ٹیکس افسران کو دیئے صوابدیدی اختیارات ختم کئے جائیں ، وفاقی چیمبر

ٹیکس افسران کو دیئے صوابدیدی اختیارات ختم کئے جائیں ، وفاقی چیمبر

لاہور( کامرس رپورٹر)ٹیکس افسران کو دیئے گئے صوابدیدی اختیارات کو ختم کیا جائے ۔ملک میں Ease of Doing Business ( ای او ڈی بی)کی رینکنگ کو بہتربنایا جائے ،معیشت کو دستاویزی کرنے کے لئے ایف بی آر میں ریفارمز لائی جائے۔کاروباری برادری کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے اور انڈسٹری کے فروغ کیلئے حکومت کی طرف سے ٹیکس ایمنسٹی سکیم دی جائے جبکہ ای او ڈی بی کی رینکنگ کوبہتر بنانے کے لئے ون ونڈو سہولت سنٹر کا آغاز کیا جائے گا۔ایف پی سی سی آئی کاروباری برادری کے مسائل کے حل کیلئے چاروں صوبوں میں بزنس سمپوزیم منعقد کروائے گئی ۔ان خیالات کا اظہار کاروباری برادری کے مسائل کے حل کیلئے منعقد ہ ایف پی سی سی آئی پنجاب بزنس سمپوزیم ‘‘ کے بعد پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے سمپوزیم کے چےئرمین ،سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں ادریس،ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور، سابق صدر ایف پی سی سی آئی و سابق سی ای او ٹی ڈیپ ایس منیر،سارک چیمبر کے نائب صدر افتخار علی ملک،نائب صدر ریجنل چےئرمین چوہدری عرفان یوسف اور چوہدری جاوید اقبال نے کیاجبکہ اس موقع پرزبیر طفیل ،منظور الحق ملک ، زبیر طفیل ، میاں وقار ، اامجد علی چوہدری ، عثمان غنی ،راجہ حسن اختر ،طاہر جاوید ملک ،تیمور علی ملک ،شبیر احمد ، عظمت جاوید ،اعجاز احمد ، میاں ندیم ، سید ثروت شاہ ، پیر ناظم حسین شاہ ، کاشف الر حمن ،اشرف بھٹی ، طارق فیروز ، میاں سلیم ، محبوب سرکی ،ملک بھر کی چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے صدور اور چےئرمینز بھی موجود تھے۔رہنماؤ ں کا کہنا تھا کہ پاکستان ایزی آف بزنس کی رینکنگ میں 190 ممالک میں 147 ویں نمبر پر ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پنجاب کی کاٹن بیلٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور کاٹن بیلٹ پر شوگر انڈسٹری لگ رہی ہے۔گورنمنٹ کو زون سسٹم شروع کر نا چاہیے۔جس میں شوگر،کاٹن،مکئی اور چاول کی کاشت کے لئے زون مختص ہونے چاہئیں۔بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جائے۔جس کی وجہ سے لوگ بینکاری کے نظام سے دور رہے ہیں اور کیش رکھنے پر مجبور ہیں۔ہمیں اپنے بینکاری کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔ایران اور دوسرے ممالک جہاں ہمارا بینکنگ سسٹم موجود نہیں وہاں بینکنگ نظام کو جلد از جلد شروع کیا جائے۔انہوں نے مزید کہاکہ ریگولیٹری ڈیوٹی ملکی بہتری کے لئے نافذ کرنا چاہیے ۔خام مال پر آر ڈی کو فوری ختم کیا جائے۔وفاقی اور صوبائی سطح کے سیل ٹیکس میں مکمل ہم آہنگی اور مسابقت ہونا چاہئے۔انفراسٹرکچر سیس کو استثنیٰ قرار دیا جائے۔چاروں صوبوں میں سروسز سیکٹرپر مختلف ٹیکس لاگو ہیں جس سے صوبائی سطح پر بھی مارکیٹ کمپیٹشن پیدا ہو رہاہے۔کاروبار اور انڈسٹری کی ترقی اوربجلی کے بحران کو حل کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے۔حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو Feasible پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جائیں۔تمام حکومتی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چیمبرز ،ایسوسی ایشنز اور ایف پی سی سی آئی کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ضلعی سطح پرہر چیمبر میں ٹیکس سے متعلقہ معلوماتی ہیلپ ڈیسک قائم کئے جائیں۔صنعتوں میں سرمایہ کا ری اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے انڈسٹریل اسٹیٹس کو فروغ دیا جائے۔ٹیکس ریفینڈکو یقینی بنایا جائے۔ہماری انڈسٹری کو سکلڈاور سیمی سکلڈ مین پاورکی کمی کا شدت سے سامناہے۔سی پیک منصوبوں میں مقامی بزنس کمیونٹی کو بھی وہی سہولیات دی جائیں جوچائنزکو دی جا رہی ہیں۔

خام مال پر آر ڈی کو فوری ختم کیا جائے۔وفاقی اور صوبائی سطح کے سیل ٹیکس میں مکمل ہم آہنگی اور مسابقت ہونا چاہئے۔انفراسٹرکچر سیس کو Temporay Imports for re-exportsپر استثنیٰ قرار دیا جائے۔چاروں صوبوں میں سروسز سیکٹرپر مختلف ٹیکس لاگو ہیں جس سے صوبائی سطح پر بھی مارکیٹ کمپیٹشن پیدا ہو رہاہے۔کاروبار اور انڈسٹری کی ترقی اوربجلی کے بحران کو حل کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے۔حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو Feasible پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جائیں۔تمام حکومتی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چیمبرز ،ایسوسی ایشنز اور ایف پی سی سی آئی کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ضلعی سطح پرہر چیمبر میں ٹیکس سے متعلقہ معلوماتی ہیلپ ڈیسک قائم کئے جائیں۔ صنعتوں میں سرمایہ کا ری اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے انڈسٹریل اسٹیٹس کو فروغ دیا جائے۔ٹیکس ریفینڈکو یقینی بنایا جائے۔ہماری انڈسٹری کو سکلڈاور سیمی سکلڈ مین پاورکی کمی کا شدت سے سامناہے۔سی پیک منصوبوں میں مقامی بزنس کمیونٹی کو بھی وہی سہولیات دی جائیں جوچائنزکو دی جا رہی ہیں۔

Ba

مزید : کامرس