پروفیسر حسن ظفر کی موت کے غیر طبعی ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے

پروفیسر حسن ظفر کی موت کے غیر طبعی ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے

کراچی (کرائم رپورٹر) ایم کیو ایم لندن کے رہنما اور جامعہ کراچی کے سابق پروفیسر حسن ظفر عارف کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ سامنے آگئی جس کے مطابق ان کی غیر طبعی موت کے کوئی شواہد نہیں ملے۔تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم لندن کے رہنما اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلاسفی کے سابق پروفیسر حسن ظفر عارف 14 جنوری 2018 کو اپنی گاڑی کی عقبی نشست پر شہر قائد کے علاقے ابراہیم حیدری میں مردہ پائے گئے تھے۔سابق پروفیسر کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی تھی جہاں ان کی وجہ موت جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم اور مختلف اعضا کے نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے تھے۔ایم کیو ایم لندن کے رہنما کی موت کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے کیونکہ کیمیائی تجزیاتی رپورٹ تیارکر لی گئی، رپورٹ کے مطابق پروفیسر حسن ظفر کی غیر طبعی موت کے لیے شواہد نہیں ملے۔رپورٹ کے مطابق کیمیائی تجزیے میں زہر خوانی کے بھی کوئی شواہد نہیں ملے البتہ یہ بات ضرور سامنے آئی کہ 72 سالہ پروفیسر عارفہ قلب میں مبتلا تھے اور ان کا بائی پاس بھی ہوچکا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موت کے بعد جسم کے مختلف اعضا کا معائنہ کیا گیا کیونکہ معاملے کی تفتیش کو میڈیکل نتائج آنے تک محفوظ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ پروفیسر حسن ظفر عارف کی صاحبزادی پہلے ہی والد کی موت کو طبعی قرار دے چکی تھیں، انہوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کو جعلی قرار دیا تھا۔

B

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...