی بازار میں نیچے دکانیں تھیں اوپر طوائفوں کے بالا خانے تھے۔ بعد میں وہاں سے انہیں نکال دیا گیا۔ شاہ محمد غوث کے سامنے جہاں اب وطن بلڈنگ ہے وہاں عمدہ ناشپاتیوں کا باغ تھا‘‘۔ اخبار وطن کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خاں چندے کھولنے میں مشہور تھے۔

اخبار وطن میں 1902ء میں انہوں نے حجاز ریلوے کے لیے چندہ کھولا کہ لاہور سے مدینہ منورہ تک ٹرین چلائی جائے گی۔ ٹرین تو نہ چلی وطن بلڈنگ بننا شروع ہوگئی۔ لاہوریے پوچھتے تو انہیں جواب ملتا، پہلے ریلوے سٹیشن تو بن لے پھر ٹرین بھی چل جائے گی۔ جو آج تک نہیں چلی۔ حافظ معراجدین کہتے ہیں:’’جو دوروپے چندہ دیتا رئیس سمجھا جاتا‘‘۔

دہلی دروازہ کے باہر ہر اتوار کو گھوڑوں اور گدھوں کی منڈی لگتی۔نیلامی ہوتی۔ اندھا گدھا کم قیمت پر بکتا۔ یہیں لاہور کی ککے زئی برادری کے ایک بڑے خان بہادر ملک نذر محمد کا گھوڑوں کا اصطبل تھا۔ خاں بہادر نذرمحمد انسانی حقوق کی معروف علمبردار عاصمہ جہانگیر کے دادا تھے۔

وہ اپنے دور میں لاہور کی ایک خوشحال اور بڑی معزز و معتبر شخصیت تھے۔ انہیں انگریز نے منٹگمری(اب ساہی وال) میں گھوڑی پال مربعے دیے تھے۔ وصیت کے مطابق انہیں قبرستان شاہ محمد غوثؒ میں دفن کیا گیا۔ یہاں پنجاب کے سرسیدڈپٹی برکت علی، خواجہ عبدالعزیز ککڑو، ہندو بیرسٹر دیناتھ سمیت بڑی نامور شخصیات بھی دفن ہیں۔

’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ کے مطابق یہ تاریخی قبرستان دن دیہاڑے اس طرح ختم کردیا گیا ہے کہ اس کے اوپر لینٹل ڈال کر مسجد وہاں تک پھیلا دی گئی ہے۔ قبرستان تک جانے کاکوئی راستہ نہیں رکھا گیا۔ ’’مٹتاہوالاہور‘‘ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ زندوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی شیردل عاصمہ جہانگیر اس تاریخی قبرستان میں دفن مُردوں کے حقوق کے لیے کیوں خاموش ہیں، جہاں ان کے دادا کی بھی قبر ہے۔

غیر قانونی اور غیر شرعی انداز میں مساجد کی تعمیر پر کتاب میں جماعت الدعوہ کے حافظ محمد سعید، علامہ طاہرالقادری اور مولانا محمد اجمل قادری کی آرابھی شائع کی گئی ہیں۔ مولانا محمد اجمل قادری نے واضح طور پرکہا ہے کہ جو مسجد ناجائز طور پر بنائی جائے وہاں نماز نہیں ہوتی۔ وہ مسجد ضرار ہے اسے گرادینا چاہیے۔

’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ میں ان کئی جگہوں کا ذکر بھی ہے جو عدم توجہی سے برباد ہوگئیں یا ہورہی ہیں۔ مثلاً شادی لال بلڈنگ، برکت علی محمڈن ہال، لاہور کا پہلا سنیما پاکستان ٹاکیز، علامہ اقبالؒ ، قائداعظمؒ اورپاکستان کی نسبت سے صنوبر سنیما اور یونیورسٹی گراؤنڈ وغیرہ وغیرہ۔

تاریخی یونیورسٹی گراؤنڈ، جہاں قائداعظمؒ نے لاہور کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسۂ عام سے خطاب کیا تھا، سپورٹس کے حوالے سے بھی ایک یادگار جگہ ہے، اورنج لائن میٹرو پراجیکٹ کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ اسی طرح موج دریا روڈ پر جہاں انکم ٹیکس ہاؤس ہے وہاں مہاراجہ کپورتھلہ کا پُرشکوہ محل تھا۔

30جنوری1884ء کو سرسید احمد خاںؒ لاہور آئے تو اسی مکان میں ٹھہرے۔ لاہوریوں کو ’’زندہ دلانِ لاہور‘‘ کا لازوال خطاب سرسیدؒ ہی نے اپنے دورۂ لاہور کے دوران میں دیا تھا۔

1926ء میں علامہ اقبالؒ پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے لیے کھڑے ہوئے تو لاہور ’’پتلون پوش ولی کو ووٹ دو‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا۔ جیت کے بعد لاہوریوں نے علامہ کے اعزاز میں موچی دروازہ کی تاریخی جلسہ گاہ میں جلسۂ عام کیا۔ ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ کے مطابق اگلی صف میں رستم زماں گاماں پہلوان کو بیٹھا دیکھ کر علامہ نے اسے بھی تقریر کی دعوت دے دی۔

موچی کی اجڑی اور مٹتی ہوئی اس جلسہ گاہ کے ذکر میں ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ میں درج ہے کہ جنرل ایوب کے مقابلے میں مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ صدارتی امیدوار تھیں۔ موچی کی اسی جلسہ گاہ میں مادرملتؒ کے مقابلے میں اتنا بڑاجلسہ آج تک نہیں ہوا۔

جلسہ گاہ میں ان کی آمد پر لاہوریوں نے پُرزور اور پُرجوش آتش بازی بھی کی۔ کتاب کے مؤلف منیر احمد منیر نے موچی کے ایک ایسے جلسۂ عام کا بھی چشم دید احوال بیان کیاہے جس میں ایک بھی سامع نہ تھا۔

’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ کے مطابق موچی کی اسی جلسہ گاہ میں قیامِ پاکستان کے بعد عطاء اللہ شاہ بخاری نے پاکستان کے حق میں تقریر کی۔ ساتھ ہی ان کی 1953ء کی دہلی دروازہ کی تقریر بھی دی گئی ہے جس میں انہوں نے اس کے برعکس کہا تھا:’’اگر کوئی شریف گھرانے کا لڑکا زنِ بازاری کو بیاہ لائے تو شریف لوگ اسے بہ امر مجبوری قبول کرلیتے ہیں۔ ہم نے بھی پاکستان کو اسی طرح تسلیم کیا ہے‘‘۔

لاہور کے تاریخی دنگلوں، پہلوانوں، غنڈوں، سیاسی و سماجی تحریکوں اور ان کے نمایاں کرداروں کے علاوہ لاہور کی کئی قدیمی ہندو شخصیات کے ذکر میں بیلی رام تیل والا کی غنڈہ گردی اور ساہوکاربلاقی شاہ کی سودخوری کے واقعات بھی دیے گئے ہیں کہ ممتاز دولتانہ کے والد احمد یار خاں دولتانہ اور مالیرکوٹلہ کے وزیراعظم نواب ذوالفقار علی خاں تک اس کے مقروض تھے۔

اور اس ہندو سرمایہ دار لچھے شاہ کے اعلانِ پاکستان کے بعد دیے گئے اس چیلنج کی تفصیل بھی درج ہے کہ ’’جو شاہ عالمی کو آگ لگائے گا میں اسے بیٹی کا ڈولا دوں گا‘‘۔

حافظ معراج دین کہتے ہیں:مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے جواب میں موچی دروازے والوں نے شاہ عالمی جلادیا لیکن ہم نے اس کی بیٹیوں کی پوری حفاظت کی۔ مستری محمدشریف کہتے ہیں: ہندو عورتیں ساڑی پہنتی تھیں۔ مسلمان عورت کی شناخت برقع تھی۔

لاہور حیاداری سے اس قدر اٹااٹ تھا کہ رات تک نوجوان لڑکے لڑکیاں لاہور کے سرکلر گارڈن میں کھیلتے۔ کوئی لڑکا لڑکی کی طرف بری نظر سے نہ دیکھتا۔ پھل دار درختوں اور پھول دار پودوں سے بھرے ہوئے اس تاریخی باغ میں رات دس گیارہ بجے تک میں نوجوانوں کو گتکا سکھاتا۔

ہریالی اس قدر تھی کہ شیرانوالہ سے ہم داتا صاحبؒ حاضری کے لیے جاتے تو سڑک کو شیشم کے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہوتا۔ ہم راستہ چھاؤں ہی میں طے کرتے۔

اب وہ دور نہیں آئے گا۔ جب کھوٹ ملاوٹ کا کسی کو پتا ہی نہ تھا۔ جان و مال محفوظ تھی۔ زیورات سے لدی عورت کلکتے سے پشاور تک اکیلی جاتی، کوئی اس کی طرف نظر بھر کے دیکھتا نہ تھا۔

مزید : رائے /کالم