شہریوں کو بہتر میونسپل سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ، دوست ممالک کے مالی تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں : پرویزخٹک

شہریوں کو بہتر میونسپل سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ، دوست ممالک کے مالی ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ شہریوں کو بہتر میونسپل سہولیات کی فراہمی پی ٹی آئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں دوست ممالک کے مالی اور فنی تعاون کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا جائے گا انہوں نے پشاور اور مردان کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیوں کی مضبوطی کیلئے گرانقدر مالی تعاون پر سوئٹزرلینڈ کی حکومت اور ڈونر ادارے ایس ڈی سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے کسی ادارے کو براہ راست غیرملکی معاونت کی یہ پہلی مثال ہے جو صوبائی حکومت اور ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح اعتراف ہے وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سوئس حکومت کے ڈونر ادارے ایس ڈی سی اور صوبائی محکمہ بلدیات کے مابین مالی معاونت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے تقریب میں ایس ڈی سی کی کنٹری ڈائریکٹر سٹیفنی بری، سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ، وزیر تعلیم محمد عاطف خان، ضلع ناظم پشاور ارباب محمد عاصم، سیکرٹری بلدیات سید جمال الدین شاہ، ڈبلیو ایس ایس پی پشاور کے چیف ایگزیکٹیو انجینئر خانزیب، ڈبلیو ایس ایس پی مردان کے چیف ایگزیکٹیو ناصر غفور خان، لوکل کونسل بورڈ کے چیئرمین شوکت علی، ممبران حاجی محمد جاوید، ڈاکٹر اقبال خلیل، ڈاکٹر خورشید اور دیگر بلدیاتی نمائندوں نے شرکت کی معاہدے کے تحت ایس ڈی سی محکمہ بلدیات کے دو میونسپل اداروں کو 32 کروڑ روپے کی گرانٹ دے گا جس میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی پشاور کو 17 کروڑ جبکہ مردان کو 15 کروڑ روپے دئیے جائیں گے جن سے یہ کمپنیاں اپنے متعلقہ شہروں میں آئندہ 30 سال کی شہری ضروریات پر مبنی ٹاؤن پلاننگ، میونسپل سرگرمیوں میں مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور احساس ملکیت کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے آگہی مہم، کمپنیوں کی کمپیوٹرائزیشن اور عملے و بلدیاتی نمائندوں کی استعداد میں اضافے کے اہداف پورے کئے جائینگے اس موقع پر وزیراعلیٰ نے گرانٹ کے شفاف اور منصفانہ خرچ کو یقینی بنانے کیلئے سیکرٹری بلدیات کی سربراہی میں سٹیرنگ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی پرویز خٹک نے کہا کہ میونسپل خدمات خاص طور پر پانی اور صفائی کا انسانی صحت اور بقاء سے براہ راست تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت تبدیلی کے ایجنڈے کے تحت واٹر اینڈ سینٹیشن کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ابتدائی طور پر پشاور میں واٹر اینڈ سنیٹیشن سروسز کمپنی قائم کی گئی تھی۔کمپنی کے مثبت نتائج کو دیکھتے ہوئے بعدازاں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بھی آزاد اور خود مختار بورڈز کے تحت کمپنیاں قائم کی گئی ہیں۔2014 تک پشاو رمیں واٹر اینڈ سنیٹیشن کی خدمات 7 مختلف ادارے فراہم کر رہے تھے، جس پر وسائل زیادہ خرچ ہوتے رہے۔ اکثر اوقات دوہری سرگرمیاں بھی سامنے آجاتی تھیں۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو ذمہ داری کا صحیح تعین بھی ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے عوامی مسائل جوں کے توں رہتے۔ موجودہ حکومت نے تمام 7 اداروں سے پانی اور صفائی کی خدمات لے کر ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے کر دیں جس کے بہترین نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ البتہ اس شعبے کی انسانی صحت کیلئے اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے خدمات میں مزید بہتری لانے کی ضرورت پھر بھی موجود تھی۔