پشاور میں رواں سال ماسٹرز کے داخلو میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف

پشاور میں رواں سال ماسٹرز کے داخلو میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف

پشاور(کرائم رپورٹر)پشاور میں روا ں سال ماسٹر ز کے داخلوں میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، متحد ہ طلبہ محاذ کے طویل دھرنے کے بعد داخلے سے محروم رہ جانے والے ایک مستحق طالبعلم نے احتجاج کی کال دینے سمیت عدلیہ سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، یونیورسٹی کی جانب سے طالبعلم موسیٰ کو بی اے کی غلط ڈی ایم سی جاری کرنے اور اسیاسلامیات ڈیپارٹمنٹ میں ایک سے زائد سیٹوں کی دستیابی کے باوجود داخلے سے محروم رکھا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق جامعہ پشاور کے پرائیویٹ طالبعلم محمد موسیٰ ولد پیر سید رحمدل شاہ کوگزشتہ سال 29 ستمبر کو بی اے کی ڈی ایم سی جاری کی گئی جس میں اسے انگریزی کے پرچے میں غیر حاضر ی کی بنیاد پر فیل قرار دیا گیاجس پر اس نے شعبہ امتحانات سے رابطہ کیا۔ کنٹرولر آفس نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اسے 25اکتوبر کو درست ڈی ایم سی جاری کرتے ہوئے انگریزی کے پر چے میں پاس قرار دیا۔ اس دوران اس نے جامعہ پشاور میں ایم اے اسلامیات میں داخلے کیلئے درخواست دینا چاہی تاہم اسے یونیورسٹی کی جانب سے بتایا گیاکہ 17 اکتوبر داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی جبکہ این ٹی ایس ٹیسٹ بھی 21 اکتوبر کو منعقد ہوچکا ہے ،لہٰذا وہ داخلے کے عمل سے رہ گیا ہے۔جس پر اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کو داخلے کیلئے تحریری اپیل کی۔ تاہم اہلیت اور تمام تر تقاضے پور ے کرنے کے باوجود اسے تقریبا تین ماہ کیلئے یونیورسٹی کے مسلسل چکر لگانے کے بعد داخلہ دینے سے انکار کردیا گیا۔اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف جاننے کیلئے وائس چانسلر سے ان کے فون نمبر 0301۔5946165پر متعدد بار رابطہ کرنے کے علاوہ ان کے نمبر پر میسج بھی کیا گیا تاہم انہوں نے میسج کا جواب دیا نہ ہی فون اٹھانے کی زحمت گوارہ کی۔

Ba

مزید : پشاورصفحہ آخر