کیا صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے معاملے پر تمام اراکین متفق ہو سکیں گے؟

کیا صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے معاملے پر تمام اراکین متفق ہو سکیں گے؟

خیبر پختونخوا کی سیاست اگلے چند دنوں میں کیا رخ اختیار کرتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے با آسانی لگایا جاسکتا ہے کہ آج بدھ کے روز سے ہر گھنٹے کے بعد نئی ڈویلپمنٹ سامنے آنا شروع ہو جائے گی تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی طرف سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے اور بعد میں اپنے موقف پر قائم رھنے سے اب تحریک انصاف کے پاس اسمبلیوں میں بیٹھنے کا اخلاقی جواز مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کے لئے ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس طلب کر رکھا ہے ان سطور کی اشاعت تک ایگزیکٹو کونسل کا اہم ترین فیصلہ یقینی طور پر سامنے آچکا ہو گا یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اسمبلیوں سے استعفے بارئے عمران خان کو تحریک انصاف کی مکمل حمایت حاصل ہو گی کیونکہ خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ 2013کے انتحابات میں عوام نے ان کی شخصیت کو نہیں بلکہ عمران خان کے منشور کو ووٹ دیا تھا منتخب ہونے کے بعد کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اپنے حلقے کے ووٹروں میں اپنا مقام بنانے میں ناکام رہا یہاں تک کو بیشتر اراکین اسمبلی اپنے حلقے کے ووٹروں کو پہنچانتے تک نہیں خلقے کے عوام اپنے اراکین پارلیمنٹ سے مایوس اور پر شکوہ ہیں یہی اراکین اسمبلی کی تحلیل کے حق میں نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ کچھ ہفتے اور سرکاری خزانے اور پروٹوکول کے مزئے لوٹتے رہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی یہ خواہش ضرور ہو گی کہ وہ ریپڈ بس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر عمران خان اپنی پارٹی کی سو فیصد حمایت حاصل کرنے میں کا میاب ہوتے ہیں یا نہیں اس کا اندازہ اب بہت جلد ہو جائیگا ۔

دوسری طرف جے یو آئی کے مرکزی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے واقفان حال کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن بلوچستان میں عدم اعتماد کی تحریک میں آصف زرداری کی حمایت کے بعد اب خیبر پختونخوا میں عدم اعتماد کی تحریک لانا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ سابق صدر آصف زرداری کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں 2013ء کے اوائل میں بھی مولانا فضل الرحمٰن نے خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی حکومت بنانے اور اپنے بھائی کو وزیر اعلٰی لانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر اس وقت کے وزیر اعظم (نوازشریف)نے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ اتفاق نہیں کیا مولانا فضل الرحمٰن نے بلوچستان اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران زرداری کے مقاصد کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور اب اس کے بدلے خیبرپختونخوا میں وہ زرداری کی حمایت چاہتے ہیں واقفان حال کا کہنا ہے اگر تحریک انصاف اسمبلی سے مستعفی نہ ہوئی تو جے یو آئی کا تیسرا نمبر ہے مگر خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے کے باعث وہ تحریک انصاف کے لئے مشکلات پیداکرنے میں نمبر (ون)ہے جے یو آئی اور پیپلز پارٹی پہلے ہی کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی مخالفت کر چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں پارٹیاں خیبر پختونخوا میں تحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہو چکی ہیں بہر حال اب دیکھنا یہ ہو گا کہ آنے والے دنوں میں دونوں گروپوں میں سے کون اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یہ بات طے ہے کہ تحریک انصاف ان ہاوس تبدیلی کے زریعے جے یو آئی کو اقتدار میں کسی صورت آنے نہیں دئے گی جبکہ جے یو آئی کی یہ بھر پور کو شیش رہے گی کہ وہ اقتدار میں آکر تحریک انصاف کو شرمندگی سے دوچار کرئے ان تمام حالات و واقعات کے پیش نظر یہ بات یقینی ہے کہ رواں ہفتے ہر روز اور گھنٹے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک سے ایک نئی تبدیلی ہوگی۔

دوسری طرف سابق وزیر اعظم نوازشریف نے ہری پور میں ایک بڑئے جلسہ عام سے خطاب کیا اس جلسہ میں ہزارہ کے دور افتادہ مقامات کے علاوہ پنجاب کے قریبی اضلاع اور صوابی سے بھی لوگوں کوبسوں میں بھر بھر کر لایا گیا پاکستان مسلم لیگ نے حال ہی میں ھزارہ موٹروے کا افتتاح کیا اس کے علاوہ ہزارہ کے مشکل ترین اور دور افتادہ علاقوں میں سوئی گیس فراہمی کے منصوبے مکمل کئے اس طرح جن علاقوں کے لوگ اس جلسے میں بھر پور طریقے سے شریک ہوئے موٹر وئے پر نوازشریف کے قافلے پر ھیلی کاپٹر کے زریعے گل پاشی کی گئی سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی نے حسب معمول اپنی تقاریر میں عمران خان کے ساتھ عدلیہ کواپنے نشانے پررکھا اس جلسے میں تمام مقررین کے خطابات کا محور نوازشریف کی حمایت اور عدلیہ کے فیصلوں کی مخالفت تھا بہر حال اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ مسلم لیگ نے خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں مثلاً مالاکنڈ ایجنسی اور ہزارہ ڈویثرن میں گیس اور سڑکوں کے منصوبے بناکر اپنا ووٹ بنک مستحکم کیا ہے جس کا فائدہ عام انتخابات میں مسلم لیگ کو مل سکتا ہے

مزید : ایڈیشن 1