پی ایچ ایف میں کوئی کرپشن نہیں، الزامات بے بنیاد ہیں:اخلاق عثمانی

پی ایچ ایف میں کوئی کرپشن نہیں، الزامات بے بنیاد ہیں:اخلاق عثمانی

اسلام آباد(اے پی پی) پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف )کے فنانس سیکرٹری محمد اخلاق عثمانی نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے فنڈز میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی، تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور اپنے دور کا پائی، پائی کا حساب دینے کیلئے تیار ہوں۔ گزشتہ روز ’’میڈیا‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق صدر اختر رسول اور سیکرٹری رانا مجاہد کے دور کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے بقایاجات کی 75 فی صد ادائیگی ہو چکی ہے اور بقایا 25 فی صد کی رقم کی ادائیگی بھی جلد ایک دو ماہ میں کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بریگیڈیئر(ر) سجاد کھوکھر اور سیکرٹری جنرل شہباز احمد سنیئر ہاکی کیلئے مخلص ہیں ان کی بھی کوشش ہے کہ ملک میں ہاکی کا مورال بلند ہو اور ان کو ایک بات کا ضرور کریڈٹ ملنا چاہئے کہ انہوں نے ہاکی کی بحالی کیلئے ورلڈ الیون ٹیم کو پاکستان میں لانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے میں ملک میں ہاکی کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اور یہ بات ضروری ہے کہ وزرات تعلیم اور کھیل کو اکٹھا ہونا چاہیے۔ فنانس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا تعلق فنانس سے ہے اور میں اپنے دور فنانس سیکریٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن کے فنڈز کے حوالے سے ایک، ایک پائی پائی کا حساب دینے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر(ر)خالد سجاد کھوکھر اور سیکرٹری جنرل شہباز احمد سنیئر کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی بھی رقم ادا نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ فنانس میں کچھ خامیاں تو ہو سکتی ہیں لیکن فنڈز میں کرپشن نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ-16 2015ء کا حکومت فیڈریشن کے فنڈز کا آڈٹ کر چکی ہے اور 2016-17ء کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ ہو چکاہے اس سلسلہ میں حکومت کو بھی ایک ماہ قبل خط لکھ دیا گیا تھا اور وہ بھی ہمارا آڈٹ کرے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں اخلاق عثمانی نے کہا کہ فیڈریشن کا کام کھلاڑیوں کو تمام سہولیات فراہم کرنا ہے نہ کہ کھیل کے میدان میں رزلٹ حاصل کرنا یہ تو کام کھلاڑیوں کا ہے کہ کھیل کے میدان میں بہتر سے بہتر رزلٹ حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کھلاڑیوں کو ملک میں انٹرنیشنل ٹیموں کے ساتھ ہاکی کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا اس وقت تک ہاکی کی بحالی ناممکن ہے، ورلڈ الیون ٹیم کے ساتھ میچ رزلٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی میں کھیلے گئے پہلے میچ میں ہمارے کھلاڑیوں کو سیکھنے کا موقع ملا کیونکہ ہماری جونیئر ٹیم ہے اور اس میں تمام نئے کھلاڑی شامل ہیں، پہلے میچ میں ہماری ٹیم اس لئے ہاری کہ ان کے پاس ورلڈ الیون ٹیم جیسا تجربہ نہیں تھا۔ لاہور میں کھیلے گئے دوسرے میچ میں کھلاڑیوں کا بہتر رزلٹ تھا جس کی وجہ سے میچ 3-3 گول سے میچ برابر رہا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی