محمکہ آبپاشی پنجاب میں ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ کی آشیر باد سے کروڑوں کے گھپلے

محمکہ آبپاشی پنجاب میں ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ کی آشیر باد سے کروڑوں کے گھپلے

لاہور(عدیل شجاع)محکمہ آبپاشی پنجاب میں ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ کی آشیر باد سے کروڑوں کے گھپلے۔بہاولنگر ڈویژن میں ٹھیکیدار کو ایک کروڑ چھبیس لاکھ کا ہر جانہ دو لاکھ میں بدل کر بلز کی ادائیگی کی تیاری کر لی گئی ہے۔محکمانہ انکوائری رپورٹ میں موقع پر کام ہی نہیں کئے گئے اور کہیں معیار کے مطابق نہیں ہوئے ہیں،نیب لاہور میں بے ضابطگیوں پر انکو ا ئر ی شروع کر دی گئی۔تفصیلات کے مطابق محکمہ آبپاشی پنجاب میں فورڈ واہ اور صادقیہ ڈویژن بہاولنگر ڈویژن میں 2015 تین منصوبہ جات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن پر سیکر ٹر ی آبپاشی پنجاب کی طرف سے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس انکوائری کمیٹی کے سربراہ شیخ محمد نواز چیف انجینئر فیصل آباد نے موقع پر متذکرہ منصوبہ جات کا معائنہ کرکے اور تحقیقات کرکے ان کروڑوں کے منصوبوں میں بے ضابطگیوں کو موجود پایا اور جو کام صرف کاغذوں کی حد تک کیے گئے تھے ان کو مکمل کرنے کی سفارش کی گئی اور جو کام معیار کے برعکس اور ناقص کیے گئے تھے ان کو بھی دوبارہ ٹھیک کرکے مکمل کروا کر متعلقہ ٹھیکیدار کو بلز کی ادائیگی سے مشروط کیا گیا جبکہ اس ضمن میں ایک انکوائری بھی شروع کی گئی مگر اس کے بعد بھی افسران کی ملی بھگت سے متعلقہ ٹھیکیدار کی طرف سے کوئی کام مکمل نہ کیا گیا جس پر گورنمنٹ کی طرف سے مورخہ08.06.2016 کو فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ ٹھیکیدار کو ہرجانہ لگا کر کام مکمل کروا دیا جائے جس کے بعد اس وقت کے ایکسیئن فورڈ واہ نے مورخہ29.06.16 کو ایک کام کی پینلٹی(ہرجانہ)ایک کروڑ چھبیس لاکھ روپے لگایا جس کو افسران کی ملی بھگت سے منظور نہ کیا گیا جبکہ چھ ماہ بعد افسران نے مبینہ طور پر کمیشن وصول کرنے کیلئے مورخہ16.01.2017 کو ہر پیکیج کیلئے ایک کروڑ چھبیس لاکھ روپے کی بجائے صرف دو دو لاکھ روپے پینلٹی(ہرجانہ)لگا کر ٹھیکیدار کو ادائیگی کے فائنل بل مرتب کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا جبکہ اس وقت کے دیانتدار ایکسیئن فورڈ واہ نے ایسا نہ ہونے دیا جس کے بعد اعلیٰ افسران کی جانب سے اس ایکسیئن کا تبادلہ کر دیا گیا اور پھر محکمہ کو کروڑوں کا نقصان اور من پسند ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کیلئے انہی بلز کی ادائیگی کیلئے یہ بلز احمد عثمانی سابق ہیڈ PISIP لاہور کو بھیج دیے گئے جو اس وقت ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ محکمہ آبپاشی پنجاب تعینات تھے جبکہ اس بے ضابطگی کی ایک انکوائری اینٹی کرپشن بہاولپور میں بھی چل رہی ہے جس کی بابت ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بہاولپور نے مورخہ07.12.2016 کو بذریعہ مراسلہ چیف انجینئر بہاولپور کو ہدایت کی ہے کہ سینئر ایس ایز پر مشتمل ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دے کر رپورٹ انہیں پہنچائیں مگر افسران کی جانب سے آج تک کوئی رپورٹ اینٹی کرپشن بھی نہیں پہنچائی گئی ہے اور نیب لاہور میں ان بے ضابطگیوں پر ایک درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے جس میں درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمے کو کروڑوں کا نقصان اور کمیشن وصول کرنے کیلئے ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کیلئے ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ احمد عثمانی نے بلز پاس کروانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر