سیاسی سرگرمیوں میں تیزی مسلم لیگ (ن) والوں کا جارحانہ رویہ!

سیاسی سرگرمیوں میں تیزی مسلم لیگ (ن) والوں کا جارحانہ رویہ!

متحدہ حزب اختلاف کے لاہور شو کے بعد سیاست اور سیاسی سرگرمیوں میں نئی روح آ گئی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا طرز عمل جارحانہ تھا اب جلسے کے بعد مسلم لیگ (ن) کا بھی یہی ہو گیا، سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف تو پہلے ہی برہم تھے اب صوبائی وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف بھی فرنٹ فٹ پر آ گئے ہیں اور باب پاکستان کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح کرتے وقت انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سابق صدر پیپلزپارٹی (پی) کے چیئرمین آصف علی زرداری کو براہ راست مخاطب کیا اور زور دار آواز میں الزام دہرائے اور لگائے باب پاکستان کا آئیڈیا مرحوم درویش وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کا تھا اور انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم محمد نوازشریف سے سنگ بنیاد رکھوایا تھااس کے بعد یہ فریضہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی ادا کیا اور اب وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے تعمیر نو کے لئے سنگ بنیاد رکھا اور اعلان کیا کہ اسے تیزی سے مکمل کیا جائے گا باب پاکستان در اصل اس جگہ تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں برصغیر کی تقسیم کے وقت مہاجرین کا سب سے بڑا کیمپ لگا تھا۔ بھارتی حصے سے لٹ پٹ اور قربانیاں دے کر آنے والوں کو والٹن کے اس مقام پر عبوری کیمپ بنا کر رکھا گیا تھا اور پھر ان کی آباد کاری مرحلہ وار ہوتی رہی اس مقام سے قیام پاکستان کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ اسی لحاظ سے غلام حیدر وائیں نے یاد گار کی تعمیر کا مشورہ دیا اور منصوبہ بنا کر تعمیر کا افتتاح بھی کرایا بوجوہ یہ ابھی تک تعمیر نہ ہو سکا الٹا کئی سکینڈل سامنے آئے اور خورد برد کا بھی ایک بڑا کیس بنا اب جو منصوبہ بنا اس کے لئے چار ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کر دی گئی۔ 117 ایکڑ پر آڈیٹوریم، میوزیم، لائبریری، سٹیڈیم، کھیل کے میدان، تالاب اور باغ بنیں گے وزیر اعلیٰ نے یہاں یہ بھی اعلان کیا کہ اسے بہت تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے لئے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے علاوہ خواجہ سعد رفیق نے بھی جذباتی خطاب کیا۔ محمد شہباز شریف نے یہاں یہ بھی کہہ دیا ’’جماعت اور عوام نے مجھے وزیر اعظم کا اہل جان کر وزیر اعظم منتخب کیا تو میں کراچی اور پشاور کو بھی لاہور کے برابر لا کھڑا کروں گا۔‘‘ یوں خود کو انہوں نے پہلی بار وزیر اعظم کے عہدہ کی حیثیت سے امیدوار کے طور پر پیش کیا۔

ادھر آصف علی زرداری لاہور میں بیٹھے سرگرم سیاست ہیں۔ انہوں نے کل جماعتی حزب اختلاف کے جلسے میں شرکت اور خطاب کے بعد بلاول ہاؤس لاہور کو مرکز بنا لیا، پارٹی راہنماؤں سے مسلسل مشاورت کی اور پھر ایک اہم اعلان کر کے یہ ظاہر کر دیا کہ پیپلزپارٹی پھر سے عوامی سیاست کی طرف لوٹ آئی ہے۔ انہوں نے اعلان کرتے ہوئے پارٹی کو تیاری کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے روز لاہور کی تاریخی جلسہ گاہ موچی دروازہ میں جلسہ ہوگا اور وہ خود یہاں خطاب کریں گے۔

لاہور کی یہ تاریخی جلسہ گاہ آج کل ویران اور لوڈر ٹرکوں کا اڈہ بن چکی ہوئی ہے حالانکہ اس کے اندر باقائدہ سٹیج بنا کر اسے جلسہ گاہ کی شکل دی گئی تھی۔ اس جلسہ گاہ کی نسبت تحریک پاکستان سے ہے اور سول نافرمانی کے جلوس یہیں سے مرتب ہو کر جاتے تھے اس کے بعد ممتاز دولتانہ اور نواب ممدوٹ سے لے کر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے علاوہ بڑے بڑے نامور لیڈروں نے یہاں خطاب کیا۔ حبیب جالب (مرحوم) ے اپنی مشہور غزل ’’ایسے دستور کو صبح بے نور کو ۔۔۔ میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا‘‘ پہلے یہیں پڑھی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک کے جلسے بھی یہیں ہوتے تھے۔یہ لاہور شہر کا مرکز ہے اور یہاں کا کامیاب جلسہ اہمیت رکھتا تھا کہ اندرون شہر کے ساتھ ملحق سرکلر باغات کا حصہ تجاوزات کی وجہ سے یہ بھی ویران ہو چکا ہوا ہے اب آباد ہو جائے گا۔

آصف علی زرداری نے متحدہ حزب اختلاف کے غبارے سے بھی ہوا نکالی کہ شیخ رشید اور عمران خان کی طرف سے پارلیمینٹ کے بارے میں کہے گئے الفاظ کو واضح طور پر غلط کہا اور پارلیمینٹ کی توقیرکے لئے کمر بستہ ہونے کا اعلان کیا۔ نتیجہ کے طور پر متحدہ حزب اختلاف میں اختلافات پیدا ہو گئے ابھی تک ایکشن کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا اور یوں آئندہ لائحہ عمل نہیں بن پایا خبر گرم ہے کہ قبلہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بیرونی ممالک کے جو پروگرام موخر کئے تھے ان کے منتظمین کی طرف سے اصرار شروع ہو گیا ہے کہ وہ ملتوی شدہ لیکچروں کے لئے فوراً آئیں۔ امکانی طور پر وہ چند روز کے لئے جا بھی سکتے ہیں۔

آصف علی زرداری نے لاہور میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مسلم لیگ (ن) کے حلیف جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن سے بھی مشاورت کی یہ بہت اہم ملاقات تھی مولانا فضل الرحمن کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا دونوں راہنماؤں کے درمیان مارچ میں متوقع سینٹ کے الیکشن اور کے پی کے کی سیاسی ہیئت اور مستقبل پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں راہنما بلوچستان کی حالیہ تبدیلی میں بھی اکٹھے تھے۔ مولانا نے زرداری کو مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کو بھی کہا، جبکہ آصف زرداری نے مستقبل کی سیاست پر بات کی۔

مزید : ایڈیشن 1