سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کو مل بیٹھ کر مستقل پالیسی بنانا ہو گی

سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کو مل بیٹھ کر مستقل پالیسی بنانا ہو گی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملک کے ممتاز ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر سعد بشیر ملک نے کہا ہے کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری سے قوم کو خوشی ہوئی مگر یہ ایک عارضی حل ہے ایسے واقعات کا باعث بننے والے محرکات کو ہمیں جڑ سے اکھاڑنا ہو گا اس کے لیے پوری قوم حکومت سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کو مل بیٹھ کر مستقل پالیسی بنانا ہو گی ۔معاشرے کے نوجوانوں کو بگاڑ کی طرف لے جانے والی ہر قسم کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا وہ ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی مجرم پکڑنے کے لیے کوششیں لائق تحسین ہیں مگر جب ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں تو پوری قوم لرز اٹھتی ہے ادارے حرکت میں آتے ہیں مگر افسوس کہ ایسے واقعات ہونے ہی نہ پائیں اس کے لیے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی جاتی ہم بھول جاتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر ایک قومی پالیسی بنائی جائے۔ جس میں اپنے نوجوانوں کو اور معاشرے کو غلط راہوں سے روکنے کے لیے صحت بخش سرگرمیاں دینا ہو گی اور گلی گلی پھیلے ہوئے منفی جذبات بھڑکانے والے عناصر کو ایک خاص عمر تک نوجوانوں سے دور رکھنا ہو گا۔
ڈاکٹر سعد بشیر ملک

مزید :

صفحہ اول -