وزیراعلیٰ نے دونوں میونسپل ادارو ں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے متعین اہداف کے علاوہ معاہدے کے تمام نکات پر عمل یقینی بنائیں بنیادی طور پر معاہدے کا مقصد دونوں شہروں کے لئے پانی وصفائی کے مربوط ماسٹر پلان بنانا، محاصل میں اضافہ بذریعہ صارفین سروے، سٹیزن لیزان سیل کا قیام، ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی بہتر بنانا ، عملے و ناظمین کا استعدادکار بڑھانا،علم وآگاہی میں اضافہ، تحقیق، فزیبلٹی، جدت پسندی، آئی ٹی کے ذریعے صارفین کی انتظام کاری اور شہری مسائل کا پائیدار حل ہے پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اقدامات کا مثبت نتیجہ یہ بھی ہے کہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں بھی پانی اور صفائی پر بھر پور توجہ دی گئی ہے۔اس مقصد کیلئے بلدیاتی اداروں کے بجٹ میں خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں،جو صفائی کے حوالے سے حکومتی اہداف کو حاصل کرنے والے دیہات کی سرٹیفکیشن کریں گی۔ مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے میونسپل ملازمین اور بلدیاتی نمائندوں کوپوری تندہی سے دن رات محنت کرنا ہوگی۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے پشاور کے مختلف بازاروں میں تجاوزات ہٹاؤ مہم سے متاثرہ تمام ہتھ ریڑھی بانوں کو روزگار کے متبادل ذرائع کے طور پر دکانوں کی الاٹمنٹ یقینی بنانے اور بچت بازاروں میں 15 دنوں کے اندر بجلی اور پانی مہیا کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے غریب شہریوں کے مسائل تیزر فتاری سے حل کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ اگر متعلقہ محکمے کی پالیسی یا قانون غریب کو ریلیف فراہم کرنے کی رکاوٹ ہو تو اُس میں ترامیم لائی جا سکتی ہے مگر ریلیف کی فراہمی میں تاخیر کی گنجائش نہیں ۔ انہوں نے ریڑھی بانوں کو دکانوں کی تیز رفتار الاٹمنٹ کیلئے متعلقہ پالیسی میں فوری طور پر ترمیم کرنے کی بھی ہدایت کی ۔یہ ہدایات اُنہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ہتھ ریڑھی بانوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران متعلقہ حکام کو جاری کیں۔ ضلع ناظم پشاور ارباب عاصم، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ ، ڈائریکٹر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وفد نے وزیراعلیٰ کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور متاثرہ ریڑھی بانوں کو دکانوں کی فراہمی مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے تفصیلات طلب کیں جس پر بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 320 ریڑھی بانوں کو مختلف بازاروں سے شفٹ کیا گیا جن میں سے 119 کو دکانیں الاٹ کر دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے باقی ماندہ 201 ہتھ ریڑھی بانوں کیلئے بھی دکانوں کا فوری طور پر بندوبست کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ ضلع ناظم پشاور ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے ساتھ بچت بازار کا دورہ کریں اور ریڑھی بانوں کو ایڈجسٹ کریں ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ریڑھی بانوں کے مطالبے پر الاٹمنٹ لیٹر میں کمرشل یونٹ کی جگہ دکان نمبر لکھیں تاکہ اُنہیں اطمینان ہو سکے ۔ وزیراعلیٰ نے پراسس کو آسان بنانے کیلئے تین دن کے اندر متعلقہ پالیسی میں مجوزہ ترامیم طلب کیں اور کہاکہ جتنا زیادہ ممکن ہو سکے غریب کا سہارا بنیں۔ اگر ماضی میں پالیسی میں کوئی غلطی یا کمزوری چھوڑ دی گئی تو اُس میں ترمیم لائی جا سکتی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے 200 کے قریب ترامیم پاس کی ہیں جن کا مقصد غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے ۔ حکومت تمام محکموں کو واضح طور پر پہلے سے ہدایت کرچکی ہے کہ کام میں رکاوٹ بننے والے قوانین اور پالیسیوں میں ترامیم کی جائیں ۔ اسی مقصد کیلئے پارلیمنٹ وجود میں آتی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...