افغان مہاجرین کے سکولوں میں نصابی تبدیلیاں!

افغان مہاجرین کے سکولوں میں نصابی تبدیلیاں!
افغان مہاجرین کے سکولوں میں نصابی تبدیلیاں!

حضرت اکبر الٰہ آبادی کا وہ شعر تو میری نسل کے ان لوگوں کو ضرور یاد ہوگا جو سکول کے زمانے میں ہر ہفتے منعقد کی جانے والی ’’بزم ادب‘‘ میں مقابلہ ء بیت بازی کے دوران اکثر ’’استعمال‘‘ کیا جاتا تھا اور جس کا مفہوم یہ تھا کہ فرعون جو بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو قتل کروا دیا کرتا تھا وہ اس رسوائی سے بچ سکتا تھا، اگر وہ قتلِ بچگان کی بجائے ان کو بالغ ہونے دیتا اور پھر سب کو کالج کا سٹوڈنٹ بنا دیتا تو قتل کی بدنامی اس کے حصے میں نہ آتی!اکبر الٰہ آبادی چونکہ انگریزی اور افرنگی تعلیم کے ناقد تھے اس لئے ان کا موقف تھا کہ کالجوں کی انگریزی تعلیم طالب علموں کو قتل کر دیتی ہے۔ وہ دیکھنے میں زندہ نظر آتے ہیں لیکن کردار کے اعتبار سے ان کی زندگی، موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔حضرتِ اقبال کا یہ شعر بھی اسی مضمون کا ہے۔

گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے

مردہ ہے مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس

اس شعر کی ظاہری معنویت پر اگرچہ حرف گیری کی جا سکتی ہے لیکن معنوی اور حقیقی حوالے سے دیکھا جائے تو اس میں بیان کی گئی صداقت پر ایمان لانا ہی پڑتا ہے۔۔۔ لگے ہاتھوں اکبری الٰہ آبادی کا وہ شعر بھی دیکھ لیں جو شائد بعض دوستوں کو بھول چکا ہو گا:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کسی سوسائٹی کو اگر تباہ کرنامقصود ہو تو اس کو تعلیم و تربیت کے ہتھیاروں سے بھی برباد کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ کچھ اسی قسم کا موقف حضرت اقبال کا بھی تھا جو ان کی ایک چھوٹی سی نظم میں ملتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: ’’ایک افرنگی فلسفی نے اپنے بیٹے کو کہا کہ دیکھو بیٹا! اگر کسی بھیڑ کے بچے کو شیر کے اوصاف سکھا دیئے جائیں تو وہ اس کے حق میں ایک بڑا ظلم ہو گا۔ یہ ملوکانہ راز اپنے سینے ہی میں محفوظ رہے تو بہتر ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم کو برباد کرنا ہو تو اس کی تعلیم کا نصاب ایسا بناؤ جو تیزاب کی تاثیر رکھے۔

جب قوم کے بچوں اور بچیوں کو اس نصاب کے تیزاب میں ڈالو گے تو ان کا کردار بالکل ٹوٹ پھوٹ کر ملائم ہو جائے گا۔ اب اس رقیق اور ملائم مواد کو جس طرح چاہو توڑموڑ سکتے ہو۔ اس تعلیمی تیزاب (نصاب) کی تاثیر یہ ہوگی کہ اگر سونے کا ہمالہ بھی ہو تو مٹی کا ایک ڈھیر بن جائے گا۔۔۔ اس پانچ اشعار والی اس مختصر نظم کے آخری دو شعر یہ ہیں:

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

تعلیم ہمیں انسان بھی بنا سکتی ہے اور حیوان سے بدتر بھی۔۔۔ یہ جوہر روز خودکش حملے ہو رہے ہیں اور ایک کے بعد ایک نوجوان موت کے منہ میں جا رہا ہے( اور خوشی خوشی جا رہا ہے) تو یہ تعلیم و تربیت ہی کا ’’ثمر‘‘ تو ہے وگرنہ جن دینی درسگاہوں میں خودکشی کا یہ درس دیا جاتا ہے ان میں کیا یہ نہیں پڑھایاجا سکتا کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے؟ خالقِ کائنات نے تو جان بچانے کے لئے حرام چیزوں کو بھی حلال کر دیا کہ جان بچانا فرضِ عین ہے۔

لیکن ان خودکش حملہ آوروں کو یہ تعلیم دینا کہ جان گنوانا فرضِ عین ہے تو اس عقیدہ سازی میں طریقہء تدریس، نصاب اور مدرس کا رول اہم ترین ہے۔ انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ ’ماں باپ بچے کو آسمان سے زمین پر لانے کا باعث ہوتے ہیں جبکہ استاد بچے کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر لے جاتا ہے!‘۔۔۔ شائد خودکش حملہ آوروں کے مدرسوں کے اساتذہ نے اس مقولے کے نصفِ آخر کے معانی کا وہ مطلب نکال لیا ہے جو سادہ لوح نوجوانوں کے گلے میں جنت کی چابی ڈال دیتا ہے اور بقول شیخ رشید، خدا حافظ کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’جابچہ راوی۔۔۔ نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی!‘‘

میں حیران ہوں کہ لارڈمیکالے نے 1835ء میں برصغیر کے برطانوی حکمرانوں کو جو مشورہ دیا تھا کہ اس ملک کے طول و عرض میں انگریزی زبان کی تدریس کے لئے سکول اور کالج کھولے جائیں اور ذریعہ ء تعلیم انگریزی ہو تو اس دور کے برٹش وائسرائے لارڈ بینٹنک نے کس بصیرت کا ثبوت دے کر ہندوستان بھر میں فارسی زبان کی جگہ انگریزی زبان کو سرکاری زبان قرار دے دیا تھا؟

اس کے فوراً بعد انگریز معلموں اور پروفیسروں نے برصغیر کے ہر شعبہ ء زندگی میں ہر قسم کے فارسی نصاب کو انگریزی زبان میں تبدیل کرکے اس وسیع و عریض خطے کی ساری تقدیر بدل ڈالی! لیکن جب 1947ء میں میکالے کے ہم وطنوں کو یہاں سے کوچ کرنا پڑا تو پاکستان اور بھارت کے حکمران کیسے بدنصیب تھے کہ انہوں نے انگریزی کو تعلیمی درسگاہوں میں باقی رکھ کر برٹش جسم کو تو یہاں سے دیس نکالا دے دیا لیکن برٹش ذہن کو یہیں رہنے دیا۔۔۔ اور آپ یہ تو جانتے ہیں کہ تن کی دنیا چھاؤں ہوتی ہے۔۔۔ آتا ہے دھن جاتا ہے دھن۔۔۔جبکہ من کی دولت مستقل ہوتی ہے۔ ’من‘ کا مطلب اگر ’دل‘ لے لیا جائے تو بھی دل کا دوسرا نام ’ذہنی جسم‘ ہے۔

اگر شک ہو تو آپ بے شک ڈکشنری اٹھایئے اور اس میں Heart اور Brainکے معانی اور مفہوم دیکھ لیجئے۔

پاکستان کو آزاد ہوئے 70برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ہم میں اب تک کوئی پاکستانی میکالے پیدا نہیں ہو سکا۔۔۔ قحط الرجال کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔۔۔ کہا جا سکتا ہے کہ 1947ء کے بعد ملک میں کئی میکالے تو پیدا ہوئے لیکن کوئی لارڈ بینٹنک (Bentinck) نہ تھا جس نے میکالے کا مقالہ پڑھ کر وہ فیصلہ صادر کر دیا تھا جس کے اثرات اب تک ہم پاکستانیوں کی نس نس میں سمائے ہوئے ہیں!

دوسری طرف دیکھیں تو اس برطانوی فلسفی کے خیالات کو دو سو سال بعد آج کے بعض امریکی ماہرین تعلیم و تدریس نے کس سرعت اور کس صفائی سے اپنا لیا ہے۔ آج افغانستان میں جو سکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھل رہی ہیں ان کا ذریعہء تدریس انگریزی ہے،فارسی یا پشتو نہیں جو افغانستان کے سواد اعظم (عوام) کی زبانیں ہیں۔۔۔

برسبیل تذکرہ یاد آیا کہ 1970ء میں جب میری پوسٹنگ ایک ملیشیا یونٹ (قلات سکاؤٹس ،خضدار) میں تھی تو آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر سے مجھے افغان آرمی کی ایک مینوئل (Manual) بھیجی گئی جس میں یہ تفصیل درج تھی کہ ایک افغان انفنٹری ڈویژن کی تنظیم و تشکیل کیا ہوتی ہے، اس کا تصورِ جنگ کیا ہے، وہ حملہ کیسے کرتا اور دفاع کیسے کرتا ہے، اس کی لاجسٹکس کیا ہیں، ہتھیار اور ٹریننگ کیا ہے، راشن اور سپلائی کے طور طریقے کیا ہیں، انٹیلی جنس اور ایڈمنسٹریشن کے اصول کیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یہ مینوئل فارسی زبان میں تھی اور فارسی بھی ایرانی نہیں بلکہ افغانی فارسی تھی جس کو ’دری‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی پروفیشنل عسکری لغت، ایرانی پروفیشنل عسکری لغت سے یکسر مختلف تھی(اور آج بھی ایسا ہی ہے)۔

جب مجھے یہ خفیہ ( Secret)ذمہ داری سونپی گئی تو اس کی تکمیل کے لئے مجھے جو محنت کرنی پڑی اس کی تفصیل طویل ہے۔ از راہِ اتفاق قلات شہر کے شہریوں کی زبان بھی فارسی / دری تھی۔ قلات، خضدار سے 150کلومیٹر اوپر شمال میں واقع ہے اور کوئٹہ اور خضدار کے عین درمیان میں RCD ہائی وے پر پڑتا ہے۔

خان آف قلات بھی بلوچی کم اور فارسی زیادہ بولتے اور سمجھتے تھے۔ علاوہ ازیں نوشکی سے تفتان تک کے علاقے میں (احمد وال اور دالبندین وغیرہ) کے عوام الناس کی زبان بھی دری تھی۔ نوشکی سے اوپر شمال میں پنج پائی جو افغان سرحد پر واقع ہے وہاں صوبہ ہلمند کے رہنے والے کئی سابق افغان فوجیوں سے میری راہ و رسم بڑھی تو وہ تمام اصطلاحات جو اس پمفلٹ (Manual) میں تھیں اور دری زبان میں تھیں میرے لئے سمجھنا آسان ہو گئیں۔

میں نے تین چار ماہ میں اس مینوئل کا انگریزی میں ترجمہ کر دیا۔ انگریزی زبان میں ہمارا اپنا بھی ایک پمفلٹ اسی موضوع پر ہے جس کا عنوان ہے (An Infantry Division in Battle) یعنی ’’میدان جنگ میں ایک انفنٹری ڈویژن‘‘۔۔۔ میں نے ترجمہ کرتے ہوئے وہی اسلوب برقرار رکھنے کی کوشش کی جو ہماری اپنی عسکری درسگاہوں میں تدریس کیا جاتا ہے۔

فرق یہ تھا کہ ہمارا نصاب برٹش آرمی کا نصاب تھا کیونکہ پاکستان آرمی براہ راست برٹش انڈین آرمی کا ورثہ تھی جبکہ وہ افغان پمفلٹ ’رشین آرمی‘ کے طریقِ جنگ کا عکاس تھا۔

چنانچہ ترجمہ کرتے ہوئے تفہیم مطالب میں مجھے اپنے افغان دوستوں سے کافی مدد ملی۔ جب وہ پمفلٹ ترجمہ ہو کر آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں گیا تو چند دنوں بعد مجھے ڈی جی آئی ایس آئی کا ایک DOموصول ہوا جس میں میری کاوش کو سراہا گیا اور مجھے ’مبارک باد‘ دی گئی ۔

اس واقعہ کا بیان خودستائی نہیں۔۔۔ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ 1947ء کے فوراً بعد اگر کوشش کی جاتی تو نہ صرف ہمارے سویلین اداروں بلکہ مسلح افواج میں بھی اردو زبان رائج کی جا سکتی تھی۔ یہ درست ہے کہ فوج (Military) ایک ٹیکنیکل اور پروفیشنل شعبہ ہے۔

اس کی ڈیڑھ دو سو سالہ تاریخ کو فوراً اردو میں ڈھالا نہیں جا سکتا تھا لیکن اگر پہلے مرحلے میں انگریزی اور اردو دونوں کو ملا کر رائج کر دیا جاتا تو آج سات عشروں کے بعد عسکری اردو کم از کم عسکری انگریزی کی کچھ نہ کچھ ہمسری تو کر سکتی تھی!

وہ تین روز پہلے امریکہ میں ’اینٹی پاکستان مہم‘ کی تفصیل تو آپ کی نگاہوں سے گزر چکی ہوگی۔اگر نہیں تو روزنامہ ’’ڈان‘‘ کا 20جنوری کا شمارہ دیکھ لیجئے اس کے صفحہ اول پر یہ تفصیل درج ہے، جس میں ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں ’’کراچی کو آزاد کرو‘‘ کے عنوان سے میڈیائی پروپیگنڈے کا وہ دوسرا دور چل رہا ہے جس کے پہلے دور کی شروعات پاکستان میں پہلے ہی ہو چکی ہیں (اگر وہ بھی آپ کے علم میں نہیں تو نیٹ پر جا کر ’اینٹی پاکستان سلیبس فار افغان سٹوڈنٹس‘ کے الفاظ ٹائپ کریں تو آپ پر سب کچھ آئینہ ہو جائے گا)۔۔۔ اس میں آپ کو خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کا مختصر سا ایک سرکاری خط بھی ملے گا جس کی سیکیورٹی کلاسی فیکیشن ’اشد ضروری‘ (Most Immediate) اس مراسلے کے اوپر دائیں طرف ٹاپ پر لکھی ہوئی ہے۔

یہ مراسلہ کے پی کے ہوم اینڈ ٹرائیبل افیئرز، ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کمشنر افغان ریفیوجیز کو لکھا گیا ہے۔ اس کا موضوع (Subject) ہے: ’’کے پی کے افغانی سکولوں میں نصاب کی تبدیلی‘‘۔۔۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پہلی کلاس سے چھٹی کلاس تک کے سلیبس میں افغان بچوں اور بچیوں کو پڑھائے جانے والے نصاب میں جو نئی تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کی اطلاع نہ پاکستان کے صوبائی محکمہ ء تعلیم کو دی گئی ہے، نہ مرکزی محکمہ ء تعلیم کو۔۔۔ درج ذیل تبدیلیاں حد درجہ باعث تشویش ہیں:

1۔ انگریزی کی کتاب کے ہر صفحے پر افغانستان کا جھنڈا چھاپا گیا ہے۔

2۔انڈیا کو افغانستان کا دوست ملک ظاہر کیا گیا ہے۔

3۔پاک۔ افغان سرحد کو درانڈ لائن دکھاگیا ہے۔

4۔گلگت۔ بلتستان اور متنازعہ کشمیری علاقوں کو جماعت ششم کی سوشل سٹڈیز کی کتاب میں، انڈیا کا حصہ ظاہر کیاگیا ہے۔

مراسلے کے آخر میں کہا گیا ہے کہ ان چاروں باتوں کا فوری جواب دیا جائے تاکہ وزارت داخلہ کو صورتِ حال سے آگاہ کیا جاسکے۔

قارئین محترم! مراسلہ کے یہ مندرجات آپ نے دیکھے۔۔۔۔کیا یہ نصابی تبدیلی، امریکہ۔ انڈیا۔ افغانستان کی ملی بھگت کے بغیر روبہ عمل لائی جا سکتی ہے؟۔۔۔ کیا اب بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھا جا سکتا کہ اکبر الٰہ آبادی نے فرعون کو جو مشورہ دیا تھا اس پر امریکی، بھارتی اور افغان لابی کس طرح ہو بہو عمل کر رہی ہے؟۔۔۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...