چنیوٹ لوہا قابل استعمال نہیں، چودھری پرویزالٰہی

چنیوٹ لوہا قابل استعمال نہیں، چودھری پرویزالٰہی

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما چودھری پرویزالٰہی نے بطور وزیراعلیٰ چنیوٹ مائنز کو لیز پر دینے کے بارے میں شہبازشریف کے اس بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا جو انہوں نے نیب میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس میں دیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے تفصیلی بیان میں کہا کہ شہبازشریف بتائیں کہ انہوں نے ڈھائی ارب خرچ کر کے کون سا لوہا نکالا، میری حکومت نے 4 کروڑ روپے خرچ کر کے پتہ چلا لیا تھا کہ وہاں پایا جانے والا لوہا قابل استعمال نہیں، شہبازشریف چاہتے ہیں کہ بار بار جھوٹ بولنے ان کا نام گینز بک میں آئے، 6دسمبر 2007ء کو جب ارشد وحید کی کمپنی کو لیز پر دینے کا معاہدہ ہوا تو میں وزیراعلیٰ نہیں بلکہ نگران حکومت تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہبازشریف حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے، نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) اعجاز نثار نے 24 نومبر 2007ء کو اسے لیز پر دینے کی سمری پر دستخط کیے اور 6 دسمبر کو ارشد وحید کی کمپنی سے معاہدہ ہوا، میرا یا میری حکومت کا تمام معاملہ سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ شریف برادران نے جب وہاں سے سونا نکالنے اور قوم کی تقدیر بدلنے کا ڈرامہ کیا تو میں نے اسی وقت کہا تھا کہ یہاں سے تو ملنے والا لوہا بھی قابل استعمال نہیں یہ اتنا سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں کہاں سے لے آئے ہیں، اب بھی نیب میں اپنے خلاف کیسز سے توجہ ہٹانے کیلئے وہ اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ 1988ء کے لگ بھگ جیوگرافیکل سروے آف پاکستان نے پہلی بار نشاندہی کی کہ چنیوٹ رجوعہ ایریا میں لوہے کی ذخائر موجود ہو سکتے ہیں لیکن نوازشریف اور شہبازشریف نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ رہنے کے باوجود اس رپورٹ کو کوئی اہمیت نہیں دی، میں نے 2004ء میں بطور وزیراعلیٰ اس رپورٹ کو سردخانے سے نکالا اور میری ہدایت پر محکمہ معدنیات نے اس جگہ مختلف مقامات کے نمونے لے کر سٹیل مل آف پاکستان کو بھجوائے، سٹیل مل نے اپنی تحریری رپورٹ میں کہا کہ یہ لوہا قابل استعمال نہیں کیونکہ اس میں ایف ای ریشو (Fe.ratio) صرف 35-40 فیصد تک ہے جبکہ یہ کم از کم 60 فیصد ہو تو وہ لوہا قابل استعمال ہوتا ہے اور اس طرح یہ بات یہاں ختم ہو گئی۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...