وزیر اعلیٰ کی طرف سے لیہ میں یونیورسٹی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں‘ سرائیکستان عوامی اتحاد

وزیر اعلیٰ کی طرف سے لیہ میں یونیورسٹی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں‘ ...

ملتان (سٹی رپورٹر)سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں خواجہ غلام فرید کوریجہ‘ پروفیسر شوکت مغل ‘ کرنل عبدالجبار خان عباسی ‘ عاشق بزدار ‘ ملک اللہ نواز وینس، رانا محمد فراز نون ‘ ظہور دھریجہ ‘ مسیح اللہ خان جام پوری ‘ ملک خضر حیات ڈیال ‘ عابدہ بخاری ‘ مہر مظہر کات ، جام اظہر مراد نے پنجاب یونیورسٹی (بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

میں سرائیکی طلباء پر تشدد اور اسلامی جمعیت طلباء کی طرف سے غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہوئے شر پسندوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارا صوبہ ہوتا اور وسیب میں یونیورسٹیاں ہوتیں تو وسیب کے نونہال تخت لاہور میں اس طرح کی غنڈہ گردی کا شکار نہ ہوتے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے لیہ میں یونیورسٹی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان صرف اعلان نہیں ہونا چاہئے بلکہ فوری طور پر عملی اقدامات ہونے چاہئیں ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ ن لیگ کو اپنے منشور اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے مطابق فوری طور پر صوبہ کمیشن کے قیام کا اعلان کرنا چاہئے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ ملتان میں حضرت شاہ رکن عالم کا عرس شروع ہے مگر زائرین کی سہولت کیلئے کوئی انتظام نہیں ہوا۔ حکومت سرائیکی وسیب سے ہونے والی محکمہ اوقاف کی آمدنی وسیب کی درگاہوں کے زائرین پر خرچ کرے۔ انہوں نے کہا کہ کماد کے کاشتکاروں کو بری طرح کچل کر رکھ دیا گیا ہے ۔ وسیب کے لوگوں کا قدم قدم پر استحصال ہو رہا ہے ۔ وسیب کے ارکان اسمبلی گونگے اور بے زبان بنے ہوئے ہیں ‘جنہوں نے اسمبلی میں وسیب کے حقوق کیلئے نہ بولنے کی قسم اٹھا رکھی ہے ۔ ان حالات میں سرائیکستان عوامی اتحاد خاموش نہیں رہ سکتا ۔ ہم بہت جلد لانگ مارچ کے دوسرے مرحلے کے لئے باہر نکلیں گے اور اس وقت تک خاموش نہیں رہیں گے جب تک سرائیکی صوبہ قائم نہیں ہو جاتا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر