اداروں کی بجائے ایجنسیاں کام کریں تو کنفیوژن پیدا ہوتی ہے: مجیب الرحمٰن شامی

اداروں کی بجائے ایجنسیاں کام کریں تو کنفیوژن پیدا ہوتی ہے: مجیب الرحمٰن شامی

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)دنیا میں آگے بڑھنے اور کامیابی کا زینہ چڑھنے کے لئے ضروری نہیں کہ آپ بہت زیادہ باوسائل ہوں ۔ہر شخص کے اندر آگے بڑھنے کے بے پناہ امکانات موجود ہوتے ہیں۔نوجوان نسل کو امکانات کی دنیا کو اپنے اوپر بند نہیں کرنا چاہئے اور کامیابی کے لئے اپنے آئیڈیلز اور اور خواہشات کو بڑا رکھنا چاہئے ۔اگر ستاروں کا خواب دیکھیں گے تو ہی زمین پر کچھ بڑا کر سکیں گے۔ان خیالات کا اظہار چیف ایڈیٹر روزنامہ’’ پاکستان ‘‘مجیب الرحمان شامی نے یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے سکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز میں میری زندگی کا سفر کے سلسلے کی خصوصی تقریب میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں ڈین فیکلٹی آف میڈیا سٹڈیز یو سی پی ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ، پروفیسر سویرا شامی ، ایثار رانا،نعیم مصطفی ، سینئر صحافی سلمان عابد، رؤف طاہر ،زابر سعید بدر سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔تقریب میں طالب علموں کے ساتھ اپنی زمانہ طالب علمی اور پروفیشنل زندگی کے واقعات کو شیئر کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ طلبہ کو محنت سے نہیں گھبرانا چاہئے۔محنت جدو جہد اور کوشش سے ہی آپ اپنے پروفیشن میں بڑے سے بڑے مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میری زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے لیکن وہ گھبرائے نہیں بلکہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔دوران خطاب مجیب الرحمان شامی نے طلبہ کو بتایا کہ ان کے والد نے پاکستان بننے کے بعد پاکپتن کو اپنا مسکن بنایا ۔پاکپتن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور میٹرک بھی پاکپتن سے کیا ۔ پاکپتن میں ہندوستان کے ہوشیار پور کے بہت بڑے صوفی بزرگ حضرت خان علی محمد خان تھے جن سے روحانی تعلق ہے اس زمانے میں اخبارات پر ایک دن بعد کی تاریخ لکھی جاتی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ اخبار دوسرے شہروں میں دیر سے پہنچتے تھے تا کہ اخبار پڑھنے والے کو اخبار میں تازگی محسوس ہو اور اخبار پرانا نہ لگے۔انہوں نے کہا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں نے صحافی بننا ہے لیکن یہ کہ سکتا ہوں کہ میں پیدائشی اخبار نویس ہوں اور انہیں زمانہ طالب علمی میں اخبارات کے ایڈیشن جمع کرنے اور انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔جس دن روزنامہ حریت میں ڈاکخانے کے باہر بیٹھے ہوئے منشی حضرات پر کراچی کے علم دین کے عنوان سے پورے صفحے کا فیچر چھپا اس دن میں اخبار نویس بن گیا ۔ دوسرا فیچر اس دور میں ریلوے کے قلیوں کے حوالے سے لکھا جس کی تصاویر صغیر صوفی نے بنائیں ۔مولانامحمد علی جوہر جب کراچی میں بغاوت کا مقدمہ بھگتنے آئے اور جس قلی نے ان کا سامان اٹھایا اس پر فیچر لکھا اور وہ فیچر اس کیپشن کے ساتھ صفحہ اول پر چھپا کہ اس قلی نے اس شخصیت کا بوجھ اٹھایا ہے جس کے کاندھوں پر پوری قوم کا بوجھ تھا جس سے بہت پذیرائی ملی ۔اخبارات کے ساتھ ساتھ کتابیں پڑھنے کا بھی شوق تھا ۔مولانا مودودی ،شبلی نعمانی اور ابوالکلام آزاد کی کتابیں شوق سے پڑھتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ابوالکالام آزاد کی کتاب کے دلچسپ فقرے آج بھی مجھے یاد ہیں کہ جنہوں نے کہا تھا کہ میں سیاہ کو سفید نہیں کر سکتا اور سب سے زیادہ نا انصافیاں میدان جنگ یا انصاف کے ایوانوں میں ہوئیں ہیں۔مجیب الرحمان شامی نے مزید کہا کہ ہماری فیملی میں جسٹس شیخ محمد شریف سپریم کورٹ کے جج تھے اور میرے والد کے فرسٹ کزن تھے ۔ اس کے علاوہ سابق چیف جسٹس شیخ انوارالحق ،سجاد احمد جان اور سینیٹ کے سابق چیئرمین وسیم سجاد اور بریگیڈیر شامی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا جس دور میں وہ یونین لیڈر تھے ان دنوں محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا اور انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں کمپین بھی کی ۔طلبہ کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ طلبہ کو چاہئے کہ بغیر تحقیق کئے کوئی رائے قائم نہ کریں ،کالم نگار بننے کے لئے زبان و بیان پر مکمل عبور حاصل کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں اداروں کی بجائے ایجنسیز کام کریں وہاں کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اس لئے ہر ادارے کو پنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ مجیب الرحمان شامی بحیثیت انسان ایک بلند پایہ خوبیوں کے حامل ہیں بحیثیت انسان دوست ،رہنما اور بڑے بھائی شامی صاحب سے میرا عشق آج بھی قائم و دائم ہے اور مجھے اس عشق پر فخر ہے ۔ شامی صاحب اختلافی باتیں بھی بڑے حوصلے سے سنتے ہیں ۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے مجیب الرحمان شامی کو شیلڈ اور تحائف پیش کئے ۔

مزید : صفحہ آخر