قومی اسمبلی کا اجلاس، کورم کا مسئلہ، حکومت پورا نہ کرسکی، اجلاس ملتوی

قومی اسمبلی کا اجلاس، کورم کا مسئلہ، حکومت پورا نہ کرسکی، اجلاس ملتوی

قومی اسمبلی اورسینٹ کے اجلاس جاری ہیں قومی اسمبلی میں حکومت کوایک بار پھرکورم کامسئلہ درپیش ہے پیرکے روز قومی اسمبلی میں کورم پورا نہ ہونے پر ایوان میں معمول کی کاروائی شروع نہ ہوسکی،اجلاس کی کاروائی ایک گھنٹہ تک معطل رہنے کے بعد بھی دوبارہ گنتی پر کورم پورا نہ ہوسکا، دوران اجلاس سپیکر نے وقفہ سوالات کااعلان کیا تو پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کیلئے مائیک مانگا جس پر اسپیکر نے ان کو بات کرنے کی اجازت دی ،شیریں مزاری کاکہنا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف قرار داد منظور کی گئی،مگر ہمیں اس پر بات کرنے کا موقع کئی دنوں سے نہیں دیا جارہا،ان کی اتنی بات پر سپیکرنے انکا مائیک بند کرادیا،مائیک بند ہونے پر شیریں مزاری بغیر مائیک کے بولتی رہیں، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ قواعد پڑھ لیں، وقفہ سوالات کے دوران نکتہ اعتراض پر بات نہیں کر سکتے، جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ وہ کورم کی نشاندہی کرتی ہیں، اسپیکر نے ان کا مائیک کھلوانے کی ہدایت کی اور انہوں نے کورم کی نشاندہی کی، اسپیکر نے گنتی کی ہدایت کی ، گنتی پر کورم پورا نہ ہو سکا،

ایوان بالا میں میں بھی پیرکے روز حکومت کو سبکی کا سامنا پڑا ، حکومتی مخالفت کے باوجود ایف آئی اے کو آزاد اور خودمختار ادارہ بنانے اور حکومتی مداخلت سے آزاد کرنے کیلئے وفاقی تحقیقاتی کمیشن بل 2018ایوان میں پیش کر دیا گیا،بل پاکستان تحریک انصاف کے رکن سینیٹر اعظم سواتی نے پیش کیا، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بل کو قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کر دیا،اجلاس میں جانوروں کے ساتھ ظلم کی ممانعت کے ایکٹ 1890میں مزید ترمیم کا بل (جانوروں کیساتھ ظلم کی ممانعت(ترمیمی) بل 2018 اور سوک ایجوکیشن کے فروغ اور شہریوں کے بنیادی حقوق اور فرائض کے حوالے سے نیشنل سوک ایجوکیشن بل 2017ایوان میں پیش کئے گئے ، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے دونوں بلز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیئے۔پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر سحر کامران نے تعزیرات پاکستان اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1998میں مزید ترمیم کرنے کا بل فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2017ایوان میں پیش کیا ۔ حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت نہیں کی گئی، جس پر چیئرمین سینیٹ نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ سینیٹر اعظم سواتی نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو آزاد اور خودمختار ادارہ بنانے اور حکومتی مداخلت سے آزاد کرنے کیلئے وفاقی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کیلئے نئے قانون کے نفاذ کیلئے وفاقی تحقیقاتی کمیشن بل 2017ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس کی حکومت نے مخالفت کی ۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ووٹنگ کرائی۔ تحریک کی حمایت میں 26جبکہ مخالفت میں 22ووٹ ڈالے گئے۔ اعظم سواتی نے کہا کہ بل کے تحت ایف آئی اے کو حکومت کی مداخلت سے آزاد کرا کے ایک خودمختار اور آزاد ادارہ بنانے کیلئے شقیں شامل ہیں اور یہ انتہائی اہم اور جامع بل ہے ،سینٹ میں ممتاز سائنسدان ڈاکٹر اشفاق احمد، ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان، جنرل خالد شمیم وائیں، نقیب اللہ محسود،ممتاز کالم نگار منو بھائی کے انتقال پر،لائن آف کنٹرول میں بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں اورشہریوں، قصور اور مردان میں بداخلاقی کے بعد قتل کی جانے والی بچیوں زینب، عاصمہ سمیت دیگر کے ایصال ثواب لئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔دوران اجلاس چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ ارکان ایوان میں صرف اپنی تقریر کیلئے نہ آئیں بلکہ دوسرے ارکان کی تقاریر بھی سنیں، اپنی تقریر کر کے ایوان سے چلے جانا اور دوسروں کی تقریر نہ سننا پارلیمانی روایت نہیں۔ سینیٹر میر کبیر احمد شاہی اجلاس میں آئے تو آتے ہی زیر بحث معاملے پر بات کرنے کی اجازت طلب کی جس پر چیئرمین نے کہا کہ آتے ہی آپ نے مائیک مانگ لیا۔ دوسروں کی تقریر تو سنی نہیں۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں یادگار جمہوریت کا دورہ کیا اور ملک میں جمہوریت کے استحکام اور آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قربانیاں دینے والے گمنام ہیروز کی یاد گارپر پھول چڑھائے،چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی ، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری ، سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق اور قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، ایوان بالا میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی راہنما اور سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک بھی اس موقع پر موجو د تھے۔وزیر اعظم نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دینے والوں کے نام سے منصوب یادگارجمہوریت کی تعمیر کو احسن اقدام قرار دیا، چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے وزیراعظم کو بریفنگ دی،انہوں نے بتایا کہ یادگار جمہوریت پارلیمنٹ ہاؤس کے دورے پر آنے والے ان تمام افراد کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے جو ملک میں جمہوریت کااستحکام چاہتے ہیں پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اوراس کی دیگر جمہوری ممالک کی طرح جمہوریت کے قیام اور استحکام کے لیے کاوشوں کی تاریخ ہے۔

سابق وزیراعظم محمدنوازشریف،سابق وزیر خزانہ اسحق ڈارکیخلاف احتساب عدالت میں دائر ریفرنسز پرسماعتوں کاسلسلہ جاری ہے ،پیر کے روز احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف نیب نے ضمنی ریفرنس دائرکیا ہے ،جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے اصل مالک نوازشریف ہیں،نواز شریف نے اپنے بچوں کے نام پر جائیداد خریدی، یہ جائیداد نواز شریف کے بچوں کی ظاہری آمدن کے مطابق نہیں ، مریم نوازاور حسین نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے جعلی دستاویزات پیش کیں ۔جبکہ دوسری جانب پیر کے روز احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف استغاثہ کے مزید تین گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی،سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل شالیمار، لاہور علی اکبر بھنڈر نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا،انہوں نے اسحاق ڈار اور ان کی فیملی کی موضع بھٹیاں تحصیل رائیونڈ میں 2 کنال 19 مرلے کی جائیداد کی تفصیلات نیب کو دیں،سماعت میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس میں استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ استغاثہ کے چوتھے گواہ قابوس عزیز کا مکمل بیان قلمبند نہ ہو سکا۔ نیب ریفرنس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

مزید : ایڈیشن 1