صرف ایک راستہ کھلا ہے

صرف ایک راستہ کھلا ہے
صرف ایک راستہ کھلا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ویسے تو صبح و شام آئین کی بالادستی کا ورد کرتے رہتے ہیں، لیکن عملاً ان کے خیالات آئین سے لگا نہیں کھاتے، مثلاً ان کا یہ بیان ملاحظہ فرمائیں، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ چیف جسٹس دوسرے اداروں کو ٹھیک کرنے کی بجائے اپنے ادارے پر توجہ دیں۔

حیرت ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے آئینی کردار کا ہی علم نہیں۔ پچھلے دنوں چیف جسٹس ثاقب نثار نے بالکل بجا کہا تھا کہ عدلیہ کی حیثیت ایک واچ ڈاگ کی ہے،جس نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ملک میں تمام امور آئین اور قانون کے مطابق چل رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا ایک فرض ملک میں انسانی حقوق کو یقینی بنانا بھی ہے، اسی لئے چیف جسٹس کو از خود نوٹس لینے کا آئینی اختیار بھی دیا گیا ہے۔

خورشید شاہ کو غالباً ایک بڑی تکلیف تو یہ ہے کہ کراچی میں راؤ انوار کی چودھراہٹ کیوں ختم ہو گئی ہے؟ اگر چیف جسٹس کراچی میں نقیب اللہ محسود کے قتل کا از خود نوٹس نہ لیتے تو راؤ انوار کو معطل کیا جاتا اور نہ ہی اس کے خلاف کارروائی ہوتی۔ وہ تو پہلے بھی ایسے سنگین واقعات سے صاف بچ کر نکلتا رہا ہے۔

حیرت ہے کہ ایک اٹھارہویں گریڈ کا پولیس افسر پورے کراچی کو مفلوج کرکے رکھ دیتا ہے۔

کراچی میں اٹھارہویں، انیسویں حتیٰ کہ بیسویں گریڈ کے بھی کئی پولیس افسر ہوں گے، مگر بندے مارنے کا ٹھیکہ تو صرف راؤ انوار نے اٹھا رکھا تھا، اس کی یہی ’’خوبی‘‘ سندھ حکومت میں بیٹھے لوگوں کی شاید کمزوری تھی، لیکن کہتے ہیں کہ جب خدا کی طرف سے لمبی رسی کھینچ لی جاتی ہے تو پھر کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوتی۔ سید خورشید شاہ کو اچھی طرح علم ہے کہ ملک میں سارے ادارے تباہ کر دیئے گئے ہیں اور ان میں اتنی صلاحیت بھی نہیں کہ از خود ٹھیک ہو سکیں۔

کراچی میں چونکہ سپریم کورٹ کے حکم سے لوٹ مار کے کئی دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ واٹر بورڈ پر ایک ریٹائرڈ جج کو بٹھا دیا گیا ہے، چائنا کٹنگ اور عوامی فلاح کے لئے مختص زمینوں پر قائم مافیا کے میرج کلب گرائے جا رہے ہیں، اس لئے شاہ جی تلملا رہے ہیں۔

میں نے کل بھی ایک ٹویٹ میں کہا تھاکہ عمران خان کے خلاف قرارداد پاس کرنے والی سندھ اسمبلی کراچی میں نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف بھی مذمتی قرارداد منظور کرتی تو لعنت بھیجنے کا جواز بالکل ہی ختم ہو جاتا۔۔۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ وہ ملکی تاریخ کے سب سے دبنگ وزیراعظم ہیں اور دوسری طرف ان کی ساری باتیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ بالکل آزاد نہیں، بلکہ نوازشریف کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔

ان کا دبنگ ہونا تو اس وقت ثابت ہوتا جب وہ ملک بھر میں موجود قانون شکنوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے۔ یہ اعلان کرتے کہ ہم آئین و قانون کے ساتھ ہیں، کسی شخصیت کے کاسہ لیس نہیں۔

وہ عدلیہ کے خلاف نوازشریف کا بیانیہ اختیار نہ کرتے، بلکہ یہ کہتے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام ہم سب پر واجب ہے۔ کل انہوں نے عجیب بات کی کہ کمزور آدمی کو جج لگائیں گے توبھگتنا پڑے گا۔

کیا وہ موجودہ ججوں کو کمزور سمجھتے ہیں یا محمد قیوم جیسے ، جو ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہو جاتے ہیں؟۔۔۔ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں کا ہدف عدلیہ بن گئی ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے یا واقعی اب کچھ ایسا ہونے جا رہا ہے کہ دونوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔

اصولاً تو یہ بات درست ہے کہ ہر ادارے کو اپنا کام خود کرنا چاہیے۔ یہ بھی درست ہے کہ عدلیہ کو انصاف کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے، مگر کیا سب ادارے اپنا کام کررہے ہیں، کیا ملک میں آوے کا آوا بگڑا نظر نہیں آتا؟ پوری عدلیہ تو حکومت کے کاموں میں مداخلت نہیں کر رہی، یہ اختیار تو آئین نے صرف چیف جسٹس آف پاکستان کو دیا ہے کہ وہ ملک میں قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کریں۔

سو ایک چیف جسٹس کی مداخلت کو کیوں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ عدلیہ اپنے کام سے منحرف ہو چکی ہے۔ یہ بلاول بھٹو زرداری کیوں کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ انصاف دینے کے سوا ہر کام کر رہی ہے؟

کیا یہ امر کسی سے مخفی ہے کہ کراچی میں اتوار کو بھی عدالت لگا کر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کروڑوں شہریوں کے حقوق کا جو بیڑہ اٹھایا ہے، وہ سندھ حکومت اور اس کے محکموں پر بجلی بن کر گر رہا ہے۔

انکار کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ کیا سندھ حکومت نے اربوں روپے کا پانی کراچی کے عوام کو بیچنے والے واٹرمافیا کے خلاف کارروائی کرنی تھی، کھربوں روپے کی سرکاری زمینوں سے قبضے ختم کرانے تھے، پولیس کو ٹھیک کرنا تھا، 224 بندے مارنے والے راؤ انوار کو ہٹانا تھا؟۔۔۔ایسے کاموں پر اگر سپریم کورٹ کی نظر گئی ہے تو چیخیں کیوں نکل رہی ہیں؟ اس کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ سب کچھ سندھ حکومت کے ایماء پر ہو رہا تھا۔

یہ شاید پہلا موقع ہے کہ ملک میں کلیدی اہمیت رکھنے والے دونوں چیفس علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ اور فوج جمہوریت اور آئین کے ساتھ ہیں۔ دو روز پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے اور کل آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جمہوریت کا چلنا انتہائی ضروری ہے۔

آرمی چیف کسی مرحلے پر بھی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا اللہ نہ کرے آرمی چیف عام انتخابات کا اعلان کریں، یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ البتہ ان کی یہ بات ایک تنبیہ کے برابر تھی کہ جمہوریت کو آرمی سے نہیں، غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے خطرہ ہے۔

جمہوریت کو عوام کے لئے ثمر آور ہونا چاہیے۔اب یہ باتیں تو بہت حوصلہ افزا ہیں۔ سیاستدانوں کو ان کے حق میں ستائشی قراردادیں منظور کرنی چاہئیں، مگر میں نہ مانوں کی رٹ وہیں موجود ہے۔۔۔ ’’سازش ہو رہی ہے، سازش ہو رہی ہے‘‘کی لایعنی گردان جاری ہے۔

ملک میں ادارے اپنا فرض ادا کرنے لگیں تو اسے سازش کا نام دے دیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف بھی کل پریس کانفرنس میں یہی تھیوری بیان کرتے رہے۔ مضحکہ خیزی کی حد تک انہوں نے خود ساختہ دلائل دیئے۔

مثلاً چیئرمین نیب کو یہ کہنا کہ وہ اپنے لوگوں کو تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کا آلہ ء کار بننے سے روکیں، ان کے دلیل سے عاری ہونے کی چغلی کھاتا ہے۔ اگر نیب کے لوگ پیپلزپارٹی کی اتنی ہی سنتے ہیں تو پھر وہ شرجیل میمن کو کیوں رہا نہیں کراسکی؟

ڈاکٹر عاصم حسین ریفرنسز کیوں بھگت رہے ہیں؟ ہمارے ہاں اپنی صفائی کوئی نہیں دیتا، بلکہ دوسروں پر الزام لگا کر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ شہبازشریف کو کل بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ الزام تراشی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے صفائی دینے کا راستہ اختیار کریں۔

ان کی پریس کانفرنس نے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ آصف علی زرداری جیسے ان کے سیاسی مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ شریفوں کی تو ایک نوٹس سے جان نکل گئی، ہم نے تو کئی کئی سال جیل میں گزارے اور اُف تک نہیں کی۔ عمران خان نے بھی شریف فیملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اربوں کی کرپشن بے نقاب ہونے پر شریف مافیا نیب اور عدلیہ کے خلاف دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔

مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بار بار یہ کیوں کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ پر اسمبلی نہیں توڑیں گے۔ یہ صرف ان کا اختیار ہے، انتخابات وقت مقررہ پر ہوں گے۔ میں جب ملک کے تین بڑوں کی باتوں کو ملا کر دیکھتا ہوں تو مجھے ان میں کوئی تفاوت نظر نہیں آتا۔

آرمی چیف کہتے ہیں انتخابات کب ہوں گے، یہ میرا اختیار نہیں۔ چیف جسٹس کہتے ہیں آئین کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔ گویا اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات بھی آئین کے مطابق ہوں گے۔ ان دونوں کی اس واضح سپورٹ کے باوجود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر آخر کس کا دباؤ ہے، جس کا ذکر وہ بار بار کر رہے ہیں، اگر واقعی کوئی ایسی بات ہے تو انہیں پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اس میں سارا قصہ بیان کر دینا چاہیے۔

ہر روز کسی تقریب یا صحافیوں سے کسی ملاقات میں ایک ہی بات کو دہرانا ملک میں خواہ مخواہ کا ابہام پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ ملک میں کوئی ایسا انتشار نہیں، جس سے نظام کو خطرہ ہو۔۔۔ نظام کو خطرہ اس لئے بھی نہیں کہ فوج بار بار جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کرا رہی ہے۔

پھر آج کی سپریم کورٹ کی موجودگی میں یہ ممکن بھی نہیں رہا کہ کوئی غیرآئینی قدم اٹھایا جائے اور عدلیہ اسے نظریہ ء ضرورت کے تحت قبول کرلے۔ اب بہت کچھ بدل چکا ہے، جمہوریت کے خلاف سازشی تھیوری موجودہ حالات میں قصہ ء پارینہ نظر آتی ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ کرپشن کے خلاف ایک قومی بیانیہ سامنے آ چکا ہے، جس پر سپریم کورٹ اور نیب پورا اترنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ہمارے ہاں چونکہ بے لاگ احتساب کی کوئی روایت ہی نہیں رہی اور شریف خاندان کا احتساب تو کبھی ہوا ہی نہیں، اس لئے شور زیادہ ہے، تاہم اس کا حل یہ نہیں کہ آپ سپریم کورٹ یا نیب پر چڑھ دوڑیں، بلکہ اس کا دائمی حل یہ ہے کہ ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ خود کو صاف و شفاف ثابت کیا جائے کہ صرف یہی راستہ اب کھلا ہے باقی سب بند ہو چکے ہیں۔

مزید : رائے /کالم