”عمران کے گھر سے یہ چیز برآمد ہوئی تو پھر گرفتاری ہی باقی رہ گئی کیونکہ۔۔۔“ ملزم عمران کے گھر سے ایسی کیا چیز برآمد ہوئی جس سے اسے پہچاننے میں مدد ملی؟ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ہر پاکستانی دنگ رہ گیا

”عمران کے گھر سے یہ چیز برآمد ہوئی تو پھر گرفتاری ہی باقی رہ گئی کیونکہ۔۔۔“ ...
”عمران کے گھر سے یہ چیز برآمد ہوئی تو پھر گرفتاری ہی باقی رہ گئی کیونکہ۔۔۔“ ملزم عمران کے گھر سے ایسی کیا چیز برآمد ہوئی جس سے اسے پہچاننے میں مدد ملی؟ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ہر پاکستانی دنگ رہ گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قصور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معصوم زینب کے قاتل کی گرفتاری کیلئے کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز جاری کی گئیں، سینکڑوں افراد کے ڈی این اے کئے گئے لیکن کوئی چارہ نہ ہو سکا اور ملزم پھر بھی قانون کے شکنجے سے باہر رہا لیکن اللہ کی قدرت دیکھیں کہ جب مجرم نے قانون کی گرفت میں آنا ہو تو چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بڑی بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔17 سالہ چینی لڑکی آئی فون 8 کی خاطر کنوارہ پن بیچنے کیلئے ہوٹل پہنچی تو کمرے میں داخل ہوتے ہی چار مرد آ گئے، خطرہ دیکھ کر بھاگنے لگی تو مردوں نے پکڑ لیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر کوئی لرز اٹھا مگر حقیقت سامنے آئی تو سب عش عش کر اٹھے

ایسا ہی کچھ ملزم عمران کیساتھ بھی ہوا جسے پہلے بھی پکڑا گیا مگر پھر اسے چھوڑ دیا گیا جس کے بعد کسی کی توجہ اس کی طرف نہ ہوئی اور وہ حلیہ بدل کر وقت گزارتا رہا تاہم اب غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق ملزم عمران کی گرفتاری میں کوئی اور نہیں بلکہ اس کی جیکٹ کے دونوں کندھوں پر لگے ”بٹن“ اس میں معاون ثابت ہوئے۔

بی بی سی کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”14 دن تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد زینب سمیت آٹھ بچیوں کے ریپ اور قتل کے ملزم عمران علی کو لاہور کے قریب واقع شہر قصور سے گرفتار کیا گیا۔

مگر ایک سوال ہر ایک کے ذہن میں تھا کہ تصاویر کی موجودگی میں جہاں عمران علی بہروپ بدل کر ہر معاملے میں سامنے رہا آخر ایسا کیا ہوا جو نظر اس پر پڑی؟

اس واقعے کے تحقیقات کرنے پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کے پاس سی سی ٹی وی شواہد تھے جن میں ایک چہرہ تھا۔

مگر اس چہرے کی تلاش بھوسے کے ڈھیر میں سے سوئی تلاش کرنے کے مترادف تھا تو پولیس نے یہ تفتیش کیسے سرانجام دی؟ قصور کی آبادی 30لاکھ کے قریب ہے جس میں سے تحصیل یعنی شہر کی آبادی 7 سے 8 لاکھ کے قریب ہے۔ اس میں سے خواتین اور بزرگ نکالنے کے بعد 60 سے 70 ہزار کے قریب افراد تفتیش کے پہلے مرحلے میں شامل ہوئے۔

ان میں سے مختلف افراد کو جسمانی اور چہرے کے خدوخال کی بنیاد پر مزید چھان پھٹک کے عمل سے گزارا گیا۔جس کے بعد تفتیشی ٹیمیں روٹ پر نکلیں اور اس علاقے کے گھر گھر جا کر ان افراد کی حتمی فہرست بنائی گئی جن کا ڈے این اے کیا گیا جس دوران تقریباً 1100 افراد اس حتمی عمل سے گزرے جن کا ڈی این کیا گیا۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے اس مرحلے پر پاکستان فرانزکس سائنس ایجنسی کی جانب سے ایسے افراد کی فہرست سامنے آئی جن کے نتائج قاتل کے ڈی این کے قریب ترین تھے۔ان افراد کی فہرست سامنے آنے کے بعد پولیس نے چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔سہاگ رات پر پاکستانی دولہا کی ایسی شرمناک ترین حرکت کے دلہن کی موت ہو گئی، ایسی تفصیلات کے کوئی آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا

سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں ملزم عمران علی نے داڑھی رکھی ہے اور ایک زِپ والی جیکٹ پہن رکھی ہے جس کے دونوں کاندھوں پر دو بڑے بٹن لگے ہوئے ہیں۔مگر مسئلہ یہ تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں جیکٹ کا رنگ سفید نظر آرہا ہے جو اس کا حقیقی رنگ نہیں مگر یہ کوئی بھی گہرا رنگ ہو سکتا تھا۔

چھاپے کے دوران عمران علی کے گھر سے ایسی ہی ایک جیکٹ ملی جس کے دونوں بٹنوں کی مدد سے یہ پولیس ملزم کی گردن تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /قصور