جمہوریت کو عوامی جدوجہد سے آمریت کی گود سے چھینا : رضا ربانی

جمہوریت کو عوامی جدوجہد سے آمریت کی گود سے چھینا : رضا ربانی

اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے ایوان صدر کی طرح پارلیمان کی عمارت کو کشادہ اور وسیع بنانا چاہئے تھا مگر فوجی آمر نے ایسی عمارت بننے دی جس میں وسعت کی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ آج ہم دستور گلی اور میوزیم کو راہداریوں میں بنانے پر مجبور ہیں، کوئی بھی ادارہ اپنی تاریخ سے کٹ کر نہیں پنپ سکتا۔ جمہوریت کسی آمر کی دین نہیں بلکہ عوامی جدوجہد کے ذریعے آمریت کی گود سے جمہوریت کو چھینا گیا ہے۔منگل کو سینیٹ میوزیم کے افتتاح کی تقریب سے خطاب میں چیئرمین سینیٹ کا مزید کہنا تھا جمہوریت میں اجتماعی قیادت کامیاب ہوتی ہے آمریت میں فرد واحد سربراہ بن جاتا ہے۔ پارلیمان پاکستان کی جمہوری روایات کا امین اور علمبردار ہے، ان جمہو ر ی علاقوں کا مقصد پارلیمنٹ، جمہوریت کے فلسفہ سے عوام کو آگاہ رکھنا ہے۔ دیوار جمہوریت کے ذریعے قربانیاں دینے والوں کو خراج عقید ت پیش کیا گیاہے جنہوں نے جان قربان کر کے آمریت کے سامنے جھکنے کی بجائے پھندے کو چوما۔ پارلیمان میں آنیوالوں کے سلا م کا پہلا حق ان کا ہے جس کی وجہ سے پارلیمان وجود میں آیا۔چےئرمین سینٹ نے کہا دستورگلی کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے آئین سونے کی طشتری میں نہیں ملا، جمہوریت برقرار رکھنے کیلئے اسی جدوجہد کو جاری ساری رکھنا پڑے گا ،اور جذبہ برقرار رکھنے کیلئے دستور گلی میں آمریت کے ادوار کو سیاہ دکھایا کہ ملک میں جمہوریت میں نہ ہو گی تو تاریکی کے سوا کچھ نہیں ہو گا ۔ ادارے اپنی تاریخ سے الگ رہ کرپنپ سکتے ہیں نہ مضبوط ، اگر ادارے تاریخ سے کٹ جائیں تو اہمیت نہیں رہتی ۔ آمروں نے ایسا پارلیمان بنایا جس میں توسیع ممکن ہی نہیں ، اس کے برعکس ایوان صدر کو دیکھیں کس قدر وسعت ہے لہٰذا دستور گلی اور میوزیم بھی راہداریوں میں بنانے پڑے، سینٹ وفاق کی علامت اور صوبوں کا نمائندہ ایوان ہے ۔ تقریب سے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ بد قسمتی سے نئی نسل قومی تاریخ سے کم آگاہ ہے عوامی جدوجہد اور لازوال تحریک پاکستان کو ہم نے مناسب جگہ نہیں دی ۔ پارلیمنٹ کے حوالے سے نئی تاریخ رقم ہوئی ہے جیسے پہلے ہونا چاہیے تھا پاکستان نظریاتی ریاست ہے ،اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا آئینی تاریخ کو فراموش کرنے سے قومیں ترقی نہیں کر سکتی، ہم سوسائٹی آف ریکارڈ نہیں ہیں جو معاشرے تاریخ کا ریکارڈ رکھتے ہیں وہی ارتقا کرتے ہیں ۔ میوزیم میں موجود مجسمے کسی صورت اسلا م کے منافی نہیں ، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا یہ تاریخی دن اورمیوزیم آئینی تاریخ کے بارے میں آئندہ نسلوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہوگا۔سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا سینٹ قومی اسمبلی میں قریبی رابطے قابل رشک ہیں،پارلیمان میں عوامی شکایات کو سننے کا سلسلہ شروع ہے، ارکان کیخلاف عوام شکایات کر سکتے ہیں۔سابق چیئرمین سینٹ وسیم سجاد نے کہا پاکستان کے استحکام میں سینٹ کا اہم کردار رہا ہے جس میں تمام صوبوں کومساوی نمائندگی ہے۔

رضا ربانی

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...