قومی اسمبلی، پارلیمنٹ کو لعنتی کہنے پر ہنگامہ، توہین پارلیمان پر قانون سازی کی جائے: اراکین

قومی اسمبلی، پارلیمنٹ کو لعنتی کہنے پر ہنگامہ، توہین پارلیمان پر قانون سازی ...

اسلام آباد (آئی این پی،این این آئی) قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے پارلیمنٹ کو لعنتی کہنے پر شدید ہنگامہ ہوا‘ پی ٹی آئی، حکومتی اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی‘ پی ٹی آئی کے ارکان اپنی نشستوں پر کھرے ہوگئے ایوان میں شور شرابہ ہوا،حکومتی بنچوں سے بھی نعرے بازی کی گئی‘ ایوان مچھلی منڈی بن گیا ۔ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں پر قوم لعنت بھیجے اور ایسے ارکان کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘ پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔ پی ٹی آئی کے شہریار آفریدی اور عامر ڈوگر نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں آکر جھوٹ بولا‘ جب پارلیمنٹ میں چور‘ ڈاکو بیٹھیں گے تو اس پر اﷲ کی لعنت ہوگی‘ یہ بتایا جائے کہ یہ پارلیمنٹ عوام کے مفاد کے لےء قانون سازی کے لئے بنایا گیا ہے یا ایک عدالتی نااہل شخص کے تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے‘ انجینئر حامد الحق نے کہا ہمارے ارکان کو بات نہیں کرنے دی جائے ورنہ ہم اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اہم موضوع چھوڑا ہے اس پر وقت مقرر کریں اس پر بات کریں گے۔ معقول انداز میں ایک دوسرے کو سمجھانے کی کوشش کریں گے گالیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ماروی میمن نے کہا کہ پرائیویٹ ممبرز ڈے کا خیال رکھا جائے لعنت والی سیاست کو رد کرتے ہیں ہمیں یہ لفظ نہیں سننا چاہئے۔ پی ٹی آئی کے ارکان نے احتجاج کیا اور ڈائس کا گھیراؤ کیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔رضا ہراج حیات نے کہا کہ یہ رویہ پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہے، حکومتی بنچوں اور پی ٹی آئی ارکان کے درمیان تند جملوں اور نعروں کا تبادلہ اچھی بات نہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر اور شہریار آفریدی میں جھڑپ بھی ہوئی۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں مختلف پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے اراکین نے توہین پارلیمان کے حوالے سے قانون سازی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے اپنی تنخواہوں اور مراعات پر بھی لعنت بھیجیں ٗتنخواہیں اور مراعات حکومت پاکستان کے خزانہ میں جمع کرائیں اور مستعفی ہو جائیں۔ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور تحریک انصاف کی جانب سے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کے بعد متعدد اراکین نے نکتہ ہائے اعتراض پر پارلیمان کے تقدس کے لئے قانون سازی کی حمایت کی۔ا یم کیو ایم پاکستان کے ساجد احمد نے کہا کہ جو ارکان پارلیمان پر لعن طعن کر رہے ہیں اگر یہ پارلیمان اتنی بری ہے تو وہ تمام تنخواہوں اور مراعات پر لعنت بھیجیں۔ تحریک انصاف کے رکن لال چند نے کہا کہ عمران خان نے اس دن جو کچھ کہا اسے سیاق و سباق کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔دریں اثنا تحریک انصاف نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے خود کو شیخ مجیب سے تشبیہ دینے کیخلاف قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کروا دی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اپنی تقاریر میں خود کوشیخ مجیب الرحمٰن سے تشبیہ دے کر اس ملک دشمن ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں، مراد سعید نے قرار داد قومی اسمبلی سیکر ٹریٹ میں جمع کروائی۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر