کیمیکل یونٹوں کی پیداواری لاگت میں خوفناک اضافہ ہو گیا، ظفر محمود

کیمیکل یونٹوں کی پیداواری لاگت میں خوفناک اضافہ ہو گیا، ظفر محمود

لاہور( کامرس رپورٹر)خام کیمیائی مواد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاز سے کیمیکل یونٹوں کی پیداواری لاگت میں خوفناک اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے مقامی کیمیکل انڈسٹری شدید بحران سے دوچار ہے، اگر حکومت نے اس مسئلے کو پاکستان کیمیکل مینوفیچررز ایسوسی ایشن کی سفارشات کے مطابق حل نہ کیا تو ملک میں تمام کیمیکل فیکٹریاں بند ہو جائیں گی ۔ یہ بات پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پی سی ایم اے)کے سینئر وائس چیئرمین ظفر محمود نے گزشتہ روز کیمیکل فیکٹریوں کے مالکان اور پی سی ایم اے کے ایگزیکٹوممبران کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پی سی ایم اے کے وائس چیئرمین عبدالقیوم اور سیکرٹری جنرل اقبال قدوائی نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کیمیکل فیکٹریاں ملک میں متعد د ویلیو ایڈڈ کیمیکلز کی تیاری کیلئے مختلف قسم کے درآمدی مواد بیرون ملک سے منگوا کر بطور خام مال استعمال کرتی ہیں۔لیکن ایسے مواد پر بھاری ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاز سے انکا پیداواری عمل بے حد مہنگا ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر متذکرہ ریگولیٹری دیوٹی ختم نہ کی گئی تو ٹیکسٹائل سمیت مختلف برآمدی صنعتوں کیلئے مقامی سطح پر تیار کئے جانے والے کیمیکلز بھی بیروں ملک سے درآمد ہونے لگیں گے جس سے نہ صرف درآمدی بل میں خطیر اضافہ ہو جائے گا بلکہ مقامی کیمیکل فیکٹریوں کے مالکان اور انکے کارکنوں کو بے روزگاری کا سامنا بھی کرنا پڑ جائے گا۔قبل ازیں پی سی ایم اے کے سیکرٹری جنرل اقبال قدوائی نے اجلاس کو بتا یا کہ دو تین ماہ قبل جب حکومت نے مختلف اشیا ء پر ریگولیٹر ی ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کیا تو پی سی ایم اے کی طرف سے اسی وقت متبادل تجاویز پر مبنی رپورٹ ایف بی آر کو ارسال کر دی گئی تھی مگر افسوس کہ ایف بی آر نے چند ایک کیمیکلز پر سے ڈیوٹی کی شرح کم کرکے ہمیں طفل تسلی دے کر ٹال دیا ۔

جس سے ہماری انڈسٹری کے بحران میں رتی بھر بھی کمی نہیں آئی۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے سٹیک ہولڈرز اور ممبران کے ساتھ دوبارہ مشاورت کرنی پڑ گئی ہے۔ اجلاس کے شرکاء کی طرف سے سامنے آنے والی تجاویز کی روشنی میں جو نئی سفارشات مرتب کی گئی ہیں انکے مطابق وارنش، کوکوا میڈوپراپلین بیٹین، پگمنت تھکنر اور گلاس مائکرو سفیئر سمیت مختلف ضروری کیمیکلز سے متعلقہ 14 ۔ ایج ایس کوڈز کو ریگولیٹری ڈیوٹی سے مثتثنیٰ قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے اور پی سی ایم اے کی طرف سے تحریری تجاویزپر مشتمل تازہ رپور ٹ ایف بی آر حکام اور متعلقہ وزارتوں کو اجلاس کے فوری بعد ارسال بھی کر دی گئی ہے۔پی سی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین ظفر محمود اور سیکرٹری جنرل اقبال قدوائی کے دستخطو ں کے ساتھ ارسال کی جانے والی تازہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ متذکرہ 14۔ ایج ایس کوڈز کے زمرے میں آنے والے کیمییائی مواد، مقامی کیمیکل یونٹوں میں بطور خام مال استعمال کئے جاتے ہیں اور ان کی مدد سے پینٹ(رنگ روغن) کوٹنگز، ایملشن، پیپر کیمیکلزاور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز تیار کئے جاتے ہیں۔ چٹھی میں ممبر کسٹم محمد زاہد کھوکھر سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ریگولیٹری ڈیوٹی پر ہونے والے اگلے جائزہ اجلاس میں پی سی ایم اے کے تجویز کردہ ایج کوڈز پر سے ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹانے کو فیصلہ کریں۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...