پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس،خورشید شاہ کا چھوٹے صوبوں میں لوڈشیڈنگ پر اظہار برہمی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس،خورشید شاہ کا چھوٹے صوبوں میں لوڈشیڈنگ پر اظہار ...

اسلام آباد (آئی این پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ نے چھوٹے صوبوں میں لوڈشیڈنگ دورانیے میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی پیداوار زیادہ ے طلب کم ہے، پھر بھی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، سب سے زیادہ بجلی کی چوری لاہور اور فیصل آباد میں ہوتی ہے، مگر بوجھ دوسرے صوبوں پر ڈال دیا جاتا ہے، بلوچستان میں بجلی دی ہی نہیں جاتی، آئین کے مطابق ملک کے تمام حصوں کو یکساں سہولیات فاہم کی جانی چاہئیں، کمیٹی نے وزارت توانائی نے ڈویژن سے تکنیکی اور بجلی چوری سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات طلب کرلیں، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ واپڈا یک جانب سے مہنگی بجلی خریدنے سے قومی خزانے کو 5ارب 47اکروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، کمیٹی نے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت کر دی، تحقیقاتی کمیٹی میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی ہوں گے، ایک ہفتے میں کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ طلب کرلی۔منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت کابینہ ڈویژن اور وزارت آبی وسائل کے مالی سال 2016-17کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باعث 19منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، وزارت کابینہ ڈویژن کے آڈٹ اعتراض میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ جاپان پاور جنریشن کمپنی نے واپڈا کے ساتھ معاہدہ کیا، نیپرا نے کمپنی کو لائسنس دیا، یہ منصوبہ فرنس آئل پر چلنا تھا اور 16سال کا لائسنس تھا، جاپان پاور جنریشن کمپنی نے واپڈا کو بجلی نہیں دی جس کی وجہ سے واپڈا نے مہنگی بجلی خریدی اس سے قومی خزانے کو 5 ارب 47کروڑ روپے کا نقصان ہوا، وزارت کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ جاپان پاور جنریشن کمپنی سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنا ٹیرف کم کریں، بجلی کی فی یونٹ قیمت 5روپے سے زائد مگر اس کو 4.3کر دیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے فورم کو میں گائیڈ کیا جا رہا ہے، نوید قمر وزیر رہ چکا ہے، اس میں غلطی ہوئی ایک وزیراعظم کو کابینہ کے ساتھ غلط بیانی پر ہٹا دیا گیا، اس منصوبے کی ناکامی کے ذمہ دار کون ہیں؟ واپڈا تباہ کرنے کیلئے سارا کام کیا گیا تھا۔ کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ جنرل(ر) ذوالفقار تھے، جس پر خورشید شاہ نے کہا کہ اس نقصان کو کون پورا کرے گا، آج کا چیئرمین کرے گا یا سیکرٹری کرے گا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ یہ کیس ثالثی میں چلا گیا ہے، ڈی اے سی میں ذمہ داروں کے حوالے سے نہیں بتایا گیا۔ کمیٹی چیئرمین نے پی اے سی سیکرٹریٹ کو تمام تحقیقاتی رپورٹس کمیٹی کے سامنے لانے کی ہدایت کر دی۔ خورشید شاہ نے پی اے سی سیکرٹریٹ کی بھی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کبھی آپ بھی تیار کر کے آئیں، اس سے پاکستان کی برآمدات کو بھی نقصان ہوا،بے روزگاری کا مسئلہ بھی پیدا ہوا، اس حوالے سے بتایا جائے۔ کمیٹی رکن نوید قمر نے کہا کہ وہ وجوہات بھی جاننے کی کوشش کریں کہ انہوں نے بجلی کیوں نہیں دی۔کابینہ ڈویژن کے جواب سے خورشید شاہ مطمئن نہیں ہوئے اور کہا کہ سچ بولو اس آڈٹ اعتراض پر ایک ہفتے میں آڈیٹر جنرل خود تحقیقات کرکے کمیٹی کو مفصل رپورٹ دے، آخر یہ فیصلے کس کے دباؤ میں ہوئے۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ کون پاور کمپنی میں مہنگا تیل استعمال کرنے،3ارب 40کروڑ 58لاکھ سے زائد نقصان ہوا، 3بلاک ہیں اور یہ گیس، ڈیزل اور فرنس آئل پر بھی چل سکتے ہیں، اگر اس کو فرنس آئل پر چلایا جاتا تو یہ نقصان نہ ہوتا۔ کمیٹی رکن نوید قمر نے کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ ہے لیکن فرنس آئل موجود تھا تو ڈیزل کیوں استعمال کیا گیا۔ وزارت کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ ہم نے ہائی سپیڈ ڈیزل استعمال نہیں کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ ان کے اپنے دستاویزات سے یہ آڈٹ اعتراض بنایا گیا ہے، مارچ کے مہینے میں 3کروڑ40لاکھ روپے کا ہائی سپیڈ ڈیزل استعمال کیا تھا، فروری میں 63ملین ہائی سپیڈ ڈیزل استعمال کیا، اپریل میں 83ملین گیس اور ہائی سپیڈ ڈیزل 15.9ملین کا استعمال کیا ہے، مئی میں 4ملین کا ڈیزل استعمال کیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ صرف 10فیصد ہائی سپیڈ ڈیزل استعمال کیا ہو گا،90فیصد دیگر ذرائع استعمال کئے گئے، جس پر آڈیٹر حکام نے کہا کہ فرنس آئل پر 8.1روپے فی یونٹ بجلی کی پیداوار قیمت اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر فی یونٹ 13روپے سے زائد قیمت رہی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ جہاں جس کی غلطی ہو گی اس کی نشاندہی کریں گے، کمیٹی نے آڈٹ اعتراض کو محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیج دیا، کمیٹی کو وزارت حکام نے آگاہ کیا کہ بجلی کی کم سے کم طلب 9ہزار میگاواٹ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ طلب 13ہزار اور پیداوار15ہزار میگاواٹ ہے۔

پی اے سی اجلاس

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر