کراچی، پولیس مقابلوں کی اصلیت؟

کراچی، پولیس مقابلوں کی اصلیت؟

سید ضمیر جعفری (مرحوم) نے کہا تھا:

لوگ مارے جا رہے ہیں قتل گاہوں کے بغیر

منصفوں نے پھانسیاں دی ہیں گواہوں کے بغیر

کئی عشروں سے جرائم پیشہ، قانون شکن اور ’’ریاست‘‘ کے خلاف ہتھیار بند مسلح گروپوں کی بیخ کنی کی مہم میں ’’قانون نافذ کرنے والے‘‘ ریاستی اداروں نے ’’ان کاؤنٹر‘‘ کے ذریعہ مجرموں کے خاتمہ کو بطور پالیسی اپنایا ہے یا نہیں؟ مگر تاثر یہی ہے جس کے خاتمہ کا مطالبہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا اور کہا ہے کہ ’’پولیس ان کاؤنٹر‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ تاہم بلاول بھٹو زرداری نے بے گناہ 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود کو ’’ماورائے عدالت قتل‘‘ جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے کے الزام میں معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو انکوائری کے سامنے پیش ہونے کو کہا اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ راؤ انوار کو ’’فیئرٹرائیل‘‘ ملنا چاہئے۔ یہ راؤ انوار کا حق ہے۔

واضح رہے کہ معطل ایس ایس پی راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کے الزام میں ایڈیشنل آئی جی سندھ ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ مجھے ان سے انصاف کی توقع ہی نہیں ہے۔ تو پیش کیوں ہوں؟ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ راؤ انوار کی سرپرستی آصف علی زرداری کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی راؤ انوار کو انکوائری کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کا مشورہ دیا ہے جو کچھ ہی عرصے بعد اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ساٹھ سال کا ہونے پر ریٹائر ہونے والے ہیں۔ وہ 37 سال پہلے 1981ء میں ایس پی ’’ہاربر‘‘ کے دفتر میں کلرک کی حیثیت سے بھرتی ہوئے ایک سال بعد 1982ء میں کلرک سے ایس آئی ہو گئے۔ راؤ انوار نے سب انسپکٹر کی حیثیت سے شہرت 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کے پہلے دور حکومت میں حاصل کی اور دیکھتے ہی دیکھتے 1992ء میں ایم کیو ایم کے خلاف شروع ہونے والے آرمی چیف جنرل آصف نواز (مرحوم) کے دور میں فوجی آپریشن میں مخالفوں کے لئے خوف کی علامت بن گیا۔ 1992ء کے فوجی آپریشن میں راؤ انوار کے علاوہ جن دیگر جونیئر پولیس افسروں کو شہرت حاصل ہوئی ان میں بہادر علی اور اسلم تنولی عرف اسلم چودھری تھے۔ 1992ء کے فوجی آپریشن کے دوران کراچی میں ماورائے عدالت قتل کے کچھ واقعات تو ضرور سامنے آئے تھے۔ مگر 1994ء ۔ 1995ء میں میجر جنرل (ر) نصیراللہ بابر (مرحوم) کی قیادت میں اس وقت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان ملک اور اس وقت کے آئی بی چیف میجر (ر) مسعود خٹک کی کمان میں ہونے والے آپریشن میں ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کی کمر توڑنے کے دعوے ’’پولیس ان کاؤنٹر‘‘ کے ذریعے فخریہ انداز میں کئے جاتے تھے۔

صدر فاروق لغاری نے 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کی منتخب حکومت دوسری بار (2)58 بی کے تحت ختم کی۔ تو صدر فاروق لغاری نے اپنے غیر جمہوری اقدام کے جواز میں سپریم کورٹ میں ایک الزام محترمہ کی حکومت کے خلاف ’’جعلی پولیس ان کاؤنٹر‘‘ کے ذریعے ماورائے عدالت قتل کا بھی تھا۔ راؤ انوار نے برق رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل محض پولیس ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ کی شہرت کی وجہ سے ہی حاصل نہیں کیں۔ سپریم کورٹ میں ان کے خلاف جعلی پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کے الزامات کے ساتھ متعدد مقدمات ضلع ملیر کی حدود میں زمینوں پر قبضوں کے بھی ہیں ان پر نجی اور سرکاری زمینوں پر زور زبردستی دھونس دھاندلی کے ذریعے قبضوں کے ساتھ زمینوں کے مالکان پر تشدد کر کے اونے پونے داموں پر فروخت کرنے کے الزامات سپریم کورٹ کے سامنے آئے۔ تو سپریم کورٹ نے دو ٹوک حکم جاری کیا تھا کہ زمینوں کے لین دین کے جس تنازعہ میں راؤ انوار کا نام آئے اسے فوری طور پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے۔ راؤ انوار دوبار سندھ ہائی کورٹ اور دو بار سپریم کورٹ کے حکم پر معطل ہوئے۔ کئی بار محکمہ جاتی انکوائری کا سامنا بھی ان کو کرنا پڑا مگر ہر بار اپنے طاقت ور سرپرستوں کی وجہ سے بحال بھی ہوئے اور زیادہ طاقت ور ہو کر سامنے آئے۔ راؤ انوار ضلع ملیر میں پہلے ڈی ایس پی اور بعد ازاں ایس ایس پی کی حیثیت سے تعینات تھے۔ اس سے قطع نظر کہ راؤ انوار کو سندھ کی سب سے طاقت ور سیاسی شخصیت جناب آصف علی زرداری کی سرپرستی حاصل ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی کہ دہشت گردی کی جنگ ختم کرنے میں راؤ انوار کی کمان میں ہونے والے پانچ درجن سے زائد ’’پولیس مقابلوں میں‘‘ کتنے پولیس ان کاؤنٹر حقیقی تھے؟ اور کتنے ’’جعلی‘‘ تھے؟ اور اس سے بھی اہم یہ سوال ہے جو سیاسی، صحافتی اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں اٹھ رہا ہے کہ ان میں سے کتنے ان کاؤنٹرز دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے سرگرم عمل کراچی میں رینجرز اور حساس اداروں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نزدیک درست اور غلط ہیں۔ اس سے بھی پردہ اٹھنا ضروری ہے کیونکہ ایس ایس پی راؤ انوار کی قیادت میں کام کرنے والی پولیس پارٹی نے بے گناہ نقیب اللہ کو دہشت گرد قرار دے کر موت کے گھاٹ نہیں اتارا ہے بلکہ ان کے ہاتھوں اس کے علاوہ بھی بہت سے بے گناہ موت کے گھاٹ اتارے گئے ہیں۔ جن کو بھتہ کے لئے اور ان کی زمینوں پر دھونس دھاندلی کے ذریعہ قبضے کے لئے اور اونے پونے داموں پر فروخت کرنے کے لئے پہلے اغوا کیا گیا۔ بعد ازاں ’’جعلی پولیس مقابلوں‘‘ میں مار کر سڑکوں پر پھینک دیا جاتا تھا۔ 2017ء میں پورا نیشنل میڈیا راؤ انوار کے ہاتھوں جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والوں کی ہتھکڑی لگی سڑکوں پر پڑی نعشوں کی تصاویر شائع کر چکا ہے۔ جو نہ دہشت گرد تھے اور نہ ہی چور اور ڈاکو تھے اور نہ ہی یہ مظلوم کراچی میں آپریشن کے ذمہ دار اداروں کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ پر امن شہری ان کے علاقوں میں چین و سکون کے بجائے جاں و مال کے خوف کا شکار رہتے ہیں۔ اگر کبھی ضلع ملیر میں ان کی آٹھ سالہ تعیناتی کے دور میں ہونے والی نجی و سرکاری زمینوں پر قبضوں اور زور زبردستی دھونس دھاندلی کے ذریعہ خرید و فروخت کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ صاف شفاف طریقہ سے تحقیقات ممکن ہو سکی تو سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا۔ ان کی سرپرستی کرنے والوں میں کچھ اور پردہ نشینوں کے نام بھی ہیں۔ جس میں زمینوں کا کاروبار کرنے والے دنیا کے بڑے بڑے ٹائیکون بھی شامل ہوں گے۔ وطن عزیز میں ’’پولیس ان کاؤنٹر‘‘ کے ذریعہ جرائم پیشہ عناصر کو ختم کرنے کی ریت ساٹھ کے عشرے میں اس وقت کے مغربی پاکستان کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈالی گئی تھی البتہ سندھ میں پولیس ان کاؤنٹر کا واقعہ 1974ء میں ضلع سانگھڑ میں پیش آیا تھا جو بد قسمتی سے ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا ضلع سانگھڑ روحانی پیشوا پیر پگارو کا ویٹی کن سٹی کے نام سے معروف اور مشہور تھا (جسے 2008ء کے بعد آصف علی زرداری فتح کر چکے ہیں) حکومت نے پیر پگارو کے مریدوں پر ضلع سانگھڑ میں جینا حرام کیا ہوا تھا ضلعی انتظامیہ نے حکومت کی خوشنودی کے لئے چھ حروں کو پہلے جھوٹے مقدمات میں جیل میں بند کیا بعد ازاں عدالت میں پیش کرنے کے بہانے جیل سے نکال کر سر عام سڑک پر جعلی پولیس مقابلے میں گولیوں سے بھون کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، اس زمانے میں آزاد پریس کا’’ڈیفنس آف پاکستان روزلز(ڈی پی آر) کے کڑے ضابطوں سے تحت گلاگھونٹا ہوا تھا، ان کڑی پابندیوں کے باوجود پاکستان اور پاکستان سے باہر کی دنیا کو ان مظلوموں کی داستان الم کی مفصل روداد ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ لاہور کے حیدر آبادمیں نمائندہ خصوصی جرأت مند صحافی جناب ظہیر احمد نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر لکھی تھی اس وقت ضلع سانگھڑ کے ڈپٹی کمشنر امداد انہڑتھے اور ضلع کے ایس ایس پی شبیر کلیار تھے، اب سندھ ہی وہ بدقسمت صوبہ ہے، جہاں تین عشروں سے زیادہ عرصے سے ماورائے عدالت قتل کو ایک کامیاب ہتھیار کے طور پر اپنالیا گیا ہے جبکہ آئین پاکستان اور ملکی قانون کے تحت ہر وہ ’’ان کاؤنٹر‘‘ ماورئے عدالت قتل کی تعریف میں آتا ہے، جو پولیس یا قانون نافذ کرنے والوں کی حراست میں یک طرفہ کارروائی کے ذریعہ ہو، ملزم خواہ کتنے ہی سنگین جرائم میں ملوث ہو، پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کو قانون پابند کرتا ہے کہ وہ ملزموں کو زندہ گرفتار کرکے قانون کی عدالتوں سے سزائیں دلائیں۔

سندھ کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں تین عشروں سے قومی، صوبائی اور سینٹ میں دیہی اور شہری سندھ میں نمائندگی رکھنے والی دونوں بڑی جماعتوں کا دامن بھی ایک دوسرے کے کارکنوں کو اغوا کرکے ماورائے عدالت قتل کے الزامات سے پاک نہیں ہے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...