ایسے گڑھے مت کھودیں کہ انصاف دینے کے قابل نہ رہیں : چیف جسٹس

ایسے گڑھے مت کھودیں کہ انصاف دینے کے قابل نہ رہیں : چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 ء کیخلاف درخواستوں پر نواز شریف سے جواب طلب کرلیا ۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم کس طرح پارٹی سربراہ کو کام کرنے سے روک دیں؟ ، چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ ہم پارلیمنٹ کی بہت تکریم کرتے ہیں اور انہیں بھی چاہیے کہ عدالت کا احترام کریں۔ عدالت کی عزت اور تکریم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے،راجہ ظفر الحق ۔سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات بل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور وزیر ریلوے سعد رفیق کے درمیان مکالمہ ہوا جس میں چیف جسٹس نے کہا کہ سعد رفیق خود بات کریں انہیں قانون کا بہت پتا ہے، خواجہ صاحب کی دھواں دار تقریرہوتی ہے،پرویز صاحب بھی تقریر کرتے ہیں ان کی تقریر دھیمی ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے خواجہ سعد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جب آپ تقریر کرتے ہیں تو کوئی جواب دینے والا نہیں ہوتا، یہاں ہم ہیں، اس پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں نہیں یہاں آپ بول سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مت کھودیئے ایسے گڑھے کہ ادارے آنیوالی نسلوں کو انصاف دینے کے قابل نہ رہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو دباؤ میں نہیں لایاجاسکتا، اپنی حدود کا تعین خود کرتے ہیں، ہم پارلیمنٹ کی بہت تکریم کرتے ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ عدالت کا احترام کریں۔اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرنے پر پابندی عائد کردیا۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ میرے ادارے کے باہر کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہوگی، میرے ادارے کو سیاسی مفادات کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا، میں ٹی وی نہیں دیکھتا مگر جو کچھ ہم سے متعلق کہا جاتا ہے، ہمیں میسج مل جاتا ہے، ہم حوصلہ دکھارہے ہیں اور دکھاتے رہیں گے، بڑوں کی شان میں فرق نہیں پڑتا۔بعدا ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 فروری تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